بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیپلز پارٹی کےکارکن بددلی کاشکار
بلاول بھٹو زرداری کادورئہ لاہور ایک بار پھر ملتوی بعض سیاستدان اسے فرینڈلی اپوزیشن کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں
ساجد یزدانی:
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اپنے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے طویل انتظام کے بعد بالآخر پنجاب کے دورہ کو حتمی شکل دی گئی ۔ امید کی جارہی تھی کہ شاید وہ گزشتہ جمعرات یا جمعہ کو لاہور پہنچ جائیں گے۔ چیئر مین پی پی پی کے مجوزہ دورے میں ان کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری کی آمد کی بھی اطلاعات سامنے آئیں جہاں دونوں رہنماؤں نے تین سے چار ہفتے بلاول ہاؤس میں گزارنے تھے اور اس حوالے سے گزشتہ ہفتہ کو وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ بلاول بھٹو اپریل کے آخری ہفتے میں لاہور پہنچیں گے جہاں انکی آمد پر ناقابل فراموش استقبال کیا جائے گا جبکہ انہوں نے پارٹی عہدیداروں پر مشتمل چار کمیٹیوں کو بھی بلاول ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کے استقبالیہ کیلئے انتظامات کرنے کیلئے ذمہ داری بھی سونپی لیکن بقول شاعر ”مگر یہ ہونا سکا“ اور اب اطلاعات ہیں کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بلاول بھٹوکادورہ ایک دفعہ پھر منسوخ کردیا گیا جس کی وجہ سے پارٹی کارکنان میں شدید بددلی پھیل گئی ہے اور استقبال کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔
بعض لوگ اسے حکومت کے ساتھ زرداری فیملی کی بڑھتی ہوئی قربت کو قرار دے رہیں ہیں وہ یہاں رہ کر میاں صاحبان کیلئے کسی قسم کی پریشانی کا سبب بننا نہیں چاہتے۔
پی پی پی کو لاہور میں متحرک و فعات بنانے کیلئے یوں تو زرداری صاحب نے لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں دو کنال کا ایک شاندار گھر خرید لیا ہے جسے اب پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹریٹ کی حیثیت میں استعمال کیا جارہا ہے۔
یہ گھ بلاول بھٹو، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کے نام کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا پرانا دفتر جو فیصل ٹاؤن میں تھا، اب پیپلز پارٹی کے بقیہ سات ونگز کے زیر استعمال رہے گا۔ پیپلز پارٹی نے ماڈل ٹاؤن ہی میں کرائے پر دفتر بھی حاصل کیا تھا لیکن عرصہ تک اس کا کرایہ بھی ادا نہ کیا جاسکا۔ مجبوراََ مالکان کو انہیں یہ جگہ کالیکرنے کا نوٹس بھی جاری کرنا پڑا۔
فیصل ٹاؤن والے دفتر کا تو یہ حال تھا کہ وہاں ملازمین کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں بھی نہ دی جاسکی تھیں۔ حیرت ہے کہ پارٹی میں نزرگوندل ، قمر زمان کائرہ، منظور وٹو، چودھری احمد مختار وغیرہ ایسے دولت مند سیاستدانون کی موجودگی میں یہ حالات پیدا ہوئے۔ ان سب نے پیپلز پارٹی کی حکومت سے فائدے اٹھائے لیکن جب پارٹی کو فائدہ پہنچانے کا وقت آیا تو ایک دسے کی بغلیں جھانکنے لگے۔
یہ دگرگوں صورتحال جناب آصف زرداری کے نوٹس میں لائیں گئی تو نئے ماڈل ٹاؤنی گھر کی خریداری عمل میں آئی۔ کہا جارہا ہے کہ نئے دفتر کی خریداری میں جہان آصف زرداری صاحب نے اپنی جیب سے ادائیگی کی ہے وہیں پارٹی کے بعض متمول حضرات کی اعانت بھی حاصل کی گئی ہے۔
منظور وٹو صاحب نے کراچی میں بلاول بھٹو سے ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ لاہور آئیں گے تو ان کا فقیدالمثال استقبال کیا جائے گا۔
بلاول صاحب کا قیام لاہور کے باہر ایک جدید بستی میں ہوگا جہاں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہیں۔ بلاول بھٹو کو طالبان کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے احتیاط برتی چاہیے۔ فواد چودھری کی ایڈوائزری کم کام آئیگی؟ انہیں اپنے رہنما کو قیمتی مشوروں ے نوازتے رہنا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی تربیت اور انہیں میڈیا فرینڈلی بنانے کیلئے شیری رحمن صاحبہ ایسے تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہے جو کود بھی صحافت میں رہے اور جو وزارت اطلاعات کو بھی چلاتے رہے۔
اگر چہ گزشتہ حکومت میں جناب زرداری نے شیری رحمن کے ساتھ بطور وزیر اطلاعات مناسب سلوک کیا نہ انہیں جم کر کام کرنے دیا لیکن یہ خبر خوش کن اور اطمینان بخش ہے کہ محترمہ شیری رحمن نے اگرچہ سندھ حکومت میں میڈیا ایڈوائزر بننے اور سرکاری مراعات لینے سے انکار کردیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کی ہامی بھر لی ہے کہ وہ بلاول بھٹو صاحب کی انٹرنیشنل میڈیا میں امیج بلڈنگ کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتی رہیں گی۔
شیری رحمن صاحبہ بلاشبہ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کی قیادت سازی میں غیر معمولی کردار ادا کرستی ہیں۔ خدانے انہیں اس حوالے سے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔
بڑے بھٹو صاحب کے بڑے نواسہ صاحب پنجاب کے دل میں آنے کے مشتاق ہیں لیکن لاہور اب خاصا بدل چکا ہے۔ یہ شہر وہ نہیں رہا جو کبھی بلاول بھٹو صاحب کے نانا جان اور والدہ صاحبہ کیلئے دیدہ ودل فرش راہ کیا کرتا تھا۔
اب یہ بدلا ہوا شہر نون لیگ اور پی ٹی آئی میں منقسم ہو چکا ہے اور پیپلز پارٹی کو یہاں سے دیس نکالا مل چکا ہے۔ تازہ حالات میں جنہوں نے اس شہ رگ کی خدمت کی، اب یہ شہر اور اس کے ووٹران کی خدمت کررہے ہین لیکن اس کے باوصف لاوہر شہر کا کوئی نہ کوئی ”حصہ‘ بلاول بھٹو کا منتظر ہے۔ اگر بلاول صاحب اس ”حصے“ کو محنت و محبت سے اپنے دل کا حصہ بناسکیں تو عین ممکن ہے یہ چھوٹا سا حصہ پھیل کر پورے شہر کو اپنی بانہوں میں بھرلے ۔
نئے خون اور نئے جیالوں کو اکٹھا کرنا تبھی ممکن ہے۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ا س کیلئے جناب زرداری کے صاحبزادے کو تادیر اس شہر میں ڈیرے جمانا ہوں گے تاکہ ناراض ہونے والوں کے دلوں میں پھر سے ڈیرہ جمایا جاسکے۔ سیاسی توازن کے قیام کیلئے بھی ان کا اس شہر بے مثال میں ٹکنا ضرور ہوچکا ہے۔ بلاول بھٹو صاحب اگر یہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی لمیٹڈ کمپنی بن کر نہ رہ جائے اور اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کو از سر نو متحدہ اور طاقتور بنایا جائے تو ان کیلئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ پارٹی کے پرانے اور الائق کارکنوں جنہیں پارٹی خود ناراض کرچکی ہے کو محبت سے اپنے پاس بلائیں اور ان کے سروں پر دست شفقت و اپنائیت رکھیں۔
ان ناراض کارکنوں میں غلام عباس، رانا شوکت محمود، قاسم ضیاء، رانا آفتاب احمد، مشتاق اعوان اور فخر زمان ایسے لوگ شامل ہیں۔ یہ معروف افراد آج بھی پارٹی اور بلاول بھٹو کا زبردست سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ سب سیاستدان پنجاب میں پیپلز پارٹی کیلئے اہم خدمات بھی انجام دے چکے ہیں اور پارٹی میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اگر بلاول بھٹو صاحب ان منبھے ہوئے پرانے کارکنوں کو راضی نہیں کرسکتے تو خدشہ ہے ان کا دورہ پنجاب کہیں ضائع نہ چلا جائے۔
اس لئے کارکنوں کا دل جیتنے کیلئے بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب آ کر دیرینہ کارکنوں سے ملنا چاہیے اور ان کے مسائل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے حلقوں کے مطابق ساب قصدر آصف علی زرداری اور انکے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے رواں ہفتہ کے دوران دورہ پنجاب کا فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ دونون باپ بیٹا نہ صرف بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب مکمل ہونے تک بلاول ہاؤس لاہور میں قیام کریں گے بلکہ لاہور میں اپنے اس قیام کے دوران پیپلز پارٹی کے پنجاب کے پارلیمان اور صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت مئی 2013ء کے الیکشن کے پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور ہر حلقہ انتخاب کے ناراض کارکنوں اور لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے۔
زیادہ تر سیاسی لیڈر اور کارکن ان سے ملاقاتوں کیلئے بلاول ہاؤ س میں ان سے ملاقاتیں کریں گے لیکن اگر کچھ لیڈروں کو منانے اور پارٹی میں دوبارہ متحرک کرنے کیلئے بلاول بھٹو زرداری کو ان کے پاس جانا بھی پڑا تو وہ اس میں کئی لیت و لعل نہیں کریں گے۔ اس سلسلہ میں ڈویژنل کوآرڈی نیٹر راجہ ریاض احمد خاں کی رہائش گاہ پر فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع کے عہدے داروں کا اجلاس بھی منعقد ہو چکا تھا تاکہ بلاول بھٹو زرداری کو فیصل آباد سے دورہ پنجاب کا آغاز کرنے کی دعوت دی جاسکے۔
یہ بھی بتایا گیا تھا کہ دونوں رہنما لاہور میں اپنے قیام کے دوران نہ صف پارٹی کے بنیادی ڈحانچے میں بعض تبدیلیاں کریں گے بلکہ تنظیمی عہدوں میں بعض اہم تبدیلیاں بھی کریں گے۔ چونکہ پیپلز پارٹی کے قائدین کو سیکیورٹی خدشات بھی ہوسکتے ہیں، لہٰذا پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس سلسلہ میں حکومت پنجاب کو ان دونوں لیڈروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے مراسلہ بھی بھیج دیا تھا اور آئی جی پنجاب پولیس خان بیگ نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی ہدایت پر ان سے دورہ پنجا بکا شیڈول بھی مانگ لیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کا دورہ پنجاب ان کے آئے روز کے بیانات کے حوالے سے انکی جان کیلئے بہت بڑا رسک تھا۔ انہوں نے آج تک طالبان سے امن مذاکرات کو دل سے قبول نہیں کیا اور اگر تحریک طالبان ان کے دورہ پنجاب کے دوران ان کیلئے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہ بھی پیدا کرے تو حکومت اور طالبان میں مذاکرات کی ناکامی کے خواہش مند اور پاکستان کے سیاسی استحکام کے مخالف غیر ملکی عناصر آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو زرداری میں سے کسی ایک کو یا ان سے ملاقاتیں کرنے والے پیپلز پارٹی کے دورے لیڈروں کو ٹارگٹ کر کے اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکتے تھے جس سے فائدہ اٹھا کر ملکی سطح پر جمہوریت کے استحکام کیلئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین خاموشی سیاسی مفاہمت کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی سیکیورٹی رسک ہیں اور حکومت پنجاب کو دورہ پنجاب کی صورت میں انکے سیکویرٹی کے انتظامات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی محل نظر رکھنا ہوگا کہ حکمران پارٹی، پیپلز پارٹی کی حریف سیاسی جماعت بھی ہے۔ ان کے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے اور قومی اسمبلی کے رکن حمزہ شہباز نے ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ہی کہہ دیا تھ کہ ملک میں دہشت گردی کی اس فضا میں بلاول بھٹو زرداری کو سوچ سمجھ کر سیاسی بیانات دینے چاہئیں۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس مرزا خان بیگ پر عزم تھے کہ وہ چھوٹے بڑے دونوں ”زرداریوں“ کی پنجاب کی حدود میں سیکیورٹی کر سکیں گے۔ اس سلسلہ میں پنجاب میں پولیس کا ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اہم کردار ادا کرے گا۔ اسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے حکم پر ضلعی پولیس فیصل آباد نے بھی شہر میں آنے والے وی وی آئی پیز کی حاظت کے لئے سپیشل اسکواڈ بننے کا نہ صرف فیصلہ کرلیا تھا بلکہ اس سلسلہ میں ضلع بھر سے ضلع بھر کی پولیس میں سے ایک سو پولیس اہلکاروں کو کسی بھی وی وی آئی پی شخصیت کی حفاظتی ڈیوٹی کیلئے ”کمانڈ و تربیت“ دینے کا اہتمام بھی ہوچکا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کے سرپر پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعت کی عوام پہ چھتری کا سایہ تو یقینا موجود ہے لیکن ان کیلئے سیکیورٹی بھی اسی قدر دشوار ہے۔ لہٰذا بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب کے مختلف اضلاع کے دوروں خصوصاََ فیصل آبادکے دورے میں سیکیورٹی کے کڑے انتظامات اور پیپلز پارٹی کے جانثار کارکنوں کا حفاظتی حصار بھی تیار کرلیا گیا تھا۔
ہر چند راجہ ریاض احمد کے گھر ہونے والے پیپلز پارٹی کے اجتماع میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اور فیصل آباد میں بلاول بھٹو زرداری کی حفاظت پنجاب کے کفن بردار جیالے کریں گے۔ انہوں نے صاف کہہ دیاکہ جو حکمران عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں ان سے بلاول بھٹو زرداری کی حفاظت کی کوئی امید نہیں ہے۔ سابق سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ ریاض احمد نے پارٹی کے ڈویژنل کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے ڈویژن بھر کے انتظامی عہدیداروں کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب کا آغاز فیصل آباد میں جلسہ عام کے ذریعے کرنے کا مطالبہ بھی کردیاتھا۔
وی آئی پی شخصیات خوہ وہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور صدر مملکت کی شخصیات سے ہٹ کر عام سیاسی لیڈروں کی حفات اور سیکیورٹی کے مسئلے ہوں۔ جب یہ لیڈر آصف علی زرداری اور بلال بھٹو زرداری جیسی شخصیات ہوں گی تو ان کیلئے پولیس کے سیکیورٹی اسکواڈ پر انحصار کرنا کسی حماقت سے کم نہیں ہوگا۔ لہذٰا پیپلز پارٹی کے لئے ملک کے موجودہ حالات میں ”تحت لاہور“ پر قبضے کی کوششوں کا آغازکرنا اور صوبائی دارالحکومت لاہور سے باہر نکل کر صوبے کے بڑے شہروں میں بلاول بھٹو زرداری سے جلسوں کی صدارت اور پارٹی کی سیاسی ریلیوں کی قیادت کرانا درست سیاسی حکمت عملی نہیں ہوگی۔
پارٹی کو ابھی بلاول بھٹو زرداری کو قلع بند سیاست تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ مگر یہ ہونہ سکا اور پھر بلاول بھٹو زرداری کے دورہ کی منسوخی کی خبر آگئی یوں نہ صرف جیالوں بلکہ عوام میں بھی مایوسی پھیل گئی اور اسے دونوں بڑی پارٹیوں کی نورا کشتی قرار دیا گیا اور بعض سیاستدان تو اسے فرینڈلی اپوزیشن کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-05

(0) ووٹ وصول ہوئے