بند کریں
منگل مئی

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وفاق سے کشیدگی۔۔پی پی نے سندھ کارڈ لہرا دیا
کراچی میں ایک بار پھر سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان رینجرز کے خصوصی اختیارات کی آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہے۔ یہ فلم ہر تین ماہ کے بعد چھوٹی اسکرین پر شروع ہو جاتی ہے اور ہر بار کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر ختم ہو جاتی ہے۔ اب ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے دلیر رہنماء آصف علی زرداری نے نہ صرف حکمرانوں کو یہ اصول یاد دلایا ہے
شہزاد چغتائی:
کراچی میں ایک بار پھر سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان رینجرز کے خصوصی اختیارات کی آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہے۔ یہ فلم ہر تین ماہ کے بعد چھوٹی اسکرین پر شروع ہو جاتی ہے اور ہر بار کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر ختم ہو جاتی ہے۔ اب ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے دلیر رہنماء آصف علی زرداری نے نہ صرف حکمرانوں کو یہ اصول یاد دلایا ہے بلکہ جیب سے سندھ کارڈ نکال کر ہارڈ لائنز مراد علی شاہ کو تھما دیا ہے جو کہ ضرورت پڑنے پر جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہیں کبھی وہ ملک کی گیس بند کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور بعض اوقات جذبات میں آ کر سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفاتر پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی خوفناک دھمکیاں دیتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو مسلم لیگ کو چیلنج دیا کرتے تھے اب آصف علی زرداری خود میدان میں آ گئے اور جارحانہ سیاست کا علم اٹھا لیا ہے وہ کسی سے خوفزدہ ہیں نہ اپنے تین ساتھیوں کے لاپتہ ہونے پر پریشان ہیں کیونکہ وہ پیپلز پارٹی کو مظلوم بنانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس قدر پیپلز پارٹی کے لوگوں کی گرفتاریاں ہوں گی‘ پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا اور اس کا ووٹ بنک بڑھے گا اس لئے وہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر الیکشن میں جانا چاہتے ہیں۔
زرداری صاحب اس قدر آگے چلے گئے ہیں کہ اپنی گرفتاری کے بھی منتظر ہیں۔ وقت کے ساتھ پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے 23 اپریل سے سندھ بھر میں دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ 30 اپریل کو ڈویڑنل سطح پر اور 14 مئی کو ممکنہ طور پر کراچی میں مرکزی دھرنا ہو گا۔
اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کی کامیابیاں بہت زیادہ ہیں وہ جو کچھ کھوتی ہے اس سے زیادہ حاصل کر لیتی ہے۔
ملک کی سب سے اعلیٰ ترین شخصیت نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان مفاہمت کی سیاست کی نفی کر دی لیکن سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کے بری ہونے کے خلاف حکومت نے پیپلز پارٹی کو یقین دلایا کہ وہ ان کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سرکاری وکیل نے کیس کی مزید پیروی نہیں کی۔
سابق صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن دندناتے ہوئے مسلم لیگ کے گڑھ میں اترے ایان علی بیرون ملک پرواز کر گئیں،اربوں روپے کی مبینہ کرپشن میں ملوث ڈاکٹر عاطم کی ضمانت ہو گئی اور پھر بیرون ملک جانے کی بھی ’مشروط‘ اجازت مل گئی اور پیپلز پارٹی کی واہ واہ ہو گئی۔ شرجیل میمن کو سونے کا تاج پہنایا گیا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری ہے اور کوئی پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی کھڑا ہے۔
ڈاکٹر عاصم پر 462 ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا ان کی 70 لاکھ میں ضمانت ہو گئی بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ اب عذیر بلوچ کا تعلق پیپلز پارٹی سے جوڑا جا رہا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ لیکن آصف علی زرداری بہت پراعتماد دکھائی دیتے ہیں وہ اپنے قریبی تین ساتھیوں کی گمشدگی پر غمزہ دکھائی نہیں دیتے۔
جو تین شخصیات لاپتہ ہوئی ہیں ان کے گھر والے بھی زیادہ پریشان نہیں ہیں۔ کراچی کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر سودے بازی کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے بل کی منظوری کے موقع پر پیپلز پارٹی نے اپنے مطالبات منوا لئے تھے۔ اس سے قبل ایک بار رینجرز کے خصوصی اختیارات میں تاخیر کر کے پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کو رینجرز کے آپریشن سے بچا لیا تھا۔
اب پھر پیپلز پارٹی پرانے کھیل پر آمادہ ہے رینجرز کو اب تک صرف کراچی میں خصوصی اختیارات حاصل تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر تین ماہ کے بعد رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر کشمکش شروع ہو جاتی ہے‘ 16 جنوری 2017ء کو بھی وزیراعلیٰ سندھ نے بہت تاخیر کے بعد رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی تھی۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان رابطے ختم ہو گئے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم نوازشریف کے درمیان مدتوں سے بات چیت نہیں ہوئی، آصف علی زرداری اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وزیراعظم پاور انجوائے کر رہے ہیں وہ جب مشکل میں ہوتے ہیں تب رابطے کرتے ہیں۔
وفاق کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کر کے پیپلز پارٹی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی‘ فنکشنل لیگ سمیت سیاسی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کا سندھ کارڈ مسترد کر دیا‘ قوم پرست جماعتوں نے بھی پی پی پی کے سیاسی اسکرپٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے دھمکی آمیز رویے کو مسترد کر دیا۔
سیاسی حلقوں نے کہا ہے کہ عذیر بلوچ کے میڈیا ٹرائل کو روکنے اور صدر کے تین ساتھیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے نئی مہم جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قوم پرستی کا فنکشنل لیگ کے صدر پیر صاحب پگارو نے بھی نوٹس لیا اور ہدایت کی ہے کہ فنکشنل لیگ کے ارکان صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جذبات میں آ کر سندھ کارڈ کا حصہ نہ بنیں کیونکہ ان کی جماعت فیڈریشن کو کمزور کرنے کے کسی پلان کا حصہ نہیں بنے گی۔
اپوزیشن کی جماعتوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے وفاق کی گیس بند کرنے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفاتر پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کے اعلانات نامناسب ہیں اور سابق صدر کے دوست کے بجلی گھر کیلئے گیس کنکشن حاصل کرنے کا بھونڈا طریقہ ہے وزیراعلیٰ سندھ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سندھ کے عوام کے جذبات بھڑکائیں۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ قوم پرست وزیراعلیٰ نے وفاق پر زبانی حملہ کیا ہے اس سے قبل انہوں نے نیب اور ایف آئی اے کو سندھ سے نکالنے کی دھمکی دی تھی ۔
وزیراعلیٰ سندھ سلطان راہی نہ بنیں‘ عہدے کے تقدس کا لحاظ کریں۔ ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے سندھ کارڈ کو افسوسناک قرار دیا۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہاکہ سندھ 60 فیصد گیس دیتا ہے تو کراچی 70 فیصد ریونیو دیتا ہے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کو سخت جواب دینے کیلئے وزیراعظم محمد نوازشریف جیکب آباد پہنچ گئے جہاں بڑے جلسے سے خطاب کیا اور پیپلز پارٹی پر برس پڑے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پیپلز پارٹی سندھ میں کام کرتی تو ان کو یہاں آنا نہ پڑتا، نوازشریف نے کہاکہ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کو مایوس نہ کرتی تو وہ اتنی بڑی تعداد میں جلسے میں نہ آتے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں لوگ پینے کے پانی،سڑکوں، تعلیم، روزگار، اسپتالوں کو ترس رہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج جیکب آباد 100 سال پہلے والا جیکب آباد ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنی تقریر میں بار بار مسلم لیگ (ن) سندھ کے سیکرٹری اطلاعات اسلم ابڑو کا ذکر کیا انہوں نے پیپلز پارٹی کو باور کرا دیا کہ آئندہ الیکشن میں خوش کن اور کھوکھلے نعروں پر ووٹ نہیں ملیں گے۔
کراچی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم جب بھی آتے ہیں ملک کو امن و امان دیتے ہیں اس بار کراچی کو امن تو دیا لیکن کراچی کچرے اور دھول کا شہر بنا ہوا ہے ،سڑکوں، سیوریج کا برا حال ہے، ہم نے سندھ میں بھی ڈاکو راج ختم کیا اب رات کو 2 بجے بھی سندھ میں سفر کر سکتے ہیں۔ ٹھٹھہ اور حیدر آباد کے بعد وزیراعظم نے جیکب آ باد کو بھی مالا مال کر دیا اور خزانے کے منہ کھول دئیے اور جیکب آباد کیلئے 100 کروڑ روپے کا اعلان کر دیا انہوں نے خواتین کے ووکیشنل سینٹر‘ بجلی کے 100 ٹرانسفارمرز اور نئی گیس لائنیں بچھانے کی نوید بھی سنا دی۔
وزیراعظم نوازشریف نے جلسہ عام میں سابق وفاقی وزیر الٰہی بخش سومرو کی شرکت کا خیرمقدم کیا ااور کہاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر جیکب آباد کی خدمت کریں گے انہوں نے انکشاف کیا کہ الٰہی بخش سومرو 92 سال کے ہیں اور اس عمر میں ہمارے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نے جیکب آبادکے عوام کو آگاہ کیا کہ وہ خالی ہاتھ نہیں آئے جیبیں بھر کر لائے ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے جیکب آباد کیلئے 100 کروڑ روپے کے اعلان کے بعد متنازعہ صورتحال پیدا ہو گئی اور یہ سوال اْٹھایا گیا کہ 100 کروڑ روپے کون خرچ کرے گا۔ وزیراعظم نے 100 کروڑ روپے پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کو دینے سے انکار کر دیا اور کہاکہ وہ یہ بات بعد میں طے کریں گے کہ 100 کروڑ روپے کون خرچ کرے گا؟
تاریخ اشاعت: 2017-04-21

(0) ووٹ وصول ہوئے