بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسلم لیگی دھڑوں کو متحد کرنیکی کوشش ناتمام
پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ اس وقت تیرہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں سے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ (ق)، عوامی مسلم لیگ، مسلم لیگ ضیاء الحق، مسلم لیگ چٹھہ، آل پاکستان مسلم لیگ نمایاں ہیں
فرخ سعید خواجہ
پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ اس وقت تیرہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں سے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ (ق)، عوامی مسلم لیگ، مسلم لیگ ضیاء الحق، مسلم لیگ چٹھہ، آل پاکستان مسلم لیگ نمایاں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تمام دھڑوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ نہ صرف اسے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیا دت حاصل ہے بلکہ قومی اسمبلی میں اسے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی حاصل ہونے کا اعزاز ہے۔
پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں بھی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہی ہے۔ پنجاب میں اس کے صدر میاں شہباز شریف صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ بلوچستان میں پارٹی کے صدر سردار ثناء اللہ زہری صوبے کی حکومت میں سینئر وزیر ہیں۔ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے معاہدے کے مطابق صوبائی حکومت بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنی حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) کے سردار ثناء الہ زہری وزارت اعلیٰ سنبھالیں گے۔

ماضی قریب میں مسلم لیگی دھڑوں کو ایک مسلم لیگ میں تبدیل کرنے کے لیے جناب مجید نظامی کی کوششیں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکی تھیں کہ جناب نواز شریف، پرویز مشرف کے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک مرتبہ پرویز مشرف نے مسلم لیگی دھڑوں کو متحدہ مسلم لیگ کے نام سے اکٹھا بھی کیا تاہم مختصر مدت میں ان کا شیرازہ بکھر گیا اور نئی دھڑے بندیاں سامنے آ گی تھیں۔
جناب مجید نظامی کی مسلم لیگ کو ایک کرنے کی کوششوں میں پیر پگاڑا مرحوم کی آشیرواد حاصل تھی۔ سلیم سیف اللہ بھی خاصے سرگرم رہے لیکن جب واضح ہو گیا کہ نواز شریف ایک مسلم لیگ میں دلچسپی نہیں رکھتے تو سب گھر بیٹھ گئے۔
سید غوث علی شاہ اور سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ دونوں ہی میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور ایک صوبہ سندھ دوسرا صوبہ پنجاب کا صدر رہا۔
اب دونوں ہی میاں نواز شریف سے ناراض ہیں۔ ان کی ناراضگی اب علیحدگی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مائنس مسلم لیگ (ن) مسلم لیگی دھڑوں کو ایک کرنے کے لیے ان دنوں جو کوششیں کی جا رہی ہیں ان میں سب سے زیادہ متحرک سید غوث علی شاہ ہیں۔ جنرل پرویز مشرف، پیرپگاڑہ اور چوہدری شجاعت حسین بھی مسلم لیگ کو ایک دیکھنا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف اور چوہدری شجاعت مسلم لیگ (ن) دشمنی میں ایسا چاہتے ہیں جبکہ پیر پگاڑہ فیشن کے طور پر ان کے ساتھ ہیں اور نہ جانے کب ان کا ساتھ چھوڑ کر میاں نواز شریف سے جا ملیں گے۔

مسلم لیگ ضیاء الحق کے سربراہ اعجاز الحق ان دنوں مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہیں۔ ان کو تاحال وفاقی وزارت نہیں ملی ہے بہت ممکن ہے کہ وہ مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کے لیے 7جون کے اجلاس میں جائیں اور بعد میں انہیں وفاقی وزیر بنا کر واپس گھر بلا لیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو وہاں جانے سے روکنے کے لیے وزیر بنا دیا جائے اور یہ بھی ناممکن نہیں ہے کہ اعجاز الحق جہاں پڑے ہوں وہاں ہی پڑا رہنے دیا جائے کہ خود ان کی اور ان کی سیاسی جماعت کی اب کوئی خاص اہمیت نہیں رہی۔
مسلم لیگ چٹھہ کے چوہدری حامد ناصر چٹھہ بھی میاں نواز شریف سے پرانا شخصی ٹکراؤ رکھتے ہیں۔ اس کا نواز شریف کی مسلم لیگ کے مقابلے میں بننے والی ایک مسلم لیگ میں جانا بنتا ہے۔ فی الحال حامد ناصر چٹھہ کی سیاست بھی دم توڑ چکی ہے۔ پہلے وہ اپنے حلقے کے مالک سیاستدان ہوتے تھے اب حلقہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ان کے ولی عہد بھی ان ہی کی طرح شہزادے ہیں جو حلقہ انتخاب کے باہر کے لوگوں سے ملنا جلنا زیادہ پسند نہیں کرتے۔
سلیم سیف اللہ بھی میاں نواز شریف کی طرف چلے گئے تھے۔ ان کی کسی اور طرف شمولیت کے امکانات بھی کم دکھائی دیتے ہیں جہاں تک شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ کا تعلق ہے اس کا بھی مائنسس مسلم لیگ (ن) اتحاد میں شامل ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہو گی۔
اب سوال یہ ہے کہ جنر ل پرویز مشرف، پیر پگاڑا سید صبغت اللہ شاہ راشدی، چوہدری شجاعت حسین، سید غوث علی شاہ، سردار ذوالفقار علی خاں کھوسہ، شیخ رشید احمد اور چوہدری حامد ناصر چٹھہ میں سے کون مجوزہ مسلم لیگ کا سربراہ ہو گا۔
پچھلے دنوں جنرل مشرف کی رہائش گاہ پر پیر پگاڑہ چوہدری شجاعت کی ملاقات کے بعد جنرل پرویز مشرف کو متحدہ مسلم لیگ کا سربراہ بنانے کی خبریں آئی تھیں۔ اب 7 جون کو سید غوث علی شاہ کی کراچی میں رہائش گاہ پر مسلم لیگی دھڑوں کے اجلاس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہ مانا کہ ایک زمانے میں جنرل پرویز مشرف ان لوگوں کے ”باس“ رہے ہیں لیکن اب ان کا چراغ جلتا دکھائی نہیں دیتا۔
وجہ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے باہر نکلنے سے پہلے حکام کو پیشگی اطلاع دیتا ہو اور حکام کے دیئے گئے وقت کے مطابق باہر نکلتا ہو اس کے متحدہ مسلم لیگ کا سربراہ بننے کے امکانات معدوم ہیں۔ متحدہ مسلم لیگ کو مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے مقابلے کی جماعت بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے کوئی متحرک شخص ہی موزوں سمجھا جائے گا جو نئی پارٹی کو ملک کے چاروں صوبوں میں منظم کرنے کے لیے دورے کر سکے۔
چوہدری شجاعت حسین اور پیر پگاڑہ مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔ سید غوث علی شاہ چونکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر ہیں لہٰذا ان کا چانس بھی بنتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ناراض لوگوں کو وہ اپنے ساتھ لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ حامد ناصر چٹھہ اپنی سستی اور سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی بزرگی کی وجہ سے سربراہی کی ریس میں شامل نہیں ہوں گے۔
البتہ شیخ رشید احمد ان مسلم لیگی دھڑوں کی لاٹ کے سب سے فعال اور متحرک سیاستدان ہونے کی حیثیت سے سامنے آ سکتے ہیں لیکن ایک سفید پوش گھرانے کے اس فرد کو بڑے مگر مچھ کب آگے آنے دیں گے۔ سو اب دیکھنا ہو گا کہ 7 جون کو سید غوث علی شاہ کی رہائش گاہ پر لاٹری کس کے نام نکالتی ہے۔ سید غوث علی شاہ نے پچھلے دنوں لاہور اور اسلام آباد کے جو طوفانی دورے کیے اور جس طرح خود کو بھاگ دوڑ کے لیے ’فٹ‘ ثابت کیا۔
اسی سے ان کا چانس بن سکے گا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ایک بات طے ہے کہ مائنسس مسلم لیگ (ن) مسلم لیگی دھڑے ایک جماعت میں تبدیل ہو جائیں تو ان کی سیاسی حیثیت بہرحال بہت اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس میں شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں کی اکثریت دنیا سے رخصت ہو چکی یا ضعیف العمری کے باعث غیر فعال ہے لیکن مسلم لیگی سوچ آج بھی پاکستان کی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں کی اولادیں آج بھی مسلم ل یگ کو مضبوط و فعال دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو میاں نواز شریف سے اس لیے ناراض ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو بطور سیاسی جماعت وہ حیثیت اور مقام نہیں دیتے جو اس کا حق ہے۔ اپنی جماعت کی سیاسی ٹیم کی بجائے بیورو کریسی پر انحصار کرنے کے باعث مسلم لیگ ن کی غیر فعالیت کے باعث وہ متبادل مسلم لیگ کے حامی بن سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان