تازہ ترین : 1
KPK Main Hazb e Ikhtelaf Ne Budget Mustard Kar Diya

خیبرپختونخوا میں حزب اختلاف نے بجٹ مسترد کردیا

ماہ رمضان میں سیاسی درجہ حرارت میں کچھ کمی ضرورآئی البتہ صوبائی بجٹ کے بعداسمبلی فلور پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔حکومتی پنجوں سے بجٹ کو سراہا گیا لیکن حزب اختلاف نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ کاہیر پھیر ہے اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

راجہ منیرخان:
ماہ رمضان میں سیاسی درجہ حرارت میں کچھ کمی ضرورآئی البتہ صوبائی بجٹ کے بعداسمبلی فلور پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔حکومتی پنجوں سے بجٹ کو سراہا گیا لیکن حزب اختلاف نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ کاہیر پھیر ہے اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔حکومت نے بجٹ کے حجم کو بڑھانے کے لیے82 ارب کا قرضہ لیا۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آمدنی ظاہرکی گئی۔ جبکہ ترقیاتی بجٹ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے واپس ہوتا رہا ہے جس کے حجم میں اضافہ ہوا ہے جس طرح صوبہ کے پی کے میں تعلیم کے دعوے کیے گئے ہیں، صحت کے حوالے سے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ دیہی علاقوں میں کئی کئی کلومیٹر کے فاصلے پر سکول قائم تھے جتنی آبادی ہوتی ہے اسکے تناسب سے تعداد ہوگی چالیس سے کم تعداد والے سینکڑوں سکول بند کر دیئے گئے ہیں جو قابل افسوس ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکمران جماعت کے وزراء اسپیکر یا ممبران اسمبلی کی اکثریت تعداد پرائیویٹ سطح پر سکول چلا رہی ہے اس لیے ان کی جانب جتنی بھی قانون سازی کی جارہی ہے اس میں وہ اپنے پرائیویٹ سکولوں کو تحفظ دے رہے ہیں کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے پیسوں کی مشین بنے ہوئے ہیں جہاں سب کی اپنی مرضی ہے فیس وصول کر رہے ہیں حکومت نے کم سے کم اجرت پندرہ ہزار تک مقررکر رکھی ہے جبکہ 90فیصد پرائیویٹ سکولوں میں خواتین اساتذہ کو تین ہزار سے سات،آٹھ ہزارتک تنخواہ دی جاتی ہے یہاں نہ لیبرڈیپارٹمنٹ نظرآتا ہے اور نہ کوئی اورکیونکہ انھیں بھی حصہ مل جاتا ہے جبکہ بچوں سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے اس طرح ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ معمولی نوعیت کے ٹیسٹ تک ہسپتالوں میں نہیں ہوتے ہیں ہسپتالوں کو کمپیوٹرائز کرنے کا عوام کو کیا فائدہ ہوا ہے کمپیوٹرائز کرنے کا عوام کو تب فائدہ ہوتا انھیں مفت علاج کی سہولت میسر آتی ہیں موجودہ بجٹ میں صحت کے لیے49ارب 27کروڑروپے رکھے گئے ہیں اگر ان میں 50فیصد بھی صحت پرلگا دیا جائے تو یقیناً عوام کو علاج کی سہولت میسر آسکے گی تعلیم کے لیے 27ارب 91کروڑ رکھے گئے ہیں وہ این جی اوز کی نظرہونگے محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہ کرنے کے بڑے دعوے کیے جارہے ہیں لیکن ایبٹ آباد میں دو ڈی ایس پی کو صرف اس لیے تبدیل کیا گیاکہ ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے جبکہ حقیقت کچھ اس طرح نہیں ایک ڈی ایس پی ایم این اے صوبائی وزراء ممبران اسمبلی کو پسند نہیں تھے وہ درست سمت میں کام کر رہے تھے جو انھیں پسند نہیں تھے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی اس طرح کا حال ہے وزراء کی مرضی سے تھانوں میں ایس ایچ او اور ضلعوں میں افسران تعینات کیے جارہے ہیں ان حالات میں صوبے میں عملی تبدیلی صرف یہ آئی ہے کہ مردوں نے گلے میں دوبٹے جبکہ خواتین نے سرپر ٹوپیاں پہن لی ہیں صوبے میں یہ صرف تبدیلی آئی ہے کرپشن کے خلاف اعلان جہاد کرنیوالے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نتھیاگلی میں سرکار کے خرچے اوراپنے دوستوں کوسیر کروانے میں مصروف ہیں۔
انکے سپیکر پر کرپشن کے الزمات ہیں اورساتھ ساتھ آٹھ وزراء پر بھی الزمات ہیں انہیں وہ اپنے ساتھ گھما پھرا رہے ہیں ان سے کوئی استعفیٰ ٰ کا مطالبہ نہیں ہے جبکہ جتنے کرپٹ سیاستدان انکی صفوں میں آئے ہیں تو وہ پاک ہوجاتے ہیں لیکن دیگر جماعتوں میں انھیں سب کرپٹ نظر آتے ہیں جو سرکاری وسائل صرف اس لیے استعمال کرتا ہے کیونکہ انکی جماعت کی حکومت ہے وہ کرپشن نہیں صوبے کے پی کے میں حقیقت حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن پہلے سے بڑھی ہے میرٹ کا بھی اسی طرح قتل عام ہو رہا ہے وفاقی یا پنجاب حکومت پر کرپشن کی باتیں کی جا رہی ہے لیکن وہ بھی ضرور کرپٹ ہیں لیکن عوام کے لیے اور ملک کے لیے کچھ نہ کچھ ضرورکر رہے ہیں جسکی عالمی قوتیں گواہی دے رہی ہیں صوبہ کے پی کے میں مسلم لیگ ن کی نئی قیادت آنے کے بعدصوبہ کے پ کے میں ضرب اختلاف بھی نظر آ رہا ہے اسی طرح اسمبلی میں بھی سردار اورنگزیب نلوٹھہ مسلم لیگ ن جمیعت علماء اسلام کے ممبران اسمبلی درست سمت میں حزب اختلاف کرتے نظرآرہے ہیں البتہ صوبائی صدر مسلم لیگ ن امیر مقام اور جنرل سیکرٹری ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے عوامی اجتماع کے ذریعے پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔
پختون بیلٹ میں ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن کوزندہ کر دیا ہے اور یہ حقیقت ہے بڑی سیای جماعتوں کی جانب سے پختون بیلٹ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس بنیاد پر الیکشن میں پختون بیلٹ سے ایسی جماعت کو چنا گیا جو صوبے کی ترقی کا باعث بنے اور جس طرح ملک کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پختون بیلٹ پر توجہ دینا شروع کی ہے سابق صدر وشریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے صوبہ کے پی کے میں ایک ہفتہ گزارا اورپارٹی کی صف بندی کرنے میں مصروف رہے جس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صوبہ کے پی کے کے عوام آئندہ الیکشن میں درست انتخاب کریں گے جس سے صوبہ کے پی کے میں ترقی ممکن ہو پائے گی۔
2002کے بعد صوبہ کے پی کے میں جو مخصوص ہاتھوں نے تجربات کیے اس سے صوبے میں بہت سے مسائل نے جنم دیا تقریروں ،ٹرانسفروں کے لیے کا استعمال شروع ہوا جس سے لائق لوگ پیسے نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ گئے جبکہ نالائق لوگ آگے آگے اور یہ حقیقت ہے جو پیسے دیکرنوکری حاصل کرے گا اس نے لوٹ مار کرنی ہے لیکن اس عمل کے باعث صوبہ کے پی کے وائٹ کالر لوگ بری طرح متاثر ہوئے۔
وقت اشاعت : 2017-06-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں