تازہ ترین : 1
Pakar Dhakar Ka Silsela Shoro

پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع

ہماری دعا ہے کہ سیاستدان کامیاب ہوں اور موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے میں سرخرو ہو جائیں۔ پاکستان کی قسمت ووٹ کی پرچی سے ہی بدلے گی۔ 2008ء سے 2013ء تک ایک حکومت نے پانچ سال پورے کئے

فرخ سعید خواجہ:
دھرنے والوں کی نواز شریف سے جنگ جاری ہے، دھرنے والے اسمبلیاں بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت آئے ایک ایسا ریفارمز کمشن لائے جو چار سال میں تمام گندگی صاف کرے پھر الیکشن ولیکشن بھی دیکھا جائے گا۔ یہ مطالبات عمران خان اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر طاہر القادری سیاستدانوں کے جرگہ کو گوش گزار کر چکے ہیں۔
مذاکرات کا آغاز الیکشن 2013ء میں دھاندلی اور آنے والے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے اصلاحات و آئینی ترمیم کے لیے ہوا تھا۔ ایک مرحلے پر جب حکومت نے دھرنے والوں کے 6 میں سے 5مطالبات تسلیم کر لیے تھے اس وقت عمران خان اور طاہر القادری سیاسی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے اور معاہدہ کر لیتے تو فاتح بن کر اسلام آباد سے لوٹتے لیکن ”ایمپائر“ کی انگلی کے گمان میں دونوں بھائی چکرا گئے اور اب وہ خود بھی رسوا ہو رہے ہیں جبکہ اپنے چاہنے ولوں کو بھی خوار کر رہے ہیں۔
ان کی اسلام آباد میں کارکنوں کو دی گئی تربیت کا اثر ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن اب لاہور میں لالک چوک ہی نہیں ہر جگہ دندنا رہے ہیں۔ لیڈر شپ جب للکارے مارے گی تو ان کے ماننے والے بھی اسی راہ پر چلیں گے۔ معاشرے کا سنجیدہ طبقہ اس صورت حال پر رنجیدہ ہے کہ ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کے حامی تحریک انصاف کے چاہنے والوں سے تعداد میں کئی گنا زیادہ ہیں۔
جس سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے اس کا لازمی نتیجہ گلی محلوں میں دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں نکلے گا۔ ماہ اگست سے شروع ہونے والی تحریک انصاف کی احتجاجی مہم کے دوران بلاشبہ حکمران جماعت نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اب پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ایک روز قبل جب یہ سطریں تحریر کی جا رہیں سنٹرل جیل کوٹ لکھپت سے تحریک انصاف کے 44کارکنوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔
جیل کے باہر تحریک انصاف کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری شبیر سیال کی قیادت میں کارکنوں نے رہائی پانے والے کارکنوں کا استقبال کیا۔ استقبال کے لیے کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچنے والے کارکنوں کی تعداد اگرچہ بہت کم تھی جو کسی بھی طور پر چار پانچ درجن سے زیادہ نہیں تھی لیکن پارٹی پرچم اٹھائے ان کارکنوں کا جذبہ قابل تعریف تھا۔ شبیر سیال تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنوں میں سے ہیں۔
کارکنوں میں ان کی بہت عزت ہے لیکن مال و دولت کی رسیا قیادت نے شبیر سیال اور ان جیسے بے شمار کارکنوں کو کھڈے لائن لگا دیا ہے۔ عمر سرفراز چیمہ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے ڈاکٹر شاہد صدیق پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات تھے۔ تحریک انصاف نے الیکشن 2008 کا بائیکاٹ کر دیا اور جب الیکشن 2013ء آئے تو تحریک انصاف کا کلچر بدل چکا تھا اور ان دونوں کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیئے گئے۔
ان دونوں جیسے اور بھی بہتسے مخلص کارکنان ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ سب کے سب اب بھی تحریک انصاف ہی میں ہیں۔ ایک اور مثال ایک نوجوان محمد مدنی خان کی ہے جو انصاف یوتھ ونگ کا لیڈر رہا۔ تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کا عہدیدار بنایا گیا اور جب الیکشن 2013ء آیا تو اس نوجوان کو میاں حمزہ شہباز کے مقابلے میں این اے 119 کا امیدوار بنا دیا گیا۔ بڑے بڑے جغادری لیڈروں میں سے حمزہ شہباز کے مقابلے میں کوئی دوسرا کیوں نہیں آیا، پارٹی میں یہ سوال اٹھایا جاتا رہا لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔
1996 میں قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف 2013ء میں پورے عروج پر تھی۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دھرنے کے بعد عمران خان کا سیاسی قد مزید بڑھ گیا ہے جبکہ ہماری رائے ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے اس دھرنے سے پایا کم اور کھویا زیادہ ہے۔
ہماری دعا ہے کہ سیاستدان کامیاب ہوں اور موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے میں سرخرو ہو جائیں۔ پاکستان کی قسمت ووٹ کی پرچی سے ہی بدلے گی۔
2008ء سے 2013ء تک ایک حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔ ووٹ کی پرچی نے 2013ء میں اس جماعت کو مرکز میں حکومت کے قابل نہیں سمجھا۔ الیکشن اسی طرح تواتر سے ہوتے رہے تو عوام کارکردگی نہ دکھانے والوں کو ووٹ کی پرچی ہی کے ذریعے تبدیل کر دیں گے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ڈنڈے کے زور پر اسلام اگر قبول نہیں کیا جا سکتا تو پھر ڈاکٹر طاہر القادری کا انقلاب کس طرح قابل قبول ہو سکتا ہے۔
کوئی لاکھ کہے کہ فلاں ادارہ فلاں کام میں ملوث نہیں ہے لیکن آواز خلق کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی ایک مرتبہ پھر بولے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”عمران خان اور کور کمیٹی نے خود کہا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا، جج تین ماہ میں الیکشن کا فیصلہ دیں گے۔ اگر واقعی اب ایسا ہوتا ہے تو کون تسلیم کرے گا کہ سکرپٹ پہلے سے لکھا ہوا نہیں۔
ہم ہی کیا ساری قوم جانتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ نئے انتخابات جیسا فیصلہ دے۔
باقی رہ گئی بات حکمران جماعت کی تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک سال میں اپنی تمام تر نیک نیتی اور محنت کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف عوام کی توقعات پر پورے نہیں اتر سکے۔ ان کی ٹیم کے بعض وزراء نے واقعی جان ماری کی اور ہوا کے مخالف رخ پر چلتے ہوئے اصلاح احوال کی کوشش کی۔
پاکستان ریلوے کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کا معجزہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کر دکھایا لیکن وزیر اعظم کی ٹیم میں لال بجھکڑوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ خود وزیر اعظم نے اپنی حکومت کو اپنی سیاسی ٹیم کی معاونت سے چلانے کی بجائے بیورو کریسی کے ان کل پرزوں پر بھروسہ کیا جو کبھی ان کے نہیں بن سکتے۔ مسلم لیگ ن کو بحیثیت سیاسی جماعت آکسیجن ٹینٹ میں پہنچا دیا۔
پچھلے سوا سال میں اپنی پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس تک بلانا گوارا نہیں کیا۔ قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی اوّل تو زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی رہی اور کوئی اجلاس ہوا بھی تو اس کی صدارت وزیر اعظم صاحب نے کرنے کی بجائے غیر حاضری کو ترجیح دی۔ پارٹی میں گرم و سرد کا تجربہ رکھنے والے کیسے کیسے سیاسی لیڈر اور ممبران پارلیمنٹ موجود ہیں لیکن ان سے استفادہ کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
وزیر اعظم قومی اسمبلی کے اجلاس میں کبھی کبھار شریک ہوئے لیکن سینٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ یوٹیلٹی بلوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا جاتا رہا اور وزیر اعظم اسے نہ روک سکے۔ عام آدمی کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئیں۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اور ان کی حکومت موجودہ بھنور سے نکل جائے لیکن اس کیلئے ان کو اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی کرنی ہو گی۔ اکبر بادشاہ تعلیم یافتہ نہیں تھا مگر اس نے اپنے ساتھ نورتن رکھے ہوئے تھے جن سے رہنمائی لیتا تھا۔ ہمارا مشورہ ہے آپ اپنے گرد خوشامدیوں کو بے شک رکھیں لیکن اپنی صفوں میں چند اچھے لوگ بھی مشاورت کے لیے لے لیں۔ اللہ پاکستان کی خیر کرے۔
وقت اشاعت : 2014-09-19

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں