تازہ ترین : 1
MQM Ka Sindh Hakomat Main Shamoliyat

ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت

ایک ایسے موقع پر جب اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کافارمولا طے پاگیا اور وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق رائےہوگیاہےبعض حلقوں کویقین نہیں کہ افہام وتفہیم کی بیل منڈھے چڑھےگی

شہزاد چغتائی:
حکومت میں شمولیت کیلئے ایم کیو ایم اورپیپلز پارٹی کے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے۔ ایک ایسے موقع پر جب اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کافارمولا طے پاگیا اور وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق رائے ہوگیا ہے بعض حلقوں کو یقین نہیں کہ افہام وتفہیم کی بیل منڈھے چڑھے گی۔
پیپلز پارٹی کے بعض رہنماوٴں نے ایم کیو ایم کی شمولیت کو ویٹو کردیا ہے تو ایم کیو ایم میں بھی پیپلز پارٹی مخالف گروپ سرگرم ہے۔پیپلز پارٹی نے دبئی کے مذاکرات میں ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دیدی تھی لیکن انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ گومگو کی کیفیت کے باعث سندھ سیکریٹریٹ اور وزارتوں میں کام ٹھپ ہوگیا ہے تمام محکموں میں سیکریٹری اورعملہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔
کابینہ میں جہاں کئی ایک قلمدان ابھی خالی ہیں وہیں کئی وزراء کے سر پر تلوار بھی لٹک رہی ہے اوروہ وزارت چھن جانے کے خوف میں نفسیاتی دباوٴ کا شکار ہو گئے ہیں۔ جن وزراء کے قلمدان محفوظ ہیں بلا شبہ وہ کابینہ میں ایم کیو ایم کی چند دن میں شمولیت کی نوید سنارہے ہیں۔ جن وزراء کو وزارت ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ ہے۔ وہ میڈیا کے سوالوں پر برہم دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزارت کے جو امیدوار شیروانیاں اور اچکن سلائے بیٹھے ہیں اور ان کیلئے انتظار کے لمحے طویل سے طویل ہوتے جارہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان کراچی اوردبئی میں بات چیت کے کئی دور ہوئے جن میں گورنر سندھ عشرت العباد اورسابق صدر آصف علی زرداری ایم کیوا یم کے قائد الطاف حسین کے دست راست ندیم نصرت نے بھی حصہ لیا۔ ندیم نصرت گفت شنید کیلئے خاص طورپر لندن سے دبئی آئے اورپھر معاملات طے کرکے واپس چلے گئے۔
اس دوران عامر خان اورفاروق ستار کوبھی صلاح ومشورے کیلئے لندن طلب کیا گیا۔ یہ بات اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان میڈیا وار بند ہوچکی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے انتہا پسند بھی میدان میں ہیں۔ جن کو گفت وشنید کا یہ ماحول پسند نہیں۔ ان میں ایم کیو ایم کے مخالفین سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے بدخواہ سرگرم ہیں۔
کیونکہ ایم کیو ایم کے شامل ہونے سے سید قائم علی شاہ مضبوط ہوجائیں گے جن کو تھرمیں ہلاکتوں کے بحران سے کامیابی کے ساتھ نکل جانے کے بعد نئی سیاسی لیز مل جائے گی۔ اس صورت حال سے وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کو بہت مایوسی ہوئی ہے۔دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے رابطوں کی ایک اہم بات یہ تھی زیادہ تر معاملات ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اورسابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان طے ہوئے۔
اعلیٰ سطح پرہونے والے رابطوں کا سبب یہ تھا کہ ہر بار نچلی سطح پر ہونے والے مذاکرات کو سبوتاڑ کردیاجاتا تھا اس بار آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو کو بھی آن بورڈ لیا یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے پر پیپلز پارٹی میں اختلافات موجود ہیں۔قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایم کیو ایم کی کھل کرمخالفت کی ہے اورایم کیو ایم کو جمہوریت دشمن جماعت قرار دیا ہے خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ہم فوج کو مارشل لاء کی دعوت دینے والوں کو کیسے حکومت میں شامل کرسکتے ہیں اور اگر ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو پھر بحالی جمہوریت کیلئے ہماری قربانیاں بیکار جائیں گی۔
سیاسی ماہرین نے شاہ کے بیان کو مذاکرات کو سبوتاڑ کرنے کی شعوری کوششیں قرار دیا کیونکہ اس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوئے اورہم آہنگی پارہ پارہ پیدا ہوگئی۔ یہ خدشات تو بہت پہلے سے موجود تھے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں گے اورمفاہمت دھری کی دھری رہ جائے گی۔سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ خورشید شاہ جن کا شمار پیپلز پارٹی کے ہارڈ لائنر میں ہوتا ہے قیادت کی آشیرباد کے بغیر اتنا سخت بیان نہیں دے سکتے۔
خورشید شاہ ایم کیو ایم کی کابینہ میں شمولیت پر جس قدر برہم ہوئے اتنے سخت ردعمل کا مظاہرہ تو مسلم لیگ(ن) نے بھی نہیں کیا۔ سیاسی پنڈٹ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ بیان خورشید شاہ کا نہیں ہے بلکہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی خواہش پر دیا۔ کیونکہ دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت کا حصہ ہیں۔
دریں اثناء ایک ایسے موقع پر جب کراچی میں 23مارچ کے حوالے سے تقاریب ہورہی ہیں اوراظہار یکجہتی کیاجارہا تھا۔
جئے سندھ قومی محاذ نے آزادی مارچ کرکے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ جسقم کے کارکنوں نے پاکستان کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں کے شرکاء پر حملہ کردیا توڑ پھوڑ کی اورسیاسی کارکنوں کو زخمی کردیا۔ اس موقع پر جسقم کے کارکنوں نے لوٹ مار کی اور سیاسی جماعتوں کے پرچم اکھاڑ دیئے۔ مار پیٹ کے واقعات میں سنی تحریک کے تین کارکن زخمی بھی ہوئے۔
گلشن حدید سے تبت سینٹر تک نکالی جا نے وا لی ریلی کے شرکاء نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اورقومی پرچم کی توہین کی لیکن پولیس و انتظامیہ سمیت حکومت بھی خاموش تماشائی بنی رہی اور کسی نے جسقم کے مشتعل کارکنوں کو روکنے کی کوششیں نہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی قوم پرست جماعت کی جانب سے کراچی میں آزادی ریلی نکالی گئی ہو۔جئے سندھ قومی محاذ کی ریلی میں نہ صرف پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے بلکہ اسٹیل مل سے لے کر ایم اے جناح روڈ تک اشتعال انگیز نعرے لکھ دیئے گئے۔
ا س دوران شرکاء نے جگہ جگہ راہ گیروں کو پریشان کیا۔ جسقم کے جلسہ کا آغاز سندھو دیش کے ترانے سے کیا گیا جئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ صنعان قریشی نے دھرتی کے بیٹوں کو اپنی تحریک کا بانی قرار دیا۔بھارت امریکہ اوراسرائیل سے آزادی کی مدد طلب کی اس جسقم کی آزادی ریلی کے بعد سیاسی حلقوں میں ریلی کی کامیابی موضوع بحث بنی رہی اورسوال کیا گیا کہ ریلی کا پس پردہ سرپرست کون ہے۔
جئے سندھ قومی محاذ کے پاس اتنے وسائل اورپیسے کہاں سے آئے۔ ریلی کے شرکاء کی تعداد حیران کن حد تک زیادہ تھی۔ جس میں مقامی آبادی کے لوگ نہیں تھے اور تمام شرکاء اندرون سندھ سے بسوں میں بھر کر آئے تھے۔ یہ بات کوئی ماننے کیلئے تیار نہیں تھا کہ شرکاء رضاکارانہ طورپر آئے۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جئے سندھ قومی محاذ کے سابق چیئرمین بشیر قریشی کے بھائی مقصود قریشی اوران کے ساتھیوں کو زندہ جلانے کے واقعہ کے بعد پورے سندھ میں جسقم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوا اورپارٹی کیلئے ہمدردیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
سندھ اسمبلی نے بھی سیاستدانوں کو زندہ جلانے کے واقعات کی مذمت کی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی اظہار افسوس کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنماوٴں نے ریلی میں شرکت کی لیکن جئے سندھ قومی محاذ کے کارکنوں نے ایم کیو ایم کے پرچم اتارکر روندھ ڈالے جبکہ جسقم نے تبت سینٹر پرقوت کامظاہرہ کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت کو چیلنج کیا۔ دوران یوم پاکستان پر مزار قائد کے اطراف کئی سیاسی جماعتوں نے جلسہ عام کیے اورریلیاں نکالیں جن میں جماعت اسلامی کا نشتر پارک میں ہونے والا جلسہ عام بہت شاندار اوربڑا تھا تحفظ پاکستان کنونشن کے نام سے ہونے والے اس جلسہ عام سے جماعت اسلامی کے امیر منورحسن ‘ معراج الہدیٰ‘ پروفیسر ابراہیم اوردیگر مقررین نے خطاب کیا اس موقع پرنشتر پارک بقعہ نور بنا رہا اورجلسہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
دوسری جانب جماعت الدعوة کی جانب سے بھی سفاری پارک سے پریس کلب تک نظریہ پاکستان ریلی نکالی گئی۔
وقت اشاعت : 2014-03-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں