تازہ ترین : 1
Makhdom Ahmad Mehmod Ko PPP Dubai Ijlas Mian Na Bulane Per Chey Magoiyaan

مخدوم احمد محمود کو پیپلز پارٹی دبئی اجلاس میں نہ بلانے پر چہ مگوئیاں

تحریک انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔۔۔۔ 13 رکنی ڈسٹرکٹ آرگنائزنگ کمیٹی کا اعلان

احسان الحق:
تین دسمبر کو تیسرے مرحلے میں منعقد ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں توقع ظاہر کی جار ہی تھی کہ ضلع بھر میں پاکستان تحریک انصاف ، ن لیگ اور پی پی پی کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کرئے گی لیکن پی ٹی آئی کی ضلعی تنظیم میں پیدا ہونے والے غیر معمولی اختلافات اور پی پی پی کے کمزور تنظیمی ڈھانچے کے باعث اب توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ رحیم یار خان میں ن لیگ کو ان بلدیاتی انتخابات میں فتح کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑ گی تاہم ان حالات میں ن لیگ کے ٹکٹ کے حصول کے لیے بلدیاتی امیدواروں کو سخت ”محنت“ کی ضرورت پڑے گی۔

پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی کی ضلعی تنظیموں میں غیر معمولی اختلافات بارے خبریں اکثر ذرائع ابلاغ کا موضوع رہتی ہیں لیکن رحیم یار خان پنجاب بھر میں پہلا ضلع ہے جہاں پی ٹی آئی کے ضلعی آرگنائزر کو عہدے سے ہٹاکر ایک 13 رکنی ڈسٹرکٹ آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے مگر حیران کن طور پر کسی بھی رکن کو اس کمیٹی کا سربراہ نامزد نہیں کیا گیا جس سے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کی ضلعی تنظیم میں اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب ضلعی تنظیم کی سخت مخالفت کے باوجود پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کے سابق ضلعی صدر رانا راحیل احمد خاں کو ڈسٹرکٹ آرگنائزر مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک 19 رکنی ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو کمیٹی (ڈی ای سی) کا بھی اعلان کیا اور اس ڈی ای سی کو یہ مینڈیٹ بھی دیا گیا کہ وہ آمد بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کو اکثریت رائے کی بنیاد پارٹی ٹکٹ جاری کریگ مگر کچھ عرصہ قبل مذکورہ ڈی ای سی کے پہلے اجلاس میں ہی نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور ڈی ای سی بعض ارکان نے رانا راحیل احمد کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان پر الزام بھی لگایا کہ انہوں نے 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر پیسے لیکر پارٹی ٹکٹ جاری کئے۔
دھینگا مشتی کے باعث ختم ہونے والے اجلاس کے بعد ڈی ای سی کے 19 میں سے 15 ارکان نے سابق صوبائی وزیر مال چوہدری شوکت داوٴد کی سربراہی میں ضلعی آرگنائزر رانا راحیل احمد کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی آرگنائزر شاہ محمود قریشی سے رانا راحیل احمد خاں کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شاہ محمود قریشی نے ڈی ای سی کے تمام 19 ارکان کو ہنگامی طور پر لاہور طلب کر لیا جہاں ایک اجلاس کے دوران ڈی ای سی کے 15 ارکان نے کھلے عام رانا راحیل احمد خاں کے خلاف عدم اعتماد کی ناصرف حمایت کا اعلان کیا بلکہ آئندہ ان کی زیر صدارت کسی بھی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کردیا۔
ڈی ای سی کے 15ارکان کی جانب سے پارٹی کے ضلعی آرگنائزر کے خلاف عدم اعتماد کے بعد چند روز قبل شاہ محمود قریشی نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے رانا راحیل احمد خاں کو ضلعی آرگنائزر کے عہدے سے ہٹا کر ایک نئی13 رکنی ڈسٹرکٹ آرگنائزر کمیٹی کا اعلان کر دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چند روز قبل دبئی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کی عدم شرکت کوبھی سیاسی حلقوں میں حیرت کا نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
کچھ عرصہ قبل تک مخدوم سید احمد محمود کی جانب سے پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی بنانے کے دعوے اور انکی جانب سے آصف علی زرداری اسے انکی غیر معمولی قربت سے دعووٴں کے باوجود انہیں اس اجلاس میں نہ بلایا جانا جنوبی پنجاب اورخاص طور پر رحیم یار خان کے سیاسی حلقوں میں ایک خاص نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ کیا مخدوم سید احمد محمود کسی نئی سیاسی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔
یا وہ اپنے گروپ سمیت ذوالفقار کھوسہ والی مسلم لیگ میں شمولیت کرنا چاہ رہے ہیں؟ یہ ہیں وہ اہم سوالات جو آج کل سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ آپ سب کے علم میں ہوگا کہ 2013 کے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں ٹریپ کرتے ہوئے گورنر پنجاب بنانے کے وعدے پر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کرایا تھا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے حلف برداری کے موقع پر ہی انہیں تین ماہ کا گورنر پنجاب قرار دیا تھا لیکن شاید مخدوم سید احمد محمود کو اس وقت میاں شہباز شریف کی بات کی سمجھ نہ آئی تھی۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق مخدوم سید احمد محمود کا پاکستان پیپلز پارٹی میں قیام اب شاید زیادہ دیر تک ہوتا دکھائی نہیں دے رہا لیکن وہ کس نئی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں یہ شاید فیصلہ کرنا مخدوم سید احمد محمود کے لیے کافی مشکل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے انہیں جہانگیر ترین، پاکستان مسلم لیگ ن نے ضلع کی ایک با اثر سیاسی وکاروباری شخصیت جبکہ پاکستان مسلم لیگ فنکشل میں انہیں پیر پگاڑا جیسی قدآور شخصیت کی مخالفت کا سامنا ہے۔

وقت اشاعت : 2015-10-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں