تازہ ترین : 1
London Plan K Ghalib Ane Ka Andesha

لندن پلان کے غالب آنے کا اندیشہ

سانحہ پشاور کے بعد قومی سطح پر جو اتفاق رائے پیدا ہوا تھا وہ ایک ماہ سے قبل ہی ختم ہو تا نظرآرہا ہے قومی سیاسی و عسکری قیادت کی تیسری کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں 21 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم پر اتفاق رائے ہوا تھا

نواز رضا:
سانحہ پشاور کے بعد قومی سطح پر جو اتفاق رائے پیدا ہوا تھا وہ ایک ماہ سے قبل ہی ختم ہو تا نظرآرہا ہے قومی سیاسی و عسکری قیادت کی تیسری کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں 21 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ لیکن جب پارلیمنٹ میں 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل آیا تو جمعیت علما ء اسلام(ف) اور جماعت اسلامی نے اجلاس سے اپنے آپ کو جدا obstain رکھ کر ناراضی کا اظہار کیا۔
اسی طرح تحریک انصاف نے قومی سیاسی و عسکری قیادت کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی لیکن قومی اسمبلی میں اپنے ارکان کے استعفے دے رکھنے کی وجہ سے اس نے ووٹ دینے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ عمران خان نے پشاور میں قومی سیاسی و عسکری کی پہلی کانفرنس میں شرکت کے بعدڈی چوک میں دھرنا ختم کرنے کا یک طرفہ اعلان کر دیا تھا ۔اس کے بعد حکومت نے بھی تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی میز سجا دی لیکن تاحال تحریک انصاف کی قیادت کی مرضی کا جوڈیشل کمشن قائم ہو سکا اور نہ ہی حکومت نے اپنے رویہ میں لچک پیدا کی۔
جو ڈیشل کمیشن کے قیام پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ڈیڈ لاک کے بعد عمران خان نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لئے ایک بار پھر 18جنوری2015ء کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اس دوران پل کے نیچے سے دریا کا خاصا پانی بہہ چکا ہے۔ عمران خان نے اینکر پرسن ریحام خان سے شادی رچا لی ہے اگلے ہی روز اپنے بجلی کے واجبات جمع کر وا کر اپنی ہی اعلان کردہ ”سول نافرمانی“ کی تحریک کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ہے۔
لیکن تحریک انصاف کی کور کمیٹی عمران خان کو دوسری شادی کی چھٹیاں منانے کا موقع نہیں دینا چاہتی اورمطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 18جنوری 2015ء کو اسلام آباد میں کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جہاں انہوں نے 126روز تک ”دھرنا“ دیئے رکھا ، عمران خان کا پہلے ہی پورا سال ”دھرنے اور جلسے جلوسوں “ کی بھینٹ چڑھ گیا اب 2015ء کا آغاز ہوا ہی ہے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے یکے بعد دیگرے اپنے احتجاجی پروگرام کا اعلان کر دیا ہے اسے حسن اتفاق کہیے یاکچھ اور یہ احتجاجی پروگرام عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ”لندان پلان۔ پارٹ 2“ کا حصہ نظر آتا ہے ڈاکٹر طاہر القادری دھرنے کی ناکامی کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بیرون ملک سدھار گئے تھے اسی طرح عمران خان نے جن حالات میں دھرنے کو ختم کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
سر دست عمران خان نے دھرنے کی غلطی نہ دھرانے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے سڑکوں پر نکلنے کا پرو گرام بنایا ہے لاہور کے حلقہ این اے 122کا حلقہ کھلنے کے بعد حکومت کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف نے 18جنوری سے مرحلہ وار تمام بڑے شہروں میں ورکرز کنونشن دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔ 18جنوری کو پہلا ورکرز کنونشن اسلام آباد،یکم فروری کو کراچی، 8 فروری کو لاہور، 15فروری 2015ء کو پشاور میں کنونشن منعقد کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق 18جنوری کو ورکر کنونشن ڈی چوک کی بجائے نجی ریسٹورنٹ میں ہو گا۔ جس سے عمران خان خطاب کریں گے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف نہ ملنے پر پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے ، پہلے مرحلے میں 17جنوری 2015ء کو لاہور میں مظاہرہ ہو گا۔ عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی نے کہا کہ سانحہ پر بہت صبر کرلیا، شہداء کے خون کے حساب کیلئے ہر حد تک جائیں گے، توقیر شاہ کے خلاف دستخطی مہم شروع کی جائے گی۔
ادھر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ڈی چوک میں جلسے اور مظاہرے کرنے کے خلاف قانون سازی کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ میوزک پارٹی کے عادی ہوگئے ہیں ، ڈی چوک میں ہنگامہ آرائی کی دوبارہ سازش کی جارہی ہے ڈی چوک اہم ترین جگہ پر ہے ، 3 ماہ یہاں پر ہنگامہ کرکے ایک ڈرامہ چلایا گیا ہے ، ہم اس سازش کے خلاف سب متحد تھے ، اب پھر اسی ڈرامے کی سازش کی جارہی ہے الیکشن ٹریبونل کے احکامات پر لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 کے ووٹوں کی تصدیق کیلئے جاری عمل کے دوران تحریک انصاف کی طرف سے 24ہزار سے زائد ووٹوں کے جعلی ہونے کے تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں ‘ 11مئی 2013ء کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق نے اس حلقہ سے 78377 جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 68765 ووٹ حاصل کئے تھے۔
سردار ایاز صادق نے اس حلقہ سے 9612 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ابھی تک الیکشن ٹریبونل کو جمع کرائی گئی رپورٹ کی مصدقہ تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں لیکن ابھی تک موصول ہونے والی اخباری اطلاعات کے مطابق 234 پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹوں کا تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد ایاز صادق کی سبقت 9612 سے بڑھ کر 9701 ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف جن 24000 ووٹوں کے جعلی ہونے کا دعویٰ کررہی ہے وہ جعلی نہیں ان پر پریذائیڈنگ آفیسر کے یا تو دستخط یا پھر مہر نہیں ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر 24000 میں سے 50 فیصد سے زائد ووٹ تحریک انصاف کے حق میں کاسٹ ہوئے ہیں جہاں سے تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے۔ ان ووٹوں کی وجہ سے اس حلقہ کے نتیجہ پر کسی طرح کوئی اثر نہیں پڑ تا۔ کیونکہ ان تمام ووٹوں پر ووٹر کے انگوٹھے کا نشان اور شناختی کارڈ نمبر موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پر ویز رشید نے کہا ہے کہ، اگر ایک بیلٹ پیپر بھی اردو بازار سے چھپا ثابت ہوجائے تو عمران خان کے گلے میں ہار ڈال کر استعفاٰ دیکر گھرچلا جاؤں گا۔
عمران خان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ سچ بولنا کب سیکھیں گے؟ انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر کمیشن کی رپورٹ میں 30 سے 34 ہزار ووٹ بوگس لکھے ہوں یا کہیں پر لفظ بوگس لکھا ہو ہو تو خود جا کر سردار ایاز صادق سے استعفاٰ لے لوں گا اور جا کر قومی اسمبلی میں پیش کردوں گا۔ تبدیل شدہ صورت حال اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ این اے 122کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد حکومت کا جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بارے میں رویہ سخت ہو گیا ہے۔
حکومت تحریک انصاف کی ٹرمز آف ریفرنس پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنائے گی۔ حکومت صرف اس بات کی تحقیقات کرانا چاہتی ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) کسی مرحلہ پر مبینہ دھندلی میں شریک تھی۔جب کہ تحریک انصاف تحقیقات کے نتیجہ میں از سر نو انتخاب کا مطالبہ کر رہی ہے جو تحریک انصاف کی ” بارگینگ پاور“ کمزور ہونے کی صورت میں حکومت قبول نہیں کر رہی۔
اب کی بار حکومت نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو فری ہینڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اسلام آباد پر چڑھائی کی دوبارہ اجازت دینے کی غلطی کا اعادہ نہیں کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ”لندن پلان۔پارٹ 2پر مارچ 2015ء کے اوائل میں عمل درآمد کر سکے گی کہ نہیں آئین میں 21 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جمعیت علما ء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن دینی جماعتوں کو کا محاذ بنانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئے ہیں وہ دینی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے متحرک نظر آتے ہیں۔
جے یو آئی ف کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کی خیبرپختونخوا کی حکومت میں شمولیت دینی جماعتوں کے اتحاد میں رکاوٹ بن سکتی ہے سر دست متحدہ مجلس عمل کی بحالی ممکن نہیں لیکن آئین میں 21ویں ترمیم نے جمعیت علما ء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا ہے۔ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے ایک ”صفحہ“پر نظر آتی ہیں مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر دینی قوتوں کے ایک طاقت ور لیڈر بن کر ابھرے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے تعاون کے بغیر وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔
وفاق المداس کی مجلس عاملہ کا ایک غیر معمولی اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد ہو چکا ہے حکومت بھی مولانا فضل الرحمن اور مولانا حنیف جالندھری سے رابطہ میں ہے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،مولانا فضل الرحمن سے اہم ملاقات کر چکے ہیں انہیں کوئی انتہائی اقدام اٹھانے سے روک دیا ہے آنے والے دنوں میں اس محاذ پر اہم پیش رفت کا امکان ہے اور مولانا فضل الرحمن سیاسی افق پر اپنے سیاسی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں