بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نواز ، زرداری سیاسی پارٹنر شپ توڑنے کا دعویٰ سچ ثابت
سیاست بڑا بے رحمانہ کھیل ہے کل تک آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی اگست 2014ء میں نادیدہ قوتوں کے دباؤ کے باوجود سابق صدر زرداری نے ”کپتان“ کا ساتھ نہیں دیا تھا
نواز رضا:
گذشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ”غیر معمولی“ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی قبائلی علاقہ جات کی تقریب حلف برداری سے خطاب کیا بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ”غیر معمولی“ اجلاس پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلاول بھٹو زرداری نے دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سے ان کے عہدوں کے استعفے طلب کر لئے۔
شنید ہے نوجوان بلاول اس شرط پر پاکستان آیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی ٹیم بنائے گا سو یہ استعفے نئی ٹیم بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ جب کہ اگلے روز ہی آصف علی زرداری کی دعوت پر زرداری ہاؤس میں ہی افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس نے سیاسی جماعتوں کی ”منی کانفرنس “ کی شکل اختیار کر لی۔ جب کہ دوسری طرف وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آصف علی زرداری کے فوج کے بارے میں بیان کے باعث دوتین روز قبل طے پانے والی ملاقات منسوخ کرکے ملکی سیاست کو ایک نیا رخ دے دیا۔
شنید ہے یہ ملاقات منسوخ کرانے میں چوہدری نثارعلی خان کا کلیدی کردار ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ”سیاسی پارٹنر شپ“ توڑنے کے دعوے اور جو پشین گوئی کی تھی وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے آصف علی زرداری سے طے شدہ ملاقات کی منسوخی سے خود ہی پوری ہو گئی ہے۔سیاست بڑا بے رحمانہ کھیل ہے کل تک آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی اگست 2014ء میں نادیدہ قوتوں کے دباؤ کے باوجود سابق صدر زرداری نے ”کپتان“ کا ساتھ نہیں دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ اس وقت ”کپتان“ کا ساتھ دیتے تو آج ملک میں انتخابات ہو جاتے۔
لیکن حالت نے ایسا پلٹا کھایا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف ان کے فوج کے بارے میں بیان سے مایوس ہو کر اس کے رد عمل میں ان سے طے شدہ ملاقات کو منسوخ کر دیا ہے۔
آصف علی زرداری کی پریشانی کا باعث 23افراد کی وہ فہرست ہے جو ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے پیش کی ہے انہوں نے ان افراد کی گرفتاری کا عندیہ دیا تھا اس فہرست میں جن لوگوں کے نام شامل ہیں ان پر الزام ہے کہ وہ سالانہ 230ارب روپے کا بھتہ وصول کر کے کچھ بڑے سیاسی لیڈروں تک پہنچاتے ہیں بھتہ وصول کرنے والے افراد کا تعلق پیپلز پارٹی سے بھی بتایا جاتا ہے شاید اسی خدشے کے پیش نظر آصف علی زرداری نے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں کھڑے ہو کر ان جرنیلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کسی جرنیل کا نام لئے بغیر وہ کچھ کہہ دیا جس کو ابھی تک پیپلز پارٹی سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شنید ہے آصف علی زرداری اسلام آباد میں دو دن تک آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر سے ملاقات کا انتظار کرتے رہے لیکن ان کی ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد انہوں نے اپنی تقریر کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کو اپنا پیغام دینے کا فیصلہ کیا۔
” انہوں نے بین السطور مقتدر حلقوں کو اپنا ”پیغام“ پہنچا دیا لیکن ان کے بیان کی ابھی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں اس بات کا احساس دلایا کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کا اعلان کر کے بڑی سیاسی غلطی کی ہے جس کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے ” وضاحتوں“ کا سلسلہ شروع کر دیا گو ابھی تک آصف علی زرداری نے اپنے بیان کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی تا ہم ان کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریڑی اطلاعات قمر زمان کائرہ اور سینیٹر شیری رحمنٰ وضاحتیں کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا ہے انہوں نے موجودہ عسکری قیادت کے بارے میں کچھ کہا ہی نہیں انہوں نے جو کچھ کہا وہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت سے متعلق تھا۔
جب آصف علی زرداری نے بین السطور بعض فوجی قائدین کو چیلنج کیا تو اس وقت آرمی چیف جنرل راحیل شریف روس کے دورے پر تھے ان کی ملک میں عدم موجودگی میں آصف علی زرداری کے دئیے گئے بیان نے جو آگ لگائی تھی اس کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ماسکو میںآ رمی چیف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور اس میں انہوں نے جہاں ان کے دورہ روس کے متعلق بات کی وہاں ان کی عدم موجودگی میں آصف علی زرداری کے دئیے گئے بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے حکومت کے ایک اہم عہدیدار نے راقم السطور کو بتایا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آرمی چیف سے ٹیلی فون پر بات چیت کرکے آصف علی زرداری کے بیان سے پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور عسکری قیادت کو اس بات پر قائل کیا کہ اس کی طرف اٹھنے والی انگلی کا سیاسی حکومت ہی سیاسی انداز میں موثر طور پر جواب دے گی۔
یہی وجہ ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے عسکری قیادت کے دفاع میں دئیے گئے بیانات کے بعد آئی ایس پی آر کو بیان جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے وزیر اعظم کی جانب سے ماسکو میں آرمی چیف کو ٹیلی فون کرنے کو ان کی کمزوری سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی جس کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ فوج کا دفاع کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سب سے پہلے میں نے میاں نواز شریف سے پوچھے بغیر آصف علی زرداری کے بیان کا نوٹس لیا ہے جب کہ اگلے روز پارٹی کے سیاسی مشاورتی اجلاس میں آصف علی زرداری کے بیان کے رد عمل میں ان سے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی گئی۔
وزیر اعظم نے خود آصف علی زرداری کے بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت صورت حال کو گھمبیر نہیں بنانا چاہتی تھی یہی وجہ ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اس معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے وطن واپسی کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم سے ملاقات میں جہاں اپنے دورہ ء روس کی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا وہاں آصف علی زرداری کا بیان بھی زیر بحث آیا ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف کی وزیر اعظم سے ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی آصف علی زرداری کے فوج کیخلاف دئیے گئے بیان کے بعد وزیر اعظم نے ان سے ملاقات منسوخ کر کے ”ناراضی“ کے بنیاد رکھ دی ہے لیکن واقفان ِ حال کو معلوم ہے کہ وزیر اعظم نے ”آگ پر مٹی“ ڈالنے کا کام کیا ہے جس کا آصف علی زرداری کو بھی جلد احساس ہو جائے گا“۔
دریں اثناء آصف علی زرداری نے اپنی” سیاسی تنہائی “ختم کرنے کے لئے زر داری ہاؤس اسلام آباد میں ” افطار ڈنر“ پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے سوا دیگر تمام جماعتوں کو مدعو کیا لیکن اس ”منی کانفرنس“ میں مولانا فضل الرحمنٰ ، فاروق ستار افراسیاب خٹک اور چوہدری شجاعت حسین نے ہی شرکت کی جب کہ دیگر جماعتیں اس میں شریک نہ ہوئیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-26

(2) ووٹ وصول ہوئے