بند کریں
اتوار مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیپلز پارٹی سینٹ میں اکثریتی جماعت بن گئی
سینیٹ کی52 میں سے 48نشستوں انتخابات مکمل ہو گئے ہیں فاٹا کے ارکان کا انتخاب صدارتی حکم کے ذریعے انتخابی طریقہ کار تبدیل ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں سینیٹرز منتخب کئے گئے
نواز رضا:
سینیٹ کی52 میں سے 48نشستوں انتخابات مکمل ہو گئے ہیں فاٹا کے ارکان کا انتخاب صدارتی حکم کے ذریعے انتخابی طریقہ کار تبدیل ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں سینیٹرز منتخب کئے گئے اسلام آباد ،پنجاب اور سندھ میں کوئی ”اپ سیٹ “ نہیں ہوا البتہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ”چمک“ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئی بلوچستان میں ایک آزاد امیدوار کے سوا تمام امیدوار سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی قوت کے مطابق منتخب ہوئے جب کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی پارلیمانی قوت کے مطابق ایک نشست بھی نہ ملنے کا امکان تھا لیکن وہ ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جب کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) بہتر حکمت عملی سے خیبر پختونخوا میں دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی بلو چستان میں جہاں ”چمک“ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ایک نشست چھین لی وہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر انتشار کا شکار ہونے کے باعث مطلوبہ تعداد میں نشتیں حاصل نہ کر سکی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ نے کلین سویپ کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرنے دی موجودہ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے40ارکان جن میں سے 21 ارکان ریٹائر ہو گئے اب پاکستا ن پیپلز پارٹی نے8نشستیں حاصل کر کے ایوان بالا میں 27ارکان کے ساتھ اکثریتی جماعت بن گئی ہے لیکن اس کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایوان بالا میں 16ارکان کے ساتھ موجو تھی 8ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے سینیٹ انتخابات میں 18 نشستیں حاصل کر لی ہیں اب ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ(ن) 26ارکان کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان صرف ایک نشست کا فرق ہے ایم کیو ایم کے پاس سینیٹ میں 7ارکان تھے جن میں تین ریٹائر ہوگئے لیکن ایم کیو ایم نے انتخابات میں 4نشستیں حاصل کر کے سینیٹ میں 8نشستیں کر لی ہیں۔
تحریک انصاف سینیٹ میں 6نشستیں حاصل کر سکی ہے عوامی نیشنل پارٹی جو کہ ایوان بالا میں 12ارکان کے ساتھ بیٹھی تھی اس کے 12ارکان ریٹائر ہوگئے عوامی نیشنل پارٹی ایک ہی نشست حاصل کر سکی اس طرح اب عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد 7رہ گئی ہے جمعیعت علماء اسلام (ن)کے ارکان کی تعداد 6تھی جن میں سے 3ریٹائر ہو گئے جمعیت علما ء اسلام (ف) کے 2 ارکان ہی ایوان بال میں واپس آئے ہیں پاکستان مسلم لیگ(ق) کے ارکان کی تعداد5تھی اس کے ایک رکن چوہدری شجاعت کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تعداد 4رہ گئی ہے خیبر پختونخواہ میں ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی 3،3 نشستیں جیت کر ایوان میں آگئی ہیں جب کہ ایوان بالامیں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں سینیٹ میں بی این عوامی کے2،پاکستان مسلم لیگ(فنکشنل) اور بی این پی (مینگل) کا ایک ایک رکن ہے جب کہ اس وقت ایوان بالا میں 6آزاد ارکان ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریں چیئرمین سینیٹ کی نشست پر لگی ہیں انہوں نے مفاہمت کے نام پر وزیر اعظم محمد نواز شریف سے چئیرمین سینٹ اور پنجاب سے ایک نشست کی فرمائش کی تھی لیکن وزیر اعظم نے انہیں چیئرمین شپ اور پنجاب سے ایک نشست دینے سے انکار کر دیا پا کستان مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین منتخب کرانا چاہتی ہے لہذا 12مارچ 2015ء کو سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیاں سخت مقابلہ ہو گا دونوں کے پاس ” فیصلہ کن “ اکثریت نہیں انہیں چھوٹے پارلیمانی گروپوں کا تعاون حاصل کرنا ہو گا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق چیئرمین کے منصب کے لئے موزوں ترین امیدوار ہیں۔
تحریک انصاف 6نشستوں کے ساتھ ایوان بالا میں پہنچی ہے تحریک انصاف پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دے گی تاہم وہ مسلم لیگ(ن) سے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر سودے بازی کر سکتی ہے بہر حال تحریک انصاف کا فیصلہ بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہو گا ۔پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ(ن) سویپ کر گئی ہے جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے نشستیں تقسیم کر لی ہیں اپوزیشن ایک نشست بھی حاصل نہیں کر سکی خیبرپختونخوا میں منقسم مینڈیٹ ملا بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) لیگ کے مرکزی نائب صدر سردار یعقوب ناصر ہار کی شکست سے مسلم لیگ (ن) کو بڑا اپ سیٹ ہوا ، بلوچستان کے ایک بڑے کنٹریکٹر یوسف بادینی نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرلی ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف 6، جب کہ دیگر نشستیں مسلم لیگ(ن) ،جماعت اسلامی ،پیپلز پارٹی ،جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پیپلز پارٹی نے حاصل کیں سندھ میں مسلم لیگ( فنکشنل) اور اس کے ساتھ شامل دیگر جماعتیں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم نہ دے سکیں۔
بلوچستان سے مسلم لیگ(ن) اور دونوں اتحادی جماعتوں نیشنل پارٹی اور پی کے ایم پی نے مل کر مجموعی طور پر 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی فاٹا کی 4 نشستوں کا انتخاب صدارتی حکم کے اجراء کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہونے کے باعث ر الیکشن کمیشن نے انتخاب غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ اسلام آباد کی دونوں نشستیں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں ظفر اقبال جھگڑا اور راحیلہ مگسی نے واضح اکثریت سے جیت لیں۔
پنجاب میں ندیم افضل چن کامیاب نہ ہو سکے جنرل نشستوں سے مشاہد اللہ خان ، پرویز رشید ، چوہدری تنویر ، سلیم ضیاء ، جنرل (ر) عبدالقیوم ، غوث بخش نیازی اور نہال ہاشمی ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر راجہ ظفر الحق اور پروفیسر ساجد میر جبکہ خواتین کی نشستوں پر نجمہ حمید اور عائشہ رضا کامیاب ہوئیں۔ سندھ سے خواتین کی دو نشستوں پر متحدہ کی نگہت مرزااور پی پی پی کی سسی پلیجو اور ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر متحدہ کے بیرسٹر محمد علی سیف اور پی پی پی کے فاروق ایچ نائیک بلا مقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔
7 جنرل نشستوں پر ہونیوالے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے رحمن ملک ، عبدالطیف انصاری ، سلام الدین شیخ ، سلیم مانڈوی والا ، گیان چند جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے میاں عتیق اور خوش بخت شجاعت منتخب ہوئیں۔ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سردار ثناء اللہ زہری کے بھائی نعمت اللہ زہری شہباز درانی اور کلثوم پروین ، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو ، میر کبیر احمد اور اشوک کمار جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمد عثمان ، سردار محمد اعظم اور گل بشریٰ جبکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور آزاد یوسف بادینی کامیاب ہوئے۔
خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پولنگ کے ایشوز پر ہونیوالے تنازعہ کی وجہ سے پولنگ کئی گھنٹے تک معطل رہی جس پر الیکشن کمیشن نے پولنگ کے اوقات رات 8 بجے تک بڑھا دیئے تھے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے نتائج د رات 2بجے مرتب ہو سکے بیلٹ بکس سے 6سادہ کاغذ میں ووٹ ملے اس سے ثابت ہو گیا کہ 6ووٹ باہر گئے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں مجموعی طور پر 335ووٹ ڈالے گئے ہوئے مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی طرف سے 315ووٹ جبکہ پیپلزپارٹی اور اتحادیوں کی جانب سے 20ووٹ ڈالے گئے۔۔ سندھ اسمبلی میں سینٹ کے سات ارکان منتخب کرنے کے لئے 167 میں سے 163 اراکین نے ووٹ ڈالا۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے 22 ارکان ہونے کے باوجود صرف 2 جنرل نشستیں اور ایک خاتون کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
دونوں جنرل نشستوں پر جیتنے والے امیدوار سردار ثناء اللہ زہری کے قریبی عزیز ہیں جبکہ بی این پی عوامی سے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والی کلثوم پروین خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب ہو ئیں اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفاداری نبھانے والے سردار یعقوب خان ناصر آزاد امیدوار یوسف بادینی سے ہار گئے۔ یوسف بادینی کو 20 ارکان نے ووٹ دئیے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-09

(0) ووٹ وصول ہوئے