تازہ ترین : 1
Jamat Islami Ki London Plan K Hawale Se Dorr Ki Kori

جماعت اسلامی کی ”لندن پلان“ کے حوالے سے دور کی کوڑی!

کل کے دوست آج کے مخالف جب کہ کل کے مخالف آج باہم شیر وشکر ہو رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری کے اچانک دھرنا ختم کرنے کے فیصلے نے جہاں عمران خان اور ان کے درمیان فاصلے پیدا کر دئیے ہیں

نواز رضا:
شاہراہ دستور پر پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے ”ناکام دھرنے “ کے سیاسی افق اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں کل کے دوست آج کے مخالف جب کہ کل کے مخالف آج باہم شیر وشکر ہو رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری کے اچانک دھرنا ختم کرنے کے فیصلے نے جہاں عمران خان اور ان کے درمیان فاصلے پیدا کر دئیے ہیں وہاں عمران خان اور جماعت اسلامی کے درمیان قربت ختم ہوتی نظر آرہی ہے عمران خان نے سراج الحق کو وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کی بجائے ایک طرف کھیل کھیلنے کا کہہ کر انہیں ناراض کر دیا ہے۔
اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اسد عمر نے جماعت اسلامی کو خیبر پختونخوا حکومت سے نکل جانے کا مفت مشورہ دے کر اپنی ہی حکومت کے خاتمے کا اشارہ دے دیا ،کیونکہ جماعت اسلامی کی بیساکھیوں کے بغیر خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کا برقرار رہنا ممکن نہیں۔ سراج الحق وضع دار شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے جماعت اسلامی قیادت کو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب دینے سے روک دیا ہے تاہم انہوں نے عمران خان پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں ان کے اتحادی ہیں لیکن ملکی سطح پر جماعت اسلامی تحریک انصاف کی الگ الگ پالیسیاں ہیں۔
انہوں نے کہاہے کہ” لندن پلان“ کی ناکامی کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں کے سیاسی مجاوربننے کی خواہش بھی دم توڑگئی ہے،فوج کو آئین توڑنے اورحکومت پر قبضہ کرنے کی دہائیا ں دینے والے فتنہ پرور قادیانی اورجلاوطن لوگوں کی سازشیں سیاسی جرگہ نے ناکام بنادیہیں ادھر عمران خان بھی نتائج کی پروا کئے بغیر جہاں ”سولو فلائٹ“کرنا چاہتے ہیں وہاں انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے ” چومکھی لڑائی “لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ سیاست کو” ون ڈے کرکٹ میچ “کی طرح کھیل رہے ہیں وہ ہر میچ میں شکست کے بعد ایک نئی تاریخ دے دیتے ہیں اگرچہ انہوں نے ایک بار پھر30نومبر2014ء کو ڈی چوک میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن دوسرے ہی سانس میں کہا ہے کہ 30نومبر نہ سہی 30دسمبر کو نواز شریف کو استعفا دینا پڑے گا۔
دوسری طرف پارلیمنٹ کے اندراپوزیشن بھی اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لئے متحرک ہو گئی ہے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کی مخالفت کرنے والوں نے بھی پارلیمنٹ کے صدر دروازے پر ”دھرنا“ دے کر ان کی سیاست کی پیروی شروع کر دی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے پیپلز پارٹی دھرنے کے وقت وزیر اعظم محمدنواز شریف کے ساتھ کھڑا ہونے کی قیمت وصول کرنا چاہتی ہے اس نے پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف میگا کرپشن کے کیسز ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اس مطالبہ کی منظوری میں سب سے بڑی رکاوٹ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان رکاوٹ ہیں یہی وجہ ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ ان کی طرف کر دیا ہے گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں اپوزیشن(پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی) نے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت اوجی ڈی سی ملازمین پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کی آڑ میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہو گئے ہیں لیکن کوئی قانون سازی ہو ئی اور نہ ہی اگست 2014ء میں کئے گئے صدارتی خطاب پر بحث شروع جاسکی اپوزیشن نے ”احسانات تلے دبی حکومت“ کو اپوزیشن نے زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
اپوزیشن صبح و شام نواز شریف حکومت کو اسے بچانے کا احسان جتلاتی ہے جس کا دوسرا مطلب مشکل میں ساتھ چھوڑ دینے کی دھمکی بھی ہے۔ شاہراہ دستور پر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے نے حکومت اور اپوزیشن کو باہم شیرو شکر بنا دیا تھا لیکن جوں ہی حکومت دھرنے کے دباؤ سے باہر نکلی ہے۔ حکومت کے تیور بھی کچھ تبدیل ہو گئے ہیں تو اپوزیشن نے بھی حکومت پر چڑھائی شروع کر رکھی ہے ڈاکٹر طاہر القادری ایک زیرک سیاست دان ہیں انہوں نے ستمبر2014ء میں عمران خان کو باور کرا دیا تھا کہ چونکہ دھرنوں سے فوری نتیجہ نہیں نکل سکا لہٰذا دھرنے کی طوالت سے الٹا نقصان ہو گا۔
لوگ سوال کریں گے اب ہم کس لئے بیٹھے ہیں لوگوں کے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں کرایہ دے کر کون آئے گا؟ اب ہمیں شہر شہر جا کر جلسے کرنے چاہیں لیکن عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا حکومت کے خاتمہ اور قومی حکومت کے قیام کا ٹارگٹ حاصل نہ کرنے پر ڈاکٹر طاہر القادری اپنا بوریا بستر سمیٹ کر شہر شہر دھرنا دینے کے لئے نکل پڑے ہیں لیکن عمران مسلسل ہر شب گنتی کے لوگوں سے خطاب کا شوق پورا کر رہے ہیں عمران خان کے جلسوں کی وجہ حکومت سے زیادہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن اپنے آپ کو دباؤ میں محسوس کر رہی ہے۔
اسے خدشہ ہے کہ عمران خان اس کی جگہ لینے میں کامیاب نہ ہو جائیں لہٰذا پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن نے بھی قدرے ” ہارڈ لائن “ اختیار کر لی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں او جی ڈی سی ایل کی نجکاری کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ملازمین پر پولیس تشدد کو جواز بنا کر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی :’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے‘ کے مصداق اپنا غصہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف تقاریر کرکے نکال رہی ہے اور اپنی ”مزدور دوستی“ ثابت کرنے کی کو شش کر رہی ہے اب پیپلز پارٹی اپنی قیادت کو نیب کیسز سے بچانے کے لئے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت حکومت بالخصوص چوہدری نثار علی خان سے الجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ جن کی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے نہیں بنتی ایک بار پھر انہوں نے چوہدری نثار علی خان پر” حملہ آور“ ہونے کی کوشش کی کے انہیں سخت لہجے میں جواب ملا چوہدری نثار علی خان کا شمار ملک کے سینئر پارلیمنٹیرین میں ہو تا ہے جو اپنے سیاسی مخالفین کی ”تیر اندازی“ کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کو پیپلز پارٹی سے فاصلہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ جب کہ اس وقت پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کا ٹارگٹ وزیر اعظم کا” اوپننگ بیٹسمین “ چوہدری نثار علی خان ہی ہیں جو اپوزیشن کو ناکوں چنے چبا سکتے ہیں وہ کسی سے دبنے والے نہیں۔ اب تو پیپلز پارٹی کے لئے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ” چوہدری نثار علی خان کو ان کے منصب سے ہٹانا بن گیا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو بھول جاتی ہے میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان یک جان دو قالب ہیں ان کو ایک دوسرے سے الگ تصور نہیں کیا جاسکتا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پارلیمنٹ کے اندر چوہدری نثار علی خان کے خلاف ہنگامہ آرائی کی ڈوریاں ”ایوان صدر کا سابق مکین“ بلاول ہاؤس میں بیٹھ کر ہلا رہا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-11-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں