تازہ ترین : 1
MQM Ki Mushkilat Main Izafa

ایم کیو ایم کی مشکلات میں اضافہ

جن بعض جماعتوں نے کڑے وقت میں ساتھ نبھانے اور بے وفائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی انہوں نے 24 گھنٹے میں راہیں بدل لیں

شہزاد چغتائی:
سندھ میں وقت کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور ایم کیو ایم کی حلیف جماعتیں ساتھ چھوڑ رہی ہیں۔ جن بعض جماعتوں نے کڑے وقت میں ساتھ نبھانے اور بے وفائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی انہوں نے 24 گھنٹے میں راہیں بدل لیں۔ گورنر عشرت العباد گورنر ہاؤس میں سکون سے بیٹھے ہیں لیکن ان پر تلوار لٹک رہی ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کے لئے کوئی اشارہ نہیں ملا لیکن سیاسی حلقے ڈاکٹر عشرت العباد کی تبدیلی کے امکان کو نظرانداز نہیں کر رہے۔ اس دوران لیفٹیننٹ جنرل طارق وسیم غازی اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے جب ڈاکٹر عشرت العباد کی تبدیلی کی افواہیں اڑتی ہیں طارق وسیم غازی اور ڈاکٹر عاصم حسین کے نام زیر غور آتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر عشرت العباد گورنر ہاؤس میں بہت زیادہ پرسکون اور پراعتماد دکھائی دیتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو فون کر کے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ مستعفی نہ ہوں کیونکہ ان کے الگ ہونے سے سیاسی بحران بڑھ جائے گا اس لئے وہ تحمل سے کام لیں۔ حقیقت یہ ہے کی پیپلز پارٹی صوبے میں گورنر راج اور گورنر کی تبدیلی کے خلاف ہے کیونکہ جیالوں کو خدشہ ہے کہ پیپلز پارٹی مخالف گورنر کے تقرر پر ان کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی اور حکومت سندھ دباؤ میں آ جائے گی۔
اس لحاظ سے یہ ایک اہم بات ہے کہ سندھ میں گورنر تبدیل ہوں یا نہ ہوں کم از کم گورنر راج نہیں لگے گا۔ بعض حلقوں کے مطابق گورنر کی تبدیلی یا گورنر راج چینلوں کی خواہش پر نہیں لگ سکتا۔ گورنر سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے اس وقت افواہوں کا طوفان بدتمیزی بپا ہے لیکن یہ فیصلہ صرف وزیراعظم کو کرنا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد گورنر راج کا نفاذ بھی مشکل ہو گیا ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق اب ایک خبر یہ بھی آئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے گورنر کا عہدہ پیپلز پارٹی کو دینے کی پیشکش کی ہے اور ڈاکٹر عاصم حسین کوگورنر بنانے کا عندیہ دیا ہے جس پر سندھ کے مسلم لیگیوں میں احساس محرومی بڑھ گیا کیونکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ گورنر کا عہدہ ان کو ملنا چاہئے‘ اس عہدے پر پیپلز پارٹی کا کوئی حق نہیں ہے۔
گورنر سندھ کے عہدے کے لئے ایوان صدر میں مشاورت کی اطلاعات ہیں۔ جن اْمیدواروں کو اسلام آباد طلب کیا گیا ان میں صدر الدین ہاشوانی‘ حسین ہارون شامل ہیں۔ ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ پیپلز پارٹی مخالف گورنر لایا جائے جوکہ جام صادق کی طرح پیپلز پارٹی کا احتساب کرے۔ قانونی اور آئینی ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ18 ویں ترمیم کے بعد گورنر راج لگانا آسان نہیں۔
سینیٹر فروغ نسیم کہتے ہیں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری اسمبلی دے گی۔ جبکہ بعض آئینی اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف گورنر راج لگا سکتے ہیں۔ سیاسی حلقے گورنر راج کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت آپریشن کے حق میں ہے اور پیپلز پارٹی کی مدد سے تمام اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
سندھ میں جو مختلف سیاسی جماعتیں گورنرراج کے نفاذ کی حمایت کر رہی ہیں ان میں سر فہرست تحریک انصاف اور فنکشنل مسلم لیگ شامل ہیں۔ سندھ کے اپوزیشن لیڈر شہر یار مہر کہتے ہیں کہ سندھ کی بہتری کے لئے گورنر راج کی حمایت کریں گے۔
11 مارچ کو جب نائن زیرو پر جب چھاپہ پڑا تھا تو اسپیکر سندھ اسمبلی سمیت بعض رہنماؤں نے آپریشن کا خیرمقدم کیا تھا اور سراج درانی نے پیپلز پارٹی کو احتساب کے لئے پیش کر دیا تھا اور کہا تھا کہ پیپلز پارٹی میں کوئی مجرم ہو گا تو وہ ہاتھ سے پکڑ کر پیش کر دیں گے۔
سراج درانی نے ایم کیو ایم کو مشورہ دیا تھا وہ اپنی صفوں کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کریں۔ اب کراچی کے سیاسی حلقوں میں ان دنوں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے ریفرنس تیار کئے جا رہے ہیں۔ اس دوران آئے دن پیپلز پارٹی کی کرپشن کی کہانیاں اور افسانے میڈیا پر آ جاتے ہیں لیکن ان اطلاعات کی تصدیق کہیں نہیں ہوتی۔
اس طرح یہ پیپلز پارٹی کو ڈرانے اور دھمکانے کا معاملہ ہی لگتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لئے نوشتہ دیوار لکھا جا چکا ہے اور لکھنے والوں کے ایک ہاتھ میں گاجر اور ایک ہاتھ میں ڈنڈا ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے خلاف دھواں دھار بیانات کی جو کمی ہے اسے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پورا کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کو یہ خوف دامن گیر ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن رک نہ جائے انہوں نے کہاکہ ایک یورپی ملک اور یورپی یونین ایم کیو ایم کی پشت پر آ کر کھڑی ہو گئی ہے۔
دوسری سیاسی جماعتوں کی رال بھی ایم کیو ایم کے مینڈیٹ پر ٹپک رہی ہے۔ تحریک انصاف پورے کا پورا کیک ہڑپ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
نائن زیرو پر چھاپے کے بعد سندھ کی سیاست بھی تبدیل ہو گئی۔ ایم کیو ایم پس منظر میں چلی گئی اب سابق گورنر پنجاب محمد سرور سب کو یہ کہہ کر حیرت کے سمندر میں غوطے لگانے پر مجبور کر دیا ہے کہ سندھ میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہو گی۔
سیاسی حلقے کہتے ہیں سہاگن وہ ہو گی جس کو پیا چاہے گا۔ پیا کو اب برگر کلاس سے پیار ہو گیا ہے تو تحریک انصاف چھا سکتی ہے کیونکہ جام صادق ایک سیٹ پر سندھ کا مالک بن بیٹھا تھا تو تحریک انصاف ایک جماعت ہے۔ پاکستان رینجرز نے کراچی کے تمام علاقوں کی سڑکوں اور داخلی راستوں سے بیریئر ہٹانے اور آہنی گیٹ ختم کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی تھی‘ ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر کے اطراف تمام رکاوٹیں پہلے ہی رضاکارانہ طور پر ہٹا دی گئی تھیں، اب خیال تھا کہ بلاول ہاؤس کے اطراف میں بنی دیواریں گرائی جائیں گی۔
آپریشن کے کپتان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بیریئر ہٹانے کی مخالفت کر دی اور کہاکہ اس اقدام کے نتیجے میں اسٹریٹ کرائم بڑھ جائیں گے۔ نائن زیرو پر آپریشن کے بعد ایم کیو ایم کی حلیف جماعتوں کے ساتھ مفاہمت سبوتاڑ نہیں ہو سکی تھی لیکن اب وقت کے ساتھ فاصلے بڑھ رہے ہیں لیکن سیاسی تعاون برقرار ہے۔ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کی توپوں کے دہانے ایم کیو ایم کے خلاف زہر اگلنے سے گریزاں ہیں صرف جماعت اسلامی میدان میں ہے۔
ایم کیو ایم ملک کی واحد جماعت ہے جو کہ کٹہرے میں کھڑی ہے۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ اس آپریشن کا فائدہ ایم کیو ایم کو ہو گا اور وہ جرائم پیشہ عناصر سے پاک ہو جائے گی۔ درحقیقت آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف نہیں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بات ایم کیو ایم کو بھی سمجھنا چاہئے اور عوام کو بھی بتانا چاہئے۔ کراچی کے لئے یہ آخری چانس ہے اس بار امن قائم نہیں ہو سکا تو پھر یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اس مرتبہ جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع ضروری ہے۔
وقت اشاعت : 2015-03-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں