بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایم کیو ایم پارلیمنٹ سے مستعفی
ایم کیو ایم کے ارکان کا موقف ہے کہ کراچی میں صرف ایم کیو ایم کو ٹارگٹ بنایا جارہا ہے اور ”مائنس ون “ کے فارمولے کے تحت الطاف حسین کو ملکی سیاست سے نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
نواز رضا
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم ہونے والے جو ڈیشل کمیشن جانب 2013ء کے عام انتخابات کو شفافیت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے ، آئین میں 18ویں اور21 ویں ترامیم کی سپریم کورٹ سے توثیق کر نے اور پاکستان تحریک انصاف کے 28ارکان کو ”ڈی سیٹ“ کرنے کی تحاریک کے واپس لینے کے بعد سیاسی منظر یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے ارکان نے کراچی آپریشن کے خلاف بطور احتجاج قومی اسمبلی ، سینیٹ اور سندھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دے دیئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ارکان کا موقف ہے کہ کراچی میں صرف ایم کیو ایم کو ٹارگٹ بنایا جارہا ہے اور ”مائنس ون “ کے فارمولے کے تحت الطاف حسین کو ملکی سیاست سے نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔لہذا ایم کیو ایم کے ارکان اپنے قائد الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے ارکان نے بدھ کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کی رکنیت سے استعفے دے دئیے منگل اور بدھ کی رات رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کے ارکان نے سپیکر اور سینیٹ کے ارکان نے چیئرمین کو استعفے پیش کئے پاکستان تحریک انصاف کے بعد ایم کیو ایم کے استعفے حکومت کیلئے ایک بہت بڑا سیاسی دباؤ بتائے جاتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی سیاست سے آؤٹ ہونے سے جہاں پارلیمنٹ کمزور ہوگی وہاں یہ اقدام وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت کے لئے بھی ایک دھچکا محسوس کیا جا رہاہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کی موجودگی کے بغیر نواز شریف حکومت کا استحکام متاثرہو گا۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کے نتیجے میں سندھ کے شہری علاقوں کے عوام پارلیمنٹ میں نمائندگی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی سیاست سے باہر ہونے سے کراچی کے حالات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی با شعور سیاسی کارکن کی یہی سوچ ہو سکتی ہے کہ ایم کیو ایم کی ہر صورت میں پارلیمنٹ میں موجودگی کی کوشش کی جانی چاہیے۔لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے ایم کیو ایم کو پارلیمنٹ میں رکھنے کے لئے کوئی شعوری کوشش نہیں کی جا رہی۔قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے بدھ کو قومی اسمبلی‘ سینٹ اور سندھ اسمبلی سے ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کو انتقام کا نشانہ بنانے‘ الطاف حسین کی براہ راست تقاریر پر پابندی عائد کرنے اور کارکنوں کے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کی وجہ سے کیا گیاہے۔
ایم کیو ایم کی سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں پر رینجرز نے غیر اعلانیہ پابندی عائد کردی ہے‘ ایم کیو ایم کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے‘ کراچی میں اسے نشانہ بنا کر رینجرز تحریک انصاف کے لئے راستہ ہموار کررہی ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے استعفے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف جس قومی اسمبلی کو” جعلی “ہونے کے طعنے دیتے تھکتی نہیں تھی اب قومی اسمبلی میں اپنی نشستوں براجمان ہو چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ سال موجودہ حکومت گرانے کے لئے جس طرح اسلام آباد پر ”چڑھائی “کی تھی اور ” امپائر“ کی انگلی اٹھانے کا انتظار کرتے 126 روز تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیئے رکھا ، بلا شبہ اسے اس میں ناکامی ہوئی۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت گرا سکی اور نہ ہی ”امپائر “ کی انگلی اٹھی بالآخر تھک ہار کر اس نے حکومت کی مرضی کے” ٹرمز آف ریفرنس“ پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کو اپنی” سیاسی فتح “ قرار دے دیا ہے۔
حالانکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے” ٹریپ“ میں آکر یہ اپنی ”سیاسی جنگ“ ہار چکی ہے۔تین چار ماہ تک اپنے حق میں فیصلہ آنے کا انتظار کرتے ہوئے بالآخر اسے جو ڈیشل کمیشن کے فیصلہ پر اپنی ”سیاست کے محل“ کو زمین بوس کر نا پڑا ہے۔ رہی سہی کسر 18ویں اور21ویں ترمیم کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے نکال دی ہے۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو تسلیم کر کے جہاں جمہوری نظام کو مستحکم کر دیا ہے وہاں آئے روز حکومت کے خلاف الزام تراشی کرنے والوں نے ”چپ“ سادھ لی ہے اگرچہ جمعیت علما ء اسلام (ف)اور ایم کیو ایم نے اپریل 2015ء میں پاکستان تحریک انصاف کے 28ارکان کو”بغیر اطلاع“ مسلسل 40روز غیر حاضر رہنے کی پاداش میں قومی اسمبلی سے ’‘’ڈی سیٹ“ کرنے کی تحاریک جمع کرا دی تھیں لیکن کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کے28 ارکان قومی اسمبلی ایوان میں واپس آئے تو ان کو” ڈی سیٹ“ کرنے کی تحاریک کا سامنا کرنا پڑے گا وزیر اعظم محمد نواز شریف خاص طور پر ایوان میں آئے اور اپنی تقریر میں جہاں پہلی بار مولانا فضل الرحمنٰ اور ایم کیو ایم سے پی ٹی آئی کے 28ارکان قومی اسمبلی کو ”ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لینے کی باضابطہ طور پر درخواست کی وہاں ان ہی کی ”فرمائش “پر سپیکر نے الطاف بھائی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
پی ٹی آئی کو سپیکر سردار ایاز صادق کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی ناراضگی مول لے کر الطاف بھائی کو فون کیا بالآخر قومی اسمبلی کے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی کوششوں سے جمعیت علما ء اسلام(ف) اور ایم کیو ایم پی ٹی آئی کے 28ارکان کی ایوان سے مسلسل 40روز غیر حاضری پر ”ڈی سیٹ“ کرنے کی تحریک واپس لینے پر آمادہ ہوئیں۔
ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے اپنی تحاریک پر ووٹنگ کرنے کا اصرار کرکے پاکستان تحریک انصاف کو” تگنی کا ناچ “نچا دیا تھا صورت حال اس حد تک خراب ہو گئی تھی کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کو جمعیت علما ء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ سے بات کرنا پڑی لیکن عمران خان ،وزیر اعظم محمد نواز شریف اور نہ ہی سپیکر سردار ایاز صادق کی ”نواز شات“ پر شکر گذار ہیں کہ انہوں نے ان کے سروں پر لٹکی”ڈی سیٹ “ کی تلوار ہٹوا ئی۔
عمران خان کی جماعت نے تو ایم کیو ایم کے خلاف” اعلان جنگ“ کر رکھا ہے اسی طرح وہ ہر وقت مولانا فضل الرحمن پر ادھار کھائے رہتے ہیں انہوں نے اپنے طرز عمل سے ”صلح صفائی“ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی لیکن حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو پارلیمنٹ کے اندر کردار ادا کرنے کے لئے ”چوہے بلی“ کا کھیل ختم کرا دیا اگر حکومت ان تحاریک کے حق میں ووٹ ڈالتی تو پوری تحریک انصاف قومی اسمبلی سے باہر ہو جاتی لیکن حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو ”مظلومیت“ کا ڈرامہ رچانے کا موقع نہیں دیا ڈی سیٹ کرنے کی ”تلوار“ ہٹائے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ”کپتان“ کی قیادت میں پیر کو پارلیمنٹ میں واپس آنے کا اعلان تو کر دیا لیکن پیر کو ایوان میں” کپتان“ نہ ا?ئے اور اب انہوں نے ایوان میں اپنی آمد کو این اے 122-کے بارے میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے مشروط کر دیا ہے۔
مخدوم جاوید ہاشمی ملتان سے خاص طور اسلام آباد آئے اور اپنے موقف کی صداقت ثابت ہونے پر پارلیمنٹ میں عمران خان کی واپسی پر استقبال کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان کے پروگرام میں تبدیلی کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مخدوم جاوید ہاشمی پارلیمنٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ” میں نے طاہر القادری اور عمران خان کی لندن میں ملاقات کے بعد ہی ” بغاوت“ کا فیصلہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے آج پارلیمنٹ و جمہوریت اپنی راہ پر گامزن ہے ان کے خیال میں دھرنے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور قوم کو پتہ چل سکے کہ دھرنے کے پیچھے کون تھا ؟ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کیلئے جدوجہد کی تھی اس کیلئے اپنی نشست بھی چھوڑ دی، اس جدوجہد کا ایک مرحلہ آج مکمل ہو گیا۔
آج عمران خان یہاں ہوتے تو ان کا استقبال کرتا اور مبارکباد دیتا، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ماضی کے لمحے یاد دلاتا، میں نے اپنا کمزور کندھا دے کر جمہوریت کو بچایا۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بعض ارکان عمران خان کے حالیہ بیانات پر شدید رد عمل کا اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے تمام ارکان بالخصوص پرجوش نوجوان پارلیمنٹیرینز کو پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی ایوان میں موجودگی کے موقع پر نہ صرف پر امن رہنے کی ہدایت کی ہے بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی تنقید کو تحمل سے برداشت کر نے کی تلقین کی ہے ادھر شاہ محمد قریشی نے بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر عمران خان کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کی گئی تو پھر کوئی حکومتی رکن ایوان میں تقریر نہیں کر سکے گا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پارلیمنٹ میں ”ٹمپریچر“ نہیں بڑھانا چاہتی لہذا اس نے پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کو ”دوستانہ ماحول “ فراہم کر دیا ہے جمعیت علما ء اسلام کے سربراہ مو لانا فضل الرحمن نے ”ڈی سیٹ “ کرنے کی تحریک کی واپسی کے عوض پارلیمنٹ کی بالادستی قرار داد منظور کرا لی موجودہ پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ کی بالاستی کی قرار داد منظوری دراصل مولانا فضل الرحمنٰ کی سیاسی کامیابی ہے ” کپتان“ پارلیمنٹ سے باہر جو جی چاہتا ہے کہہ دیتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب پارلیمنٹ کا رخ کرتے فی الحال وہ مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے آپ کو پارلیمنٹ سے باہر رکھ رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-14

(0) ووٹ وصول ہوئے