بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں ۔۔۔۔۔
عام شہری کو نظام سے نہیں مسائل کے حل سے دلچسپی ہے۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں جمہوریت کے قصیدے بیان کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو مزید وقت دیا جائے۔ یہ نظام درست ہونے میں ابھی مزید وقت درکار ہے
مصنف : سید بدر سعید
ہمارے ہاں عام طور پر جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے چند سال مسلسل چلنے دیں تو نظام بہتر ہو جائے گا۔ سیاستدان بھی عوامی مسائل سے زیادہ اپنے مسائل، مفادات اور اقتدار میں آنے کے چور راستوں کیلئے احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عام شہری کب تک جمہوریت کے مضبوط ہونے کا انتظار کرے گا؟ کیا اس عرصہ میں سیاست دان قومی خزانے سے بھاری مراعات حاصل نہیں کر رہے؟عام شہری کو نظام حکومت سے نہیں اپنے مسائل کے حل سے مطلب ہے ۔
اُسکے لئے وہ نظام بہتر ہے جو اُ س کے مسائل حل کرسکے۔ اب ا س نظام کو جو مرضی نام دے دیں لیکن اصل مقصد ”عوامی خدمت“ ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں جمہوریت کے قصیدے بیان کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو مزید وقت دیا جائے۔ یہ نظام درست ہونے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔ اسلئے وہ تین یا چار حکومتیں اپنی مدت پوری کرلیں گی تو ہی ملک میں جمہوری عمل بہت ہوسکے گا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت ملک میں جمہوری نظا م ہوتے ہوئے بھی جمہوری کلچر نظر نہیںآ تا اس میں بھی دو آراء نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا اور سیاست دان اپنی ذاتی انا، شاہی مزاج ،مفادات اور غلطیوں کی وجہ سے مارشل لاء کا باعث بنتے رہے ہیں۔
ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو جمہوری حکومتوں میں بھی حکومت اور اپوزیشن سمیت سیاسی رہنماوٴں کا کردار اور عمل قابل تعریف نہیں ہے ۔
ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا ، ٹانگیں کھینچنا اور عدم برداشت کے جو مناظر اب ہماری تاریخ میں محفوظ ہو چکے ہیں ، انہیں کسی بھی طرح جمہوری کلچر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ 2007 کے بعد سے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے اب ہماری سیاسی جماعتوں اور رہنماوٴں کو جمہوری رویے کا احساس ہونے لگا ہے۔ اس دوران ”فرینڈلی اپوزیشن“ سمیت متعدد اصلاحات سامنے آنے لگیں حکمرانوں اور بااثر طبقے کے نمائندوں کو نہ صرف عدالتوں میں حاضر ہونا پڑا بلکہ سزائیں بھی بھنگتنی پڑیں۔
دوسری جانب سیاسی رہنماوٴں کی جانب سے من مانی بھی ہوتی رہی۔ اس دوران میں کرپشن اور لو ٹ مار کا سلسلہ نہ رک سکا ۔ البتہ یہ ضرور کہا جانے لگا کہ اگر جمہوری عمل کو مسلسل چلتے رہنے دیا جائے تو آہستہ آہستہ نہ صرف یہ نظام بہتر ہوت جائے گا ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور پھر انتخابات کے بعد مسلم لیگ اقتدار میں آگی۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی اقتدار میں آنے کے بعد مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
صورتحال اس نہج پر آگئی کہ تحریک انصاف اورعوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے شروع ہو گئے۔ اس سارے پس منظر میں افواہیں اُڑائی گئیں کہ فوج اس کے پیچھے ہے ۔ جب یہ تاثر مزید مضبوط ہونے لگا تو آئی ایس پی آر کو باقاعدہ وضاحت کرنی پڑی کہ ایسی بات نہیں ہے۔
ہم جس اس سارے منظر نامے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام شہری کیلئے کی ضروری ہے؟ خدالگتی کہیں تو عام شہری کو نہ جمہوریت سے مطلب ہے اور نہ آمریت سے کوئی غرض ہے ۔
عام پاکستانی کو اپنے مسائل کا حل چاہیے۔ اُسے بہتر روزگار،عزت اور آسانیان درکارہیں۔ ایک مزدور کو روٹی نہ ملے تو اُس کیلئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ملک پر جمہوریت ہے یا آمریت۔ اُسے سیاست دانوں کو ذاتی لڑائی سے بھی کوئی مطلب نہیں ہے ۔ چار حلقے کھلیں یا چار سو، دھاندلی ثابت ہو یا نہ ہو، حکومت ختم ہ ویا نہ ہو۔یہ سارے مسئلے سیاست دانوں کے اپنے ہیں۔
عام شہری کو انصاف، روزگار اور اُمن درکار ہے۔ اگر موجودہ جمہوریت یہ سب دینے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر اس کے رک جانے سے عام شہری کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر جمہوریت یہ سب مہیا کر دیتی ہے تو پھر شہری کو اس سے کوئی گلہ نہیں تو گا۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ جمہوریت یا آمریت کے اس کھیل سے باہر نکل کر عام شہری کے مسائل حل کرنے پر زور دیا جائے۔
جب جمہوریت اپنا یہ فرض ادا کرنے میں ناکام ہو تو پھر عوام آمریت کی راہ تکنے لگتے ہیں۔حالیہ دھرنے اور لانگ مارچ مقدس ایوان میں بیٹھے افراد کیلئے ایک اشارہ ہے۔ ا ب جمہوریت بچانے کی ذمہ داری اس ایوان پر ہے ۔ اگر یہ سسٹم ڈی ریل ہو ا تو سوال اُٹھے گاکہ آخر اس کی وجہ کیا تھی اور پھر یہ بات بھی ہو گی کہ صاحب اقتدار طبقہ عوام کو مطمئن کرنے اور انہیں اُن کے حقوق دینے میں ناکام ہو گیا تھا۔ اس نازک لمحے سے قبل حکمرانوں کو عوامی مسائل حل کرنے چاہیں تا کہ ملک میں انارکی نہ پھیلے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان