تازہ ترین : 1
Muthida N League Phir Faslay Per PPP Ki Rabita Mohim

متحدہ ، ن لیگ پھر فاصلے پر ، پی پی کی رابطہ مہم

مسلم لیگ ن ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں ہے۔ کبھی وہ آصف زرداری سے رابطے کرتی ہے تو کبھی متحدہ کے لئے بانہیں پھیلاتی ہے۔ یہ ”روٹھا منائی“ کا کھیل تین عشروں سے جاری ہے۔ متحدہ بھی پی پی‘ ق لیگ‘ ن لیگ اور دیگر کے ساتھ کھیلتی رہی ہے

الطاف مجاہد:
مسلم لیگ ن ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں ہے۔ کبھی وہ آصف زرداری سے رابطے کرتی ہے تو کبھی متحدہ کے لئے بانہیں پھیلاتی ہے۔ یہ ”روٹھا منائی“ کا کھیل تین عشروں سے جاری ہے۔ متحدہ بھی پی پی‘ ق لیگ‘ ن لیگ اور دیگر کے ساتھ کھیلتی رہی ہے۔ اپنے مفادات کے لئے اس نے سب کا ساتھ دیا۔ کبھی جاگیرداروں کو للکارا تو کبھی ان کا سہارا بنی۔
ایک زمانے میں سندھ کی تقسیم پر اصرار کیا تو اگلے دور میں سندھ میں بٹوارے کی مذمت کی۔ کبھی آصف زرداری کے کہنے پر فاروق لغاری کو غیر مشروط حمایت سے نوازا تو کبھی شاہد خاقان عباسی کی بطور وزیراعظم سے مخالفت سے تقرر کیا۔ ابھی پچھلے ہفتے تک متحدہ اور پی پی میں ازسرنو محبت کے رشتے استوار کرنے کی اطلاعات تھیں کہ یکایک سب کچھ تبدیل ہو گیا اور شاہد خاقان عباسی بطور وزیراعظم کراچی تشریف لائے تو لیاری ایکسپریس وے کے ایک ٹریک کی افتتاحی تقریب میں متحدہ پاکستان کو شرکت کی دعوت نہیں ملی جس پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ افتتاح کے موقع پر ہمیں نظرانداز کیا گیا حالانکہ ہم نے شاہد خاقان عباسی کے مقابلے میں امیدوار بھی کھڑا نہیں کیا تھا۔
مسلم لیگ ن اور متحدہ میں قربتوں کا سبب سینٹ الیکشن تھے اس لئے کہ سندھ اسمبلی میں متحدہ کے کئی ارکان اسے چھوڑ کر پی ایس پی اور پی پی جوائن کر چکے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ ن لیگ کو درپیش ہے۔ اگر سندھ اسمبلی میں شیرازی‘ جتوئی اور کراچی کے ن لیگی متحدہ کے ساتھ ہوں تو اشک شوئی ممکن ہے لیکن تقریب افتتاح نے شکوے شکایات کو جگہ دے دی ہے لیکن یہ معاملہ نمٹ جائے گا کیونکہ اتحاد دونوں جماعتوں کے لئے ضروری ہے۔
پی پی کو سندھ میں ریٹائرڈ سینیٹروں کی جگہ اپنے نئے امیدواروں کی کامیابی میں مشکل نہیں ہو گی لیکن اسے پریشانی ایک انار سو بیمار کی کیفیت سے ہے۔ ریٹائرڈ سینیٹروں اور درجنوں نئے امیدواروں میں سے چند کا انتخاب اس کے لئے کٹھن مرحلہ ہو گا۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں تیزی سے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو رہے ہیں۔ اس میں وفاق کا بھی حصہ ہے اور کریڈٹ پی پی کو بھی چلے گا۔
جام شورو سہون ہائی وے‘ سپر ہائی وے‘ کراچی ٹھٹھہ قومی شاہراہ خود کراچی میں شارع فیصل‘ یونیورسٹی روڈ‘ سرجانی ٹاور ایدھی بس لائن‘ سب میرین انڈر پاس اور لیاری ایکسپریس وے سے صوبے کے باشندوں کو سہولت ملے گی۔ اسی ہفتے کراچی ہینو چوک سے سپر ہائی وے تک ایک نئے منصوبے کی سندھ کابینہ نے اصولی منظوری دی ہے۔ یہ اقدامات سندھ کے دارالحکومت کو ترقی دیں گے تو سندھ کا بھی خوشنما چہرہ سامنے آئے گا۔
سی پیک پروجیکٹ میں دھابے جی کا خصوصی اکنامک سازوں سے بھی خوشحالی اور تبدیلی آئے گی۔ راوٴ انوار کی عدم گرفتاری کے ڈانڈے پی پی کی سندھ حکومت سے ملائے جا رہے ہیں اور اسے سرپرست گردانا جا رہا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک بار پھر بطور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن سندھ تقرری نے کئی سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت کے دباوٴ پر سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اس فیصلے پر طلبہ و طالبات ہی نہیں تعلیمی ادارے بھی برہم ہیں اور پہلے روز ہی انجمن اساتذہ و کئی جامعات نے ہڑتال کا عندیہ دیا۔ ایک طرف صوبے میں پرائمری اور ہائی ایجوکیشن پسماندگی کا شکار ہے۔ ہزاروں سکول بند پڑے ہیں۔ فعال درسگاہوں میں بجلی، پانی، چاردیواری، فرنیچر اور ٹوائلٹ میسر نہیں۔ ایسے میں ہائر ایجوکیشن کمشن میں کرپشن کیسز کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر عاصم حسین کی تقرری خود سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ثبت کر گئی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی مفادات کے لئے سندھ میں تعلیم و صحت اور آمدورفت کی سکیموں کا بیڑہ جان بوجھ کر غرق کیا جا رہا ہے۔ مراد علی شاہ کے اچھے اقدامات بھی بطور وزیراعلیٰ ان کے دیگر اعلانات کو مسخ کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز کی اطلاع ہے کہ سندھ کے 1500 ڈاکٹر گزشتہ سات برس سے ڈیوٹی نہیں دے رہے لیکن حکومت سے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ اب ان کی برطرفی کی سمری چیف منسٹر مراد علی شاہ کی ٹیبل پر ہے۔
جس کے بعد نئی تقرریوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔ ماضی میں ہزاروں گھوسٹ اساتذہ کا معاملہ اخبارات کی زینت بنا تھا۔ سندھ مسائل کے جہنم میں جل رہا ہے لیکن اہل سیاست لاپروائی کے ساتھ اپنی انا کے پہاڑوں پر بیٹھے مفادات کی سیاست میں مصروف ہیں۔ صوبے کا عام آدمی اور اس کی مشکلات کسی کا ایجنڈہ نہیں۔ الیکشن 2018ء جولائی کے وسط تک متوقع نہیں۔ کیا سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں ان ناکامیوں کا بھی تذکرہ کریں گی۔ جنہیں انہوں نے 2013ء میں انتخابی وعدے کے طور منشور کا حصہ بنایا تھا ویسے بھی پی پی، متحدہ، ن لیگ، ق لیگ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی کسی نہ کسی حیثیت میں شریک اقتدار رہی ہیں۔
وقت اشاعت : 2018-02-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں