بند کریں
اتوار مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پرویز مشرف کا ”بنکر بند زندگی“ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ
شجاعت اور پرویز مشرف کا مائنس نواز شریف فارمولا ڈاکٹر طاہر القادری کی علالت کے بعد چوہدری برادران نے ” ایک چلے ہوئے کرتوس“ پر تکیہ کر لیا
سالک مجید :
پرویز مشرف اور چوہدری برادران نے مشترکہ دور اقتدار میں بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں ان کی سیاست اس صورت میں چل سکتی ہے ۔ جب نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھا جائے۔ مائنس نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت معاہدے سے بڑی تکلیف ہوئی تھی۔ پہلے تو بے نظیر اور نواز شریف کو پاکستان واپس آنے سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اور کئی سال کامیاب بھی رہے لیکن ان کو مسلسل یہی خوف کھائے جاتا رہا ہے کہ جس دن نواز شریف واپس آگیا پاکستان کی سیاست ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی کیونکہ قاف لیگ تو ڈکٹیڑشپ کی پیداوار تھی اور بندوق کی نالی پر لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئی تھیں چنانچہ نواز شریف اور بے نظیر کااتحاد توڑنے کی سازش کی گئی اور بے نظیر بھٹو اورنواز شریف کے لے ڈوبنے والااین آراو تیار ہوا۔
وہ ڈکٹیٹرجو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بارے میں بڑے تکبر کے ساتھ کہتا تھا کہ وہ میری لاش پر گزر کر ہی پاکستان آسکتے ہیں وہ خود چل کر بے نظیر بھٹو سے ملاقات کرنے گیا اور پھر پہلے بے نظیر اور ان کے پیچھے پیچھے نواز شریف بھی عین اس وقت پاکستان واپس آگئے جب مشرف ابھی برسر اقتدار تھا لیکن اس کا اقتدار آخری ہچکو لے کھا رہا تھا کیونکہ پاکستان کے عوام اپنے مقبول لیڈروں بے نظیر اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور قاف لیگ کو اپنی شکست صاف نظر آنے لگی تھی۔
پہلے کارساز کراچی میں بے نظیر بھٹو کے قافلے پرخوفناک دہشت گرد حملہ اور پھر راولپنڈی میں ان کی شہادت نے سیاسی منظر نامہ یکسربدل ڈالا۔مشرف کی موجودگی میں 2008 کے الیکشن ہوئے تو عوام نے قاف لیگ کو عبرتناک شکست سے دو چار کر کے مشرف کو مسترد کر دیا۔کروڑوں عوم اور جمہوریت کے ہاتھوں ناک آوٴٹ ہونے والے مشرف کو استعفیٰ دے کر ایوان صدر خالی کرنا پڑا۔
چوہدری برادران بھی اس سے روٹھ گئے۔ بیرون ملک رہ کر مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر اپنی سیاسی جماعت بنالی اور 2013 کے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے وطن واپس آئے لیکن الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قرار پائے اور پھر سنگین غداری سمیت لال مسجد، بگٹی قتل کیس وغیرہ جیسے مقدمات کا سامنا کرنے لگے۔
سیاسی وتاریخی اعتبار سے مشرف کے لئے اس سے بڑی سزا اور اذیت اور کیا ہو سکتی ہے کہ نواز شریف آج پھر پاکستان کا وزیراعظم ہے ۔
وہی وزیراعظم جسے مشرف دور میں کال کوٹھڑی میں رکھا گیا، ٹارچر کیا گیا ہتھکڑی لگائی گئی ہائی جیکنگ کے کیس میں ہائی جیکر بنا کر سزا دلائی گی اور پھر سعودی عرب کی مداخلت پر جلا وطن کر دیا گیا۔ وہی نواز شریف جسے والد کے جنازے اور تدفین میں شرک کی اجازت نہیں دی گئی۔وہی نواز شریف جسے پاکستان واپسی کی کوشش کرنے پر واپس بھجوا دیا گیا۔
آج وہی نواز شریف پاکستان کے تیسری بار منتخب وزیراعظم ہیں جبکہ چوہدری برادران اقتدار سے باہر ہیں اور پرویز مشرف اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پرویز مشرف اپنے دور میں مخالفت کرنے والے ایکس سروس مین سوسائٹی کے ریٹائرڈ فوجیوں کو ”چلے ہوئے کارتوس“ کہہ کر مخاطب کرتے تھے آج خود مشرف کی حیثیت بھی ”ایک چلے ہوئے کار توس “ جیسی ہو چکی ہے لیکن اعلیٰ اخلاقی سیاسی روایات کے علمبر دار چوہدری برادران نے ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کی علالت کے بعد اپنے لیے ایک نئی سیاسی چھتری تلاش ک لی ہے اور وہ چھتری ایک چلا ہوا کارتوس۔
۔۔۔۔مشرف۔۔۔۔۔
چوہدری برادران ایک بار پھر متحریک اور سرگرم ہیں کہ مائنس نواز شریف ، مسلم لیگ دھڑوں کو متحد کرلیا جائے اس سلسلے میں پروز مشرف کی اے پی ایم ایل، پیر پگارا کی فنکشنل لیگ، شیخ رشید کی عوامی تحریک اور چوہدری برداران کی قاف لیگ کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحریک چلانے کی راہ اختیار کی جائے تاکہ عمران خان نے جو دباء حکومت پر ڈال رکھا ہے اسے مزید بڑھایا جا سکے۔
وسیع تر مسلم لگی اتحاد میں نواز شریف سے ناراض نون لیگیوں جن میں سردار ذوالفقار کھوسہ،غوث علی شاہ، لیاقت جتوئی، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم وغیرہ کو شامل کر کے ہیوی ویٹ ظاہر کرنا مقصود ہے۔
چوہدری برادران نے بظاہر کراچی کا تعزیتی دورہ کیا جس میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، حسین ہارون، بوستان ہوتی اور دیگر شخصیات سے ان کے گھروں میں ہونے والی فوتگیوں کے حوالے سے تعزیت کی گئی اور ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کا موقع بھی بن گیا۔
پیپلز پارٹی کے قاف لیگ کے ساتھ رابطے جو آصف علی زرداری نے شروع کیے وہ ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی یہ رابطے برقرار رہیں گے دراصل مارچ میں سینیٹ سے الیکشن میں اکثر سیاستدانوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں اس سے قبل وہ سیاسی رابطے تیز کر کے من پسند نتائج کے حصول کے لئے لابنگ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف پرویز مشرف بھی دوبارہ سیاسی طورپر سرگرم ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں انہوں نے اپنی پارٹی اے پی ایم ایل کی سندھ کی سطح پر تنظیم نو بھی کی ہے اور خود بھی ”ینکربند لائف“ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اب وہ مختلف پروگراموں اور تقریبات سے آن لائن خطاب کرنے کے ساتھ ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلز میں تقریبات میں خطاب کی دعوتیں بھی قبول کر نے لگے ہیں۔
اس سلسلے کا آغاز انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کی تقریب سے کراچی کے ایک ہوٹل میں سخت سکیورٹی انتظامات کر کے کر دیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور پھر کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں کا بھی وہ رخ کریں گے۔ ان کا اصل ہدف نواز شریف حکومت کا جلد از جلد خاتمہ اور نگران حکومت کا قیام ہے جس کے ذریعے وہ نئی اصلاحات متعارف کرانا اور ٹوپورٹی سسٹم کی بجائے تھرڈ پولیٹیکل فورس کو آگے لانے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-25

(0) ووٹ وصول ہوئے