بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

پارٹی تنظیموں کی جانب سے بلدیاتی امیدواروں کی حتمی فہرستیں نہ بن سکیں
سیاسی جوڑ توڑ اور کردارکشی کا کھیل جاری۔۔۔۔ ہوس اقتدار میں تمام”سیاسی چوہدری“ بندہ نواز بننے کے دعویدار
احمد کمال نظامی:
بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں بتدریج تیزی پکڑ رہی ہیں لیکن حیران کن بات ہے کہ پہلے مرحلہ میں جن ڈویژنوں میں میں پہلے مرحلہ میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں اور باضابطہ طور پر امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی بھی داخل کر دئیے ہیں ان میں سے کسی بھی ڈویژن میں ابھی کسی سیاسی جماعت نے اپنے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری نہیں کی ہے۔
جبکہ پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کرے گی۔ اپوزیشن کا غیر رسمی رتبہ رکھنے والی تحریک انصاف کا بھی ہی عالم ہے۔فیصل آباد میں صورت حال دیگر شہروں کے مقابلے میں یوں مختلف ہے کہ چوہدری شیر علی اور رانا ثنا ء اللہ اپنے اپنے امیدواروں کی فورس میدان میں اتار چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے امیدواروں کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا نے ضابطہ اخلاق پر پوری سختی سے عملدرآمد کرانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانا ان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اس کے ساتھ ہی تمام امیدواروں پرپابندی عائد کر دی گئی ہے کہ کوئی امیدوار نہ جلسہ کرے سکے گا نہ جلوس نکلا سکے گا سائن بورڈ اور بینرز لگانے پر پابندی عائد کر دی گی ہے صرف کارنر میٹنگ کی اجازت ہو گی۔
جس کی منظوری انتظامیہ سے لینی پڑے گی۔ الیکشن کمشن نے چالیس نکات پر مبنی ضابطہ جاری کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اس پر مکمل پابندی کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسے مسترد کرتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کریں گے تو انتخاب نہیں دنگل ہوگا اور الیکشن کمیشن اس موقف پر ڈٹا ہو اہے کہ ہر قیمت اور ہر حال میں عمل کرایا جائے گا کہ یہ ضابطہ اخلاق 2013 کے قومی انتخابات کے وقت بھی موجود تھا۔
برطانیہ اور بھارت میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے ان ممالک کے ضابطہ اخلاق سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور الیکشن کمیشن کویہ تارثر قطعی طور پر نہیں دینا چاہیے کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ کی بجائے ایک فریق ہے۔ کیونکہ الیکشن کے اقدامات سے عوام میں یہی تاثر پایا جاتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات جو بظاہر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں لیکن عملی طور پر حالات اس کے برعکس ہیں کہ اب بھی کسی میرٹ کی بجائے برادری اور گروہوں کو ہی نواز نے کی پالیسی کارفرما ہے۔
یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین اپنی اپنی برادری اور اپنے گرہ کی طاقت کے بل بوتے پر میدان میں اترے ہیں۔ اصل صورت حال تو اس وقت سامنے آئے گی جب حکمران جماعت اور حکمران مخالف جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کریں گی۔ فیصل آباد میں جب تک مسلم لیگ ن کے امیدوار سامنے نہیں آتے اور ان میں کتنی تعداد چوہدری شیر علی گروپ کے امیدواروں کی ہو گی اور کتنے رانا ثناء اللہ خاں کے گروپ سے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں موجود رہیں گے؟ گو تحریک انصاف والے بھی فیصل آباد میں گروہ بندی کا شکار ہیں فیصلہ چئیرمینوں اور ناظمین کے انتخاب پرہوگا۔
فیصل آباد میں بلدیاتی انتخابات میں کون فتح بند ہوتا ہے اور کون نہیں ، اس سے قطع نظر فیصل آباد کی کل نشست 2544 ہیں۔ آزاد امیدوار اورجماعتی ٹکٹ کے امیدوار جو اپنے کاغذات نامزدگی داخل کراچکے ہیں ان کی تعداد تقریباََ نو ہزار ہے اور ٹکٹوں کے اجراء کے بعد آدھی رہ جائے گی۔ اصل معرکہ جو کہ ضلعی کونسل کی نظامت، میئر شپ اور چاروں ٹاوٴنز کے ناظموں کے انتخاب کے وقت ہوگا۔
شاید پنجاب حکومت اپنی حکمت عملی تیار بھی کر چکے ہیں کہ کسی کو آگے آنا ہے اور کسی کو نہیں۔ سابق ضلعی ناظم چوہدری زاہد نذیر یونین کونسل کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو چکے ہیں جبکہ سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم رانا زاہد تو صیف کی قسمت کا فیصلہ جیتتے ہیں یا نہیں۔ رانا زاہد تو صیف تو رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی لیڈر بھی رہ چکے ہیں اور ان کے بھائی بھی رفاقی وزیررہ چکے ہیں۔
جبکہ وہ تحریک انصاف کی طرف سے ضلعی ناظم کے اُمیدوار بھی ہوں اسی طرح رکن قومی اسمبلی میاں فاروق کے صاحبزادے میاں قاسم فاروق بھی ضلعی نظامت کے اپنا ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں اور ان کے مقابلے میں ان کے چچا ہیں جو تحریک انصاف سے وابستہ ہے اور چیئرمین کونسل کے امیدوار ہیں ۔ فیصل آباد میں ساہی برادران کو کسی حالت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا وہ خاموش کھلاڑی کے طور پر میدان میں موجود ہیں۔
افضل ساہی تو سپیکر پنجاب اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا بیٹا جنید افضل ساہی چک جھمرہ کی کونسل 10 سے امیدوار ہے اور جھمرہ ٹاوٴن کی نظامت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ جہاں تک فیصل آباد کے چاروں ٹاوٴنز کی نظامت اور چیئرمینی کا تعلق ہے چوہدری شیر علی اپنے بیٹے عامر شیر علی کو فیصل آباد کا میئر بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور عامر شیر علی کے مقابلہ میں رانا ثناء اللہ خاں نے جو امیدوار اتارے ہیں وہ رحمانی برادری سے تعلق ہی نہیں رکھتے بلکہ رحمانی برادری کے چوہدریوں میں شمار ہوتے ہیں۔
فضل حسین راہی جیسا غریب آدمی اسی برادری کے بل بوتے پرپنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو کوشش ہے کہ عابد شیر علی کے خواب کو بکھیردیا جائے۔ لیکن میاں شہباز شریف کسی بھی حالت میں فیصل آباد کے ضلعی ناظم کے طور پر غیرن لیگر کو برداشت نہیں کریں گے حتیٰ کہ فیصل آباد کے چاروں ٹاوٴنز بھی ن لیگی کو ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا سارے فیصلے اسی تناظر میں ہوں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان