بند کریں
اتوار مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نئے صوبے کا مطالبہ۔۔سندھ اسمبلی میں تلخی
ایم کیو ایم کے مطالبے کو بتدریج رد عمل سامنے آ رہا ہے مسلم لیگ ضیاء کے صدر اعجاز الحق نے نئے صوبوں کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے پاکستان عوامی تحریک نے ملک میں 20 صوبے بنانے کا مطالبہ کیا ہے
شہزاد چغتائی:
ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی کے فلور پر نئے صوبہ کے قیام کا باقاعدہ مطالبہ کردیا ہے۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان تلخی بڑھ گئی۔ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے مطالبہ مسترد کردیا اور ایم کیو ایم کو مشورہ دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ سندھ اسمبلی کے اندرخطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کامران اختر نے کہا کہ ہمیں بھوکا ننگا کہا جاتا ہے ہماری شکل پسندنہیں تو الگ صوبہ بنادیں جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے جواب دیا کہ مرجائیں گے سندھ نہیں دیں گے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے نئے صوبے کے مطالبے پر پیپلزپارٹی تو خون کے گھونٹ پی رہی ہے اور صبر و تحمل کے ریکارڈ توڑ رہی ہے لیکن قوم پرستوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جسقم نے سندھ بھر میں مرحلہ وارایم کیو ایم کے دفاتر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے اور کہا کہ پہلے اندرون سندھ اور آخر میں نائن زیرو پر ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر کی تالابندی کی جائے گی اس اعلان کے بعد کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی۔
متحدہ قومی موومنٹ اور ایم کیو ایم کے اختلافات کی جھلک سندھ اسمبلی کے اجلاسوں میں بار بار دکھائی دی لیکن پیر کے اجلاس میں گرماگرمی کے تمام ریکارڈ اس وقت ٹوٹ گئے جب صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایم کیو ایم پر دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کے الزامات عائد کردیئے۔ شرجیل میمن کے ریمارکس کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک جانب یہ خوشخبری سنائی کہ ایم کیو ایم سے مذاکرات چل رہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایم کیو ایم کے مشیروں اور معاونین کے استعفے منظور کرلئے جس میں مشیران عادل صدیقی‘ فیصل سبزواری اور معاون خصوصی عبدالحسیب خان شامل ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے وزراء عبدالرؤف صدیقی اور ڈاکٹر صغیر صدیقی کے استعفے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ابھی تک منظور نہیں کئے ہیں۔

شاہراہ قائدین پر ایم کیو ایم کے بہت بڑے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے محرم کے بعد نئے صوبے کی تشکیل کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ ایم کیو ایم کے یوم سوگ پر قائد الطاف حسین نے کہا کہ سندھ کے عوام نے یوم سیاہ کو کامیاب کرکے نئے صوبے کے حق میں فیصلہ دیدیا۔ خورشید شاہ کے بیان کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یوم سیاہ کے اعلان کے ساتھ کراچی میں جہاں حالات کشیدہ ہو گئے وہاں ہفتہ کی سر شام ہی شہر بند ہونا شروع ہو گیا۔
مختلف علاقوں میں بازار‘ دکانیں‘ پٹرول پمپ بند ہو گئے اور پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہو گئی۔ اتوار کوبھی پبلک ٹرانسپورٹ کے بغیر شہر میں سناٹاچھایا رہا سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی خورشید شاہ کے خلاف بینر اور پوسٹر آویزاں کئے گئے۔
وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے یوم سوگ پرحیرت کا اظہارکیا اور کہا کہ جب خورشید شاہ نے بیان واپس لے لیا تھا تو ایم کیو ایم کیوں الگ ہوئی۔
خورشید شاہ نے ایم کیو ایم کو مشورہ دیا کہ وہ مذہب پر سیاست نہ کرے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ ان کی جماعت کی خاموشی کو کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کراچی کے صدر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اردو بولنے والوں کو سندھی تسلیم کرتے ہیں جب ہم ان کو سندھ دھرتی کامالک مانتے ہیں تووہ کرایہ دار کیوں بن رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے نئے صوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ ہم سے 4صوبے نہیں سنبھل رہے نئے صوبے کیسے سنبھالیں گے لیکن وہ بھول گئے کہ 9سال تک 100 کے لگ بھگ ضلعی حکومتوں کا نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔
تمام اضلاع کو حکومت بنانے کا آئیڈیا بے نظیر بھٹو کا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہر ڈسٹرکٹ میں ایک گورنر ہو لیکن پیپلز پارٹی نے برسراقتدار آکر سندھ میں سب سے پہلے ضلعی نظام کا گلا گھونٹا اور 79ء کا فرسودہ نظام بحال کر دیا۔ مگرکوشش کے باوجود وہ کمشنر نظام بحال نہیں کر سکی۔کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر اس وقت بغیر دانت کے شیرہیں۔ نئے صوبوں کے حامی کہتے ہیں صوبے بننے سے لسانی و نسلی محاذ آرائی کم ہوگی کرپشن اور سیاسی لوٹ مار کو کنٹرول کیا جا سکے گا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی اس کے ساتھ چاروں وزیراعلیٰ کا پاکستان پر کنٹرول ختم ہو جائے گا جوکہ آپس میں اتحاد کر کے کالا باغ ڈیم سمیت قومی مفاد کے ہر معاملہ کو موخر کر دیتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے مطالبے کو بتدریج رد عمل سامنے آ رہا ہے مسلم لیگ ضیاء کے صدر اعجاز الحق نے نئے صوبوں کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے پاکستان عوامی تحریک نے ملک میں 20 صوبے بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پہلے نئے صوبوں کے حق میں تھے لیکن اب انہوں نے یوٹرن لے لیا ان کی عقابی نگاہیں لاڑکانہ کے جلسے پر سندھیوں کے ووٹ پر ہیں۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کی بھی یہی پالیسی تھی۔ مسلم لیگ ن نے بھی کراچی صوبے کی مخالفت کی اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے سندھ کے کئی دھواں دھار دورے کئے لیکن عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو اندرون سندھ سے ایک نشست بھی نہیں ملی تھی۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ کشمکش کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نہ صرف بہت کچھ کھو دے گی بلکہ اس کی قوم پرست لیڈر سندھ دیہی کو بھی نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوں گے کیونکہ سندھ اربن کی آبادی اب سندھ دیہی سے بڑھ گئی ہے۔

دریں اثناء سندھ میں نئے اتحاد کے قیام کیلئے سیاستدانوں کے درمیان رابطے بڑھ گئے۔ توقع ہے نیا اتحاد محرم کے بعد وجود میں آجائے گا اس وقت صلاح و مشورے جاری ہیں۔نئے اتحاد کے قیام کیلئے گزشتہ دنوں سابق وزیراعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو کی رہائشگاہ اور فنکشنل مسلم لیگ سندھ کے صدر سید صدر الدین شاہ راشدی کی رہائشگاہ پر اجلاس ہو چکے ہیں۔
سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ممتاز بھٹو پہلے ہی پیپلز پارٹی کے خلاف سرگرم ہیں۔ جنہیں اب سندھ کے چار سابق وزرا ئے اعلیٰ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق نیا اتحاد سندھ میں دھاندلیوں‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مفاہمت اور سندھ کی تقسیم کے خلاف جدوجہد کرے گا۔
سندھ میں نئی صف بندی کے دوران جتوئی‘ مہر‘ شیرازی‘ مزاری قبائل نے بھی نئی مسلم لیگ میں شمولیت کا عندیہ دیدیا ہے۔
شیرازی برادران نیب کی تحقیقات پر برہم ہیں ، شفقت شاہ شیرازی اور اعجاز شاہ شیرازی پر ایک بیوہ کی زرعی زمین ہتھیانے کا بھی الزام ہے۔نئی مسلم لیگ میں پنجاب‘ بلوچستان اور سرحد کے ناراض رہنماء شمولیت کیلئے پرتول رہے ہیں جن میں پنجاب کے کھوسہ قبائل شامل ہیں جبکہ سرانجام خان‘ پیر صابر شاہ‘ ظفر اللہ جمالی‘ سلیم سیف اللہ‘ انور سلیم اللہ نے بھی نئی جماعت میں شمولیت کا عندیہ دیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-30

(0) ووٹ وصول ہوئے