بند کریں
پیر مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیپلزپارٹی کے خلاف ایک اور چارج شیٹ؟
ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے بیان کا حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی نے سخت نوٹس لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے سامنے شکایت کا دفتر کھول دیا
شہزاد چغتائی:
کورکمانڈرکے بعد ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ بلال اکبر کی چشم کش رپورٹ سے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا اور 230 ارب کی غیرقانونی رقوم کی تقسیم کے الزامات نے معاشرتی سطح پر سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں اعتزاز احسن اور صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے ڈی جی رینجرز سندھ کی رپورٹ یہ کہہ کرمسترد کردی ہے کہ رضوان اختر کی رپورٹ پیپلز پارٹی کے خلاف چارج شیٹ نہیں تاہم سیاسی حلقے اس رپورٹ کو چارج شیٹ ہی قرار دے رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے الزامات کی تحقیقات کیلئے ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے۔ اس کے رہنما اعتزاز احسن 230 ارب روپے کے سنگین الزام اورگینگ وار میں اعلیٰ شخصیات کے کردارکو اعدادوشمار کی تقسیم کے گورکھ دھندہ میں الجھا رہے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی سامنے آچکی ہے کہ منی لانڈرنگ‘ بنک ڈکیتیوں‘ سرکاری فنڈز کا خورد برد اوربھتہ کی رقم دہشت گردی میں استعمال ہوتی چلی آرہی ہے۔
بالآخر کراچی میں پانی سے سر اونچا ہوجانے پر وزیراعظم نے بھی نوٹس لیا ہے اورکراچی آمد کے فوراً بعد سیاسی اور غیرسیاسی مافیاز کے بلا امتیازخاتمہ کااعلان کر دیا ہے۔ کراچی میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ 230 ارب روپے وصول کرنے والی شخصیات کون ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے باغی رہنما امیر بخش بھٹو نے صوبائی حکمرانوں کا استعفیٰ مانگ لیا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے سارا ملبہ سابق صدر پرویز مشرف پر ڈال دیا اوریہ تاثر دیا کہ اس نوعیت کی کرپشن فوجی دور میں عروج پر پہنچی۔ جس کے جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ 7 سال سے پیپلز پارٹی برسراقتدارہے اور معاشرے کو پیپلز پارٹی نے اس حال کو پہنچایا ہے۔وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان رینجرزکی پشت پر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرز نے 230 ارب کے بارے میں قانون سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی۔
سیاسی حلقوں کے مطابق رینجرز چوہدری نثارکی جانب دیکھ رہی ہے جن پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم سے ریلیف حاصل کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ اس طرح ایک واضح تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ کراچی میں یہ چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کراچی میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتے۔
وہ 13 مئی کو سانحہ صفورا گوٹھ کے بعد ہونے و الے اجلاس میں بھی شریک نہیں تھے ان کے اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی گردش میں رہی ہیں جن کی کراچی کے گورنر ہاوٴس میں چوہدری نثار علی خان نے تردید کی اورکہا کہ وہ انسان ہیں اور بیمار بھی ہوسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ رینجرز نے بغیرثبوت کے الزامات لگائے ہیں اورانہوں نے وضاحت کی کہ فش ہاربر اورپورٹ قاسم سے کروڑوں روپے بھتہ وصول نہیں کیاجارہا۔
وزیراعلیٰ نے الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن کی تشکیل کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل کی ابھی دھمکی دی تھی کہ اس دوران پیپلز پارٹی کے شریک آصف علی زرداری کھل کے میدان میں آگئے اورانہوں نے مفاہمت کی سیاست ترک کرکے واضح پیغام دیدیا کہ وہ صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ کردار کشی بند نہ کی گئی تو اینٹ سے اینٹ بجادیں گے کیونکہ ہمیں جنگ کرنا آتی ہے آصف علی زرداری کی جانب سے ملک بند کرنے کی دھمکی کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔
سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری کا حالیہ بیان غیرجذباتی اور نپا تلا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ ان کی پشت پر کھڑی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم اور مسلم لیگ کے درمیان غیراعلانیہ اتحاد ہے‘ مرکز میں اے این پی‘ مسلم لیگ(ق)‘ پیپلز پارٹی (شیر پاوٴ)‘ جمعیت علماء اسلام اور دوسری سیاسی جماعتیں آصف علی زرداری کے ساتھ ہیں۔
تجزیہ نگاروں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کی جانب سے رینجرز کے بیان پر رد عمل مناسب نہیں، کیونکہ حکومت نے طے کر رکھا ہے جہاں کرپشن ہوگی کارروائی بھی ہو گی۔ جب کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے مقامی ہوٹل میں ڈی جی رینجرز سے ملتے جلتے ریمارکس دیئے تھے تو اس وقت بھی سیاستدان خاموش نہ رہے تھے اورپیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ہم جادو کی چھڑی سے ڈرنے والے نہیں گورنر راج لگانا آسان نہیں۔
حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورت حال میں سیاسی جماعتوں نے اگرچہ ڈی جی رینجرز کے الزامات کو مسترد کردیا ہے لیکن غیر سیاسی حلقوں نے اعتراف کیا ہے کہ بلال اکبر کی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے اور لوٹ مار کی رقم 100 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔لوٹ مار کی رقم میں سرکاری دفاتر میں ہونے والے خوردبرد کی رقم شامل نہیں ہے جبکہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے بھتہ کا ذکرنہیں ہے۔
پیپلز پارٹی کی (ش ب) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا کہ رینجرز کے سربراہ نے صرف سیاستدانوں کی آمدنی کا ذکر کیا ہے۔ حقائق اس سے زیادہ ہولناک ہیں یہ حلقے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی اس رائے سے متفق ہیں کہ مالیاتی جرائم کے خاتمہ سے امن قائم ہوگا۔ کیونکہ بھتہ خوری جرائم کی ماں بن چکی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے بیان کا حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی نے سخت نوٹس لیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے سامنے شکایت کا دفتر کھول دیا اور وزیراعظم کو اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا پیغام پہنچا دیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ تصادم کی سیاست سے گریز کیاجائے وزیراعلیٰ سندھ نے یہ گلہ بھی کیا کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ اہم شخصیات کی 230 ارب کی ناجائز آمدنی کے بارے میں رپورٹ ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے ایپکس کمیٹی میں پیش کی تھی جس پر اپیکس کمیٹی میں بحث و مباحثہ بھی ہوا تھا۔
بعد میں رینجرز نے اس ضمن میں جو پریس ریلیز جاری کیا وہ موضوع بحث بنا رہا۔ صوبائی حکومت کے ذرائع نے موقف اختیار کیا کہ رینجرز کو اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی جاری کرنے کا کوئی حق نہیں تھا جبکہ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پریس ریلیز عسکری اورسوال اعلیٰ حکام کی اجازت سے جاری کیا گیا۔ جس کا مقصد عوام کو اعتماد میں لینا اورشہریوں کو یہ بتانا تھا کہ کراچی میں کیا ہورہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں یہ باتیں کئی ماہ سے ہورہی تھیں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں باتیں کہہ چکے تھے اورانہوں نے انتظامی خلا کی نشاندہی کردی تھی۔ باخبر حلقوں کے مطابق تاخیر سے وزیراعظم محمد نواز شریف نے بااثر شخصیات پر ہاتھ ڈالنے کی منظوری دیدی ہے لیکن نئے آپریشن کے دوسرے مرحلہ کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں 13مئی کو سانحہ صفورا گوٹھ کے بعد معاملات پس منظر میں چلے گئے تھے۔
اب بھی معاملات الجھے ہوئے ہیں شاید گرفتاریاں 25جون کوشروع ہوں اوریہ عمل نچلی سطح پر محدود رہے مشکل یہ ہے کہ بڑی مچھلیوں پرہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں مل رہی حکومت سندھ کے بجٹ کے بعد پیپلز پارٹی کی مشکلات بڑھ گئیں اور نئی کشمکش شروع ہو گئی جوکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر چھاپے کے بعد سامنے آئی۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شروع سے کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا حصہ تھی لیکن بعد میں اس پر صوبائی حکومت نے قبضہ کرلیا تھااور اس کا نام سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی رکھ دیا گیا تھا۔
یہ ادارہ سونے کی چڑیا کہلاتا ہے یہاں کرپشن کی بے شمار کہانیاں ہیں۔ چھاپے کے بعد یہ افواہیں اڑتی رہیں کہ 50ارب روپے کا اسکینڈل پکڑا گیا ہے اورقبضہ کی زمینوں پر کثیرا لمنزلہ عمارتیں بنائی گئی ہیں۔ اس کاروبار میں اعلیٰ سیاسی اورسرکاری شخصیات ملوث ہیں۔چنانچہ رینجرز نے قائمقام ڈائریکٹرجنرل ممتاز حیدر کے دفاتر سے اہم فائلوں سمیت بہت سارا ریکارڈ تحویل میں لے لیا ہے اور متعددافسران بھی اب تک گرفتار کئے جا چکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-20

(1) ووٹ وصول ہوئے