بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور جلسہ۔۔۔اعلیٰ طبقے کے فیملی فن فیئر کی نئی مثال قائم ہوگئی
پرجوش نغمے اور اس پر لوگوں کا رقصاں ہونا خوب منظر تھا۔ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں لوگ بسوں میں بیٹھ کر آئے لیکن مینار پاکستان کے گرد بسوں کو کھڑا کرنے کی کوئی جگہ نہ ہونے کے باعث پہلے ہی انتظام کرلیا گیا تھا
فرخ سعید خواجہ:
اسلام آباد میں دھرنے کے تسلسل اور اب پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ ہائے عام نے دھوم مچادی ہے بالخصوص صوبائی درالحکومت لاہور کے مینار پاکستان پر 28ستمبر کے بہت ہی کامیاب جلسے نے تحریک انصاف کا گراف بلند تر کردیا ہے۔ اس جلسے کے بعد لوگ ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان قومی اتحاد، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے جلسوں کا موازنہ کرنے لگے ہیں حالانکہ کل کے جلسے خالصتاً ایک شہر ہی کے جلسے ہوا کرتے تھے جس میں اندرون شہر کے علاوہ نواحی علاقوں کے لوگ شریک ہوتے مگر اب جلسے میں نہ صرف اپنے صوبے بلکہ دیگر صوبوں سے بھی پارٹی کے چاہنے والوں کو ٹرانسپورٹ مہیا کرکے جلسہ گاہ میں لانے کا رواج عام ہوگیا ہے۔
کبھی صوبائی دارالحکومت کی تاریخی جلسہ گاہ موچی دروازہ کے باہر واقع باغ ہوا کرتا تھا۔ جہاں برصغیر کی بڑی بڑی شخصیات نے جلسے کئے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والے لوگ خواہ ان کا تعلق جلسہ کرنے والی پارٹی سے ہوتا یا کسی اور جماعت سے، دلچسپی کیلئے ان جلسوں میں جایا کرتے تھے۔ ان جلسوں میں دریاں بچھائی جاتی تھیں۔ باغ موچی دروازہ میں لوگ جلسہ گاہ کے اندر بھی اور جلسہ گاہ سے باہر بھی موجود ہوتے تھے۔
1980کی دھائی میں موچی دروازہ میں مستقل پختہ سٹیج بنادیا گیا۔ تاہم اب یہ موچی دروازہ کی تاریخی جلسہ گاہ علاقے کیلئے پارکنگ والی جگہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ گول باغ موجودہ ناصر باغ بھی اہم جلسہ گاہ رہی ہے۔ یہاں پاکستان قومی اتحاد کے جلسوں کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو بھی جلوہ گر ہوئے۔ بھٹو مرحوم نے قذافی سٹیڈیم میں بھی ایک بہت بڑا جلسہ کیا تاہم مینار پاکستان پر شہید بے نظیر بھٹو کا 1986کا جلسہ اس لحاظ سے تاریخ کا حصہ بن گیا کہ لاہور ائرپورٹ سے مینار پاکستان گویا انسانوں کا سمندر موجزن رہا۔

اب ہم پاکستان تحریک انصاف کے 28ستمبر کے جلسے کی طرف آتے ہیں بلاشبہ یہ جلسہ مینار پاکستان پر ہونے والے پچھلے تمام جلسوں سے بڑاتھا۔ تحریک انصاف کے جلسوں نے سیاسی جلسوں کو نئی جہت دی ہے۔ فیملیوں کا جلسوں میں شریک ہونا بالخصوص وقت سے کئی کئی گھنٹے پہلے کھانے، پینے کی اشیا اور مشروبات ساتھ لے کر جلسہ گاہ میں پہنچنا، ہاتھوں میں پارٹی پرچم، سروں پر پارٹی پرچم والی ٹوپیاں، بنیانیں، شلوار قمیض پہنے عورتیں، بچے اور مرد خوب جچتے ہیں سٹیج کا نظام بھی تبدیل شدہ ہے۔
ایک پروفیشنل سٹیج سیکرٹری کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے مقررین کی تقریروں کے دوران بھی میوزک بجایا جاتا ہے جس سے مقرر کو وقفہ ملتا ہے۔ یقیناً سیاسی جلسے کو انٹر ٹین منٹ پروگرام میں تبدیل کرنے کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے۔
28ستمبر کے مینار پاکستان پر جلسہ عام کی کامیابی کیلئے تحریک انصاف نے شاندار حکمت عملی مرتب کی۔
مختلف ذرائع استعمال کرکے پارٹی کارکنوں اور عوام سمیت میڈیا کو بھی یہ پیغام پہنچایا کہ سکیورٹی معاملات کے باعث صبح ساڑھے دس بجے مینار پاکستان پہنچیں اس کے بعد پنڈال میں داخلہ مشکل ہوگا۔ جلسے کا وقت تین بجے سہ پہر مقررتھا۔ اس پیغام نے اثر دکھایا اور مقررہ وقت تین بجے تک لگ بھگ پانچ ہزار لوگ مینار پاکستان کے پنڈال میں آچکے تھے جن میں زیادہ تر ”فیملیاں“ تھیں مینار پاکستان کی جلسہ گاہ میں داخلے کیلئے بہترین منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
جس کا کریڈٹ بلاشبہ تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان کو جاتا ہے داخلے کیلئے گیٹ نمبر ایک سے صرف خواتین، گیٹ نمبر دو سے فیملیز اور گیٹ نمبر تین سے مردوں کو داخلے کی اجازت تھی۔ اس طرح پنڈال میں ان تینوں کیلئے الگ الگ حصے بنائے گئے تھے۔ داخلی راستوں سے قطار بناکر کارکن جس طرح مینار پاکستان میں داخل ہوئے وہ مثالی تھا اور ہمیں متحدہ قومی مومنٹ کے بے مثال نظم وضبط کی ایک جھلک یہاں دکھائی دی تاہم ایک موقع پر منچلے نوجوانوں کے ایک گروپ نے خواتین والے حصے میں گھس کر جس بدتمیزی کا مظاہرہ کیا، خواتین کی چیخ و پکار اور پولیس کو مدد کیلئے پکارنے کے بعد پولیس کا منچلوں پر لاٹھی چارج، خواتین کا خاردار تاروں سے بمشکل میڈیا والے حصے میں پہنچ کر جان بچانے کے واقعہ نے پارٹی کو شرمندہ کیا اور خود عمران خان کو مائیک پر آ کر ان نوجوانوں سے کہنا پڑا کہ ان کی شرمندگی کا باعث مت بنیں۔

جہاں تک جلسہ گاہ میں مجموعی صورت حال کا تعلق ہے اس ہی شرکاء کا جوش و خروش مثالی تھا۔ پارٹی کی لاہور تنظیم اس لحاظ سے مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے جلسہ گاہ میں آنے والوں کو بہت بڑی تعداد میں پارٹی کے جھنڈے تقسیم کئے۔ اتنی بڑی تعداد میں جھنڈوں کی تیاری، پارٹی پرچم والی کیپ اور بنیانیں نوجوانوں کیلئے بے پناہ کشش کا باعث بنیں جلسہ گاہ میں ہمارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں۔
جلسے کو کرسیوں پر لانے کا اعزاز بھی تحریک انصاف ہی کو حاصل ہوا ہے وگرنہ پہلے صرف وی آئی پی کیلئے جلسوں میں کرسیاں رکھی جاتی تھیں۔ باقی لوگ دریوں پر بیٹھ کر جلسہ سنتے تھے۔ پرجوش نغمے اور اس پر لوگوں کا رقصاں ہونا خوب منظر تھا۔ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں لوگ بسوں میں بیٹھ کر آئے لیکن مینار پاکستان کے گرد بسوں کو کھڑا کرنے کی کوئی جگہ نہ ہونے کے باعث پہلے ہی انتظام کرلیا گیا تھا کہ شاہدرہ، سگیاں پل، ملتان روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بسیں کھڑی کی جائیں وہاں سے بسوں میں آنے والے پیدل پارٹی پرچم اٹھائے جلسہ گاہ کی طرف رواں دواں دکھائی دئیے اور مینار پاکستان کے چاروں اطراف سے انسانوں کا سمندر آتا محسوس ہورہا تھا شاہدرہ سے آنے والے نیازی چوک سے براستہ راوی روڈ ملتان روڈ، سگیاں پل سے آنے والے براستہ داتادربار، اندرون ٹیکسالی، ریلوے سٹیشن کی طرف سے جلوسوں کی شکل میں نظرآئے جبکہ لاہور شہر سے بھی گروپوں کی شکل میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

جلسے کی ایک اور منفرد بات یہ تھی کہ موبائل فون کے ذریعے جلسہ گاہ میں موجود افراد جب روشنی کرتے تو جلسہ گاہ جگمگا اٹھتی۔ عمران خان سوا چھ بجے پنڈال میں پہنچ گئے تھے۔ تحریک انصاف کے جلسے میں شریک لوگوں کی عمران خان سے دلی وابستگی کا اظہار ہے کہ ڈھلتی رات تک شرکا جلسے میں اطمینان سے موجود رہے اور قومی ترانہ پڑھ کر رخصت ہوئے۔
اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ عمران خان کے اس جلسے کے سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
ہمارے خیال میں تحریک انصاف نے جہاں مسلم لیگ ن کو للکارا ہے وہاں پیپلز پارٹی کی اپوزیشن والی پوزیشن کو بھی بہت حد تک متاثر کیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی نے اپنی ساکھ بچانے کیلئے عیدالضحیٰ کے بعد بلاول بھٹو زردای کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ لیکن نوجوان بلاول بھٹو زرداری نئی اور پرانی نسل کو اپنی طرف کھینچ سکیں گے ابھی اس بارے میں پیشن گوئی ممکن نہیں۔
کہا جاسکتا ہے کہ انہیں خود کو کل وقتی سیاستدان کے روپ میں میدان میں نکلنا ہوگا وگرنہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا اس کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔ جہاں تک حکمران مسلم لیگ ن کا تعلق ہے اسے اپنی عزت بچانے کیلئے اب اپنے سیاسی کارکنوں کو عزت دینا ہوگی۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں نیا خون شامل کرنا پڑے گا اور سیاسی کارکنوں کو کوآرڈینیٹر معاون لگانا ہو گا۔
یوٹیلٹی بلوں کی قیمت میں کمی کرنی پڑے گی ایسا ممکن نہ ہوتو کم ازکم قیمتیں جہاں ہیں منجمد کرنا ہوں گی۔ سول ملٹری تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔ انتخابی اصلاحات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ سے مطلوبہ آئینی ترامیم بھی کروانا ہوں گی۔ ایسا کر لیا جاتا ہے تو وزیراعظم اگلے ایک دو برسوں میں انتخابی میدان میں اترنے کا چیلنچ قبول کر سکیں گے۔ البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کاموں میں مزید تاخیر کی گئی تو مسلم لیگ ن کے زوال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان