تازہ ترین : 1
Madhoosh Parliament

مدہوش پارلیمان

جمشید دستی کا الزام کیا گل کھلائے گا؟ جمشید دستی کا مذکورہ بالا بیان سامنے آنے کے بعد بعض اراکین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ وزیر داخلہ نے اس الزام کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا

محمد نعیم مرزا:
مظفر گڑھ سے آزاد حیثیت میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے جمشید دستی نے اپنے ساتھی اراکین پارلیمان پر شراب نوشی اور دیگر مخرب الاخلاق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ ان کے اس الزام کی ڈھکے چھپے الفاظ میں بعض اراکین نے تصدیق بھی کی ہے۔
بنیل گبول نے بیان دیا کہ اس الزام میں حقیقت کا عنصر موجود ہے کیونکہ خود انہوں نے بھی دو ”ڈائنوں“ کو پارلیمنٹ لاجز میں گھومتے پھرتے دیکھا ہے۔
جمشید دستی کا مذکورہ بالا بیان سامنے آنے کے بعد بعض اراکین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ وزیر داخلہ نے اس الزام کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تو فاٹا سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین نے اسے پارلیمان کے خلاف سازش سمجھا۔
مولانا فضل الرحمن اس بیان پر اس قدر سیخ پا ہوئے کہ انہوں نے فرمایا؟ ”باقی پورا ملک پاک صاف ہے جو اراکین پارلیمان پر شراب نوشی کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔“ قومی اسمبلی کے سپیکر نے جمشید دستی سے اس بیان کے حوالے سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہ اکہ وہ بمعہ ثبوت ان کے چیمبر میں ملاقات کریں بصوردت دیگر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمشید دستی نے دوسی ڈیز پر مشتمل ثبوت سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کردئیے ہیں۔ بلکہ وہ پارلیمنٹ لاجز کے احاطے سے جمع کردہ شراب کی خالی بوتلیں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں عوام ی ملاحظے کیلئے بھی پیش کرچکے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمشید دستی کی جانب سے اراکین پارلیمان پر (اگرچہ انہوں نے کسی رکن کا نام نہیں لیا) سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے ان کی تحقیقات کرانے کی بجائے فوراََ وزیر داخلہ کی جانب سے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ کیونکر قرار دے دیاگیا؟ جمشید دستی کے الزامات کی تحقیقات میں کیا رکاوٹ مانع تھی؟
ہمارے سیاستدان پارلیمان کو مقدس ترین ادارہ قرار دیتے ہیں۔
18کروڑ عوام کی نمائندگی کا مظہر یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ اس ملک کے عوال کے نظریات امنگوں اور جمہوریت کا علمبردار بھی ہے۔ اس عمارت میں محض سیاسی لرائی جھگڑے ہی نہیں ہوتے بلکہ آئین جیسی مقدس دستاویز نہ صرف یہی تیار ہوتی ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کے دعوے بھی یہیں کئے جاتے ہیں۔ اس مقدس ایوان کے اراکین میں سے کسی کو ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی کرنے سے روک دیا جائے تو ایوان میں مذکورہ رکن کی جانب سے تحریک استحقاق پیش کردی جاتی ہے اور ایک طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ مقدس ایوان کی توہین ہوئی ہے۔
جمشید دستی نے اگر جھوٹے الزامات عائدکیے ہیں تو یہ یقیناََ مقدس ایوان کے مقدس ترین اراکین کی توہین کے زمرے میں آتا ہے لیکن اگر انکی جانب سے عائد کردہ الزامات میں رتی برابر بھی حقیقت ہے تو جو اراکین پارلیمان اس مقدس مقام پر شراب نوشی اور دیگر مکروہات کے مرتکب ہوئے ہیں، انہوں نے 18کروڑ عوام، آئین پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی توہین کی ہے۔
ہر دو صورتوں میں معاملے کی سنگینی واضح ہے۔
ہمارے معاشرے میں قانون کا نفاذ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کا بازو مڑوڑنے کی صلاحیت اور قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسالام آباد میں ایک گاڑی میں سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے پر اس گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا۔ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ شراب کی بوتلیں بعض اراکین پارلیمان کے لئے جارہی تھیں۔
تفتیش کاروں کے منہ کو فوراََ چپ لگ گئی۔ ریکارڈ کا پیٹ بھرنے کے لئے ڈرائیور کو سزا دے دی گئی اور ان اراکین پارلیمان کی طرف کسی نے میلی تو کیا صاف شفاف آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرات نہیں کی جن کیلئے یہ شخص شراب لے کر جارہا تھا۔
جمشید دستی کے الزامات میں حقیقت کا عنصر کس حد تک ہے، اس سے عوام سمیت تمام صاحبان اقتدار و اختیار بھی بخوبی واقف ہیں لیکن اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت بہر حال درکار ہیں۔

اراکین پارلیمان کی اہلیت کا فیصلہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62اور 63کی روشنی میں ہوتا ہے۔ آرٹیکل 62میں رکن پارلیمان کی اہلیت کے حوالے سے جو معیار مقرر کیا گیا ہے اس کے مطابق اس شخص کا باکرداد، اسلامی تعلیمات سے آگاہ اور اسلام کے احکامات کا پابند، صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ تاہم آرٹیکل 63جو رکن اسمبلی کی نا اہلی طے کرتا ہے ، اس میں شراب نوش شخص کے حوالے سے کوئی ذکر موجود نہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کسی رکن پارلیمان پر شراب نوشی یا مخرب الاخلاق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اس کے باوجود اس کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ جو شخص آرٹیکل 62کی شرائط پر پورا نہیں اترتا وہ رکن پارلیمان منتخب ہونے کی اہلیت سے عاری سمجھا جائے گا۔ شراب نوشی ہر پاکستان مسلم کیلئے قانوناََ جرم ہے اور اسی نوعیت کے جرم میں ملوث شخص رکن پارلیمان منتخب ہونے کا اہل نہیں اور اگر وہ رکن ہے تو پھر اسے اس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہتا۔
جمشید دستی کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے قبل ہی ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجز کوتبدیل کردیا گیا جو اس معاملے کو مزید مشکوک بنانے کیلئے کافی ہے۔
جمشید دستی کے عائد کردہ الزامات اگر درست ثابت ہوجاتے ہیں۔ تو پھر اس صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی ملوث پائے جانے والے اراکین کے خلاف ریفرنسز الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوائیں گے جو الزامات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔

سابق وزیر قانون اور سینئر وکیل ایس ایم ظفر کے مطابق جمشید دستی کے عائد کردہ الزامات درست ہیں تو یہ ملک کے عوام کیلئے ایک انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ تاہم ان الزامات کے تحت کسی رکن پارلیمان کو ناہال قرار دینا انتہائی کٹھن کام ہے کیونکہ ان کی کئی سطح پر تحقیقات کی جائیں گی اور اس کے بعد ہی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔ جہاں تک کسی رکن اسمبلی کے باکرداد ہونے کا تعلق ہے تو یہ سوال کے حوالے سے یہ سوال انتخابات سے پہلے تو اٹھایا جاسکتا ہے لیکن منتخب رکن اسمبلی کے حوالسے سے یہ سوال کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔
رکن اسمبلی کے نااہل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ قانون کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہو یا اس کے کسی قدم سے ریاست کے مفادات کو زک پہنچی ہو اور جمشید دستی نے جو الزامات عائد کئے ہیں وہ اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو شمار کئے جاسکتے ہیں لیکن انہیں قانون ریاست کی خلاف ورزی قرار دینا مشکل ہے۔
عابد حسین منٹو کا شمار بھی ملک کے سینئر ترین قانون دانوں میں ہوتا ہے اور ان کے خیال میں اراکین پارلیمان کی نجی سرگرمیوں کے حوالے سے الزامات عائد کئے ہیں اور اس کیلئے یہ دیکھا ضروری ہوگا کہ کسی کی نجی سرگرمی سے الزام لگانے والا کس طرح متاثر ہوا ہے۔
جمشید دستی کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ ان کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کراسکتے ہیں۔ جہاں تک پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی کسی غیر اخلاقی سرگرمی کا سوال ہے تو اس کے مرتکب رکن کے خلاف نظم ضبط کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ تاہم اسے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اور سپریم کورٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد یٰسین کے خیال میں اسپیکر قومی اسمبلی کو جمشید دستی کی جانب سے عائد کئے جانے والی الزامات کی مکمل تحقیقات کرانی چاہئیں اور اگر کوئی رکن اسمبلی اس میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور اسے اس مقدس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے یہ عوام کے ساتھ صریح ناانصافی ہوگی کہ ان کی نمائندگی کرنے والے غیر اخلاقی حرکات میں ملوث پائے جائیں۔
وقت اشاعت : 2014-03-15

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں