تازہ ترین : 1
Pakistan Main Electronic Voting

پاکستان میں الیکٹر انک ووٹنگ

یہ شفاف انتخابات کی ضمانت نہیں۔۔۔۔۔ اس مشین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے دونوں کا ٹوٹل مائیکر سافٹ ڈیٹا بیس میں رکھاجاتا ہے جس میں کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اس میں ردوبدل کر کے نتائج کو متنازعہ بناسکتا ہے

عثمان قصوری:
پاکستان میں مئی2013ء میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثر یت ملنے پر اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا واویلا مچادیا تھا کہ حکمران جماعت کو دھاندلی کرنے پر واضح کامیابی ملی ہے۔اس کے خلاف گزشتہ سال تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے دھرنے بھی دیئے ۔حکومت نے دھاندلی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنادیا ہے۔
اس کے علاوہ انتخابات میں نئی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ دھاندلی کی روک تھام کیلئے الیکٹر انک ووٹنگ مشین متعارف کرائی جائے تاکہ اگلے عام انتخابات میں دوبارہ ایسا نہ ہوپائے ۔اس سلسلے میں حکومت نے پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابات اصلاحات بھی بنائی جس کے سامنے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائر یکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ دیگر ممالک کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات عباس ہے کہ انتخابات کے دوران ان مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے بآسانی فراڈاور دھاندلی کی جاسکتی ہے۔

انتخابات میں ہارنے والی جماعتیں یہ شور مچاتی رہتی ہیں کہ ان کے ہارنے کی سب سے بڑی وجہ دھاندلی ہے۔مخالف امیدواروں نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہو کر بڑے پیمانے پر جعلی اور بوگس ووٹ ڈالے اور بعد ازاں ریٹر ننگ افسران کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی کروائی جس کے باعث دو الیکشن ہارے۔پاکستان میں2013میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہوئی اور اس نے اپنے مینڈیٹ سے پنجاب اور مرکز میں اپنی حکومت بنائی جبکہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت تشکیل دی لیکن پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ کو ماننے سے انکار کر دیا۔

پی ٹی آئی نے موٴقف اختیار کیا کہ یہ حکومت چونکہ دھاندلی کے ذریعے قائم کی گئی ہے اسلئے یہ غیر آئینی حکومت ہے جو فراڈ اور دھوکہ دہی سے وجود میں آئی ہے۔اس نے دھاندلی کی تحقیقات کروانے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر انتخابی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ عام انتخابات میں دھاندلی کا راستہ روکا جاسکے ۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹ کا سٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے حکومت نے اس سلسلے میں الیکشن ریفارمز کے نام سے پارلیمانی کمیٹی بنا کر عوام اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے ان کی تجاویز بھی طلب کی تھیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں رائج انتخابی طریقوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک الیکٹر ونک مشینوں کے ذریعے الیکشن کروا رہے ہیں ۔
خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں اس طریقے کو اپنانے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر افریقی ملک نمیبیانے انتخابات کیلئے بائیو میٹرک طریقہ رائج کرکے افریقہ کی پہلی ایسی قوم کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جس کے ملک میں یہ جدید طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ برازیل پیر اگوئے ‘پانامہ ‘ وینز ویلا اور میکسیکو بھی اس طریقہ انتخابات پر تجربات کر رہے ہیں۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں الیکٹر ونک ووٹنگ مشین کو 1999ء سے استعمال کیا جارہا ہے۔یہ طریقہ انتخابات اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ بہت زیادہ خرابیاں بھی رکھتا ہے۔دراصل انجینئر زاور ریسرچر گزشتہ پندرہ سالوں سے انتخابی گہرائی اور باریک بینی کے ساتھ اس کی کارگردگی کا جائزہ لیکر اس کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں اور اس عرصے کے دوران انہوں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ یہ مشینیں پولنگ کے دوران کب اور کس وقت خراب نتائج دینے لگیں۔
اس کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ۔ان خرابیوں میں دونوں کو الٹا نے ڈبل کرنے تفریق کر نے اور بعدازاں ان کو ٹیلی کرنے کے دوران بغیر کسی وجہ کے خرابی پیدا کرنا معمولی بات ہے2012میں امریکہ میں ہو نے والے انتخابات کے دوران ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مشین میں خرابی ہونے کے بعد دوباراک اوہاما کوڈالے گئے ووٹ کو خود کار طریقے سے اسکے مخالف امیدوار مٹ رومنی کو ڈالنے لگی ۔
اسی طرح 2014ء میں کا نگریس کے انتخابات میں میری لینڈ ریاست میں بعض مشینوں نے ریپبلکن کے ووٹ کو ڈیمو کر یٹس کی طرف مخصوص کر دیا جس کے متعلق ووٹرزنے یہ شکایات کیں کہ انہیں ریپبلک امید وار کو ووٹ کاسٹ کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی ہی صورتحال بہت سی دوسری ریاستوں میں بھی دیکھنے میں آئی ۔ان میں نارتھ کیرولینا بھی شامل ہے۔
امریکہ میں ہی کاونٹی الیکشن کے دوران ایک مشین نے پانچ ہزارووٹ نظر انداز کر دئیے جو کل ڈالے گئے دونوں کا ایک تہائی حصہ تھا۔ بھارت میں بھی ناقابل فہم طور پر الیکشن کے دوران دونوں کے الٹنے کا معاملہ مشاہدے میں آچکا ہے۔ اس مشین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے دونوں کا ٹوٹل مائیکر سافٹ ڈیٹا بیس میں رکھاجاتا ہے جس میں کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اس میں ردوبدل کر کے نتائج کو متنازعہ بناسکتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے مغربی چینل ایچ بی اونے ہیکنگ ڈیمو کریسی کے نام سے ایک دستاویزی فلم میں یہ دکھایا کہ اس مشین میں میموری کارڈ ڈال کر انتخابات کے نتائج کو نقل کیا جاسکتا ہے ۔اس میں ڈیٹا بیس میں موجود ووٹوں کے ٹوٹل میں رودبدل کر نے کے عمل کو بھی عملی طور پر دکھا یا گیا ہے کہ یہ تمام عمل کس قدر آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور مشینوں کو پیک کرنا غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ ہیکنگ کرنے والوں کیلئے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔
پاکستان الیکشن کمیشن نے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں تحقیق کی تھی اور چند ماہ قبل الیکشن کمیشن کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹ جنرل خضر عزیز نے الیکشن ریفارمز کی پاررلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ ووٹ ڈالنے کے روایتی طریقوں کی طرح الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے بھی بآسانی فراڈ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مشین میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر میں چھیڑ چھاڑ کر کے انتخابی نتائج میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ پولنگ سٹیشن پر نصب مشینوں کو بلو ٹوتھ سگنل سمیت کسی بھی وائرلیس ذریعے سے بآسانی ہیک کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ تصور غلط ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے سو فیصد صاف شفاف انتخابات ممکن ہیں۔بھارت میں بھی اس کے ذریعے کرائے گئے انتخابات پر اعتراضات کئے جاتے ہیں۔
ہندوستانی الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ اگر مشین کے ذریعے نتائج تبدیل کر دئیے جا ئیں تو دھاندلی کو ثابت کرنا ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مشینوں کے ذریعے فراڈاور دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ملک نااہلی اور کریشن کا ناسور بہت زیادہ پھیل چکا ہے اور اس مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر نے انتخابی نتائج کو خراب نہیں کریں گے۔اس کے علاوہ اگر مشین کی ہارڈ ڈرائیو خراب ہو جائے تو وہ محض چند بٹن دباکر اس کے نتائج میں ہزاروں جعلی ووٹ شامل کر سکتا ہے جس طرح روایتی طریقہ انتخاب میں ریٹر ننگ افسران پر اعتراض کیا جاتاہے کہ وہ انتخابی نتائج کے اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرتے ہیں۔
انہی خرابیوں کی وجہ سے امریکہ، ناروے، فرانس، جرمنی، کینیڈا اور کئی ممالک انہیں چھوڑ کرپیپر بیلٹ کی طرف واپس آرہے ہیں ۔اسلئے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس مشین اور طریقہ انتخاب کی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی بھی حتمی فیصلہ کریں اور اس سلسلے میں دنیا کے دیگر ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔کہیں ایسانہ ہو کہ اربوں روپے کے فنڈز بلاسوچے سمجھے ضائع کر کے ان کی خرابیوں سے تنگ آکر دوبارہ روایتی بیلٹ پیپر کی طرف واپس آئیں۔لہٰذ اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ پوری طرح سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
وقت اشاعت : 2015-05-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں