بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جعلی ڈگری، تحریک انصاف”انصاف“ کر سکے گی؟
جب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید کی بی ایس کی ڈگری کا ایشو سامنے آیا تو نہ صرف اپوزیشن نے پی ٹی آئی پر تنقید کے نشتر برسانا شروع کر دئیے
جمال الدین:
خیبر پختونخوا میں حکمران اتحاد کو خواہش کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی مل گئی ہے ۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیلئے تحریک انصاف اور (ن) لیگ کے درمیان باقاعدہ ڈیل ہوئی جس کے نتیجے میں نہ صرف پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچا بلکہ (ن) لیگ بھی خیبر پختونخوا سے ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ بدلتے سیاسی منظر نامے میں کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان خواہ کتناہی غیر لچکدارانہ رویہ اپنائیں ان کی جماعت لچک پر یقین رکھتی ہے بالخصوص صوبہ میں ان کی پارٹی کے بعض قائدین جن میں پرویز خٹک سرفہرست ہیں۔
” کچھ لو اور کچھ دو “ کے اصول کے قائل ہیں۔سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری ہوتے ہی پی ٹی آئی کی قیادت کو ہارس ٹریڈنگ کے خدشات نظر آنے گلے تھے کیونکہ پارٹی میں ہمخیال گروپ کی بازگشت کافی عرصہ سے سنی جار ہی تھی۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کیلئے 12 میں سے سات سیٹیں جیتنا مُشکل تھا جسے آسان بنانے کیلئے جوڑ توڑ کے ماہر وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایسی چال چلی کہ پارٹی کو ایوان بالا میں خاطر خواہ نمائندگی مل گئی ۔
یہ کریڈٹ یقینا وزیراعلیٰ کو جاتاہے کہ انہوں نے گورنر سردار مہتاب احمد خان کیساتھ مل کر نہ صرف ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکا بلکہ ایوان بالا میں نمائندگی حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ ایک مرحلے پر قریب آنیوالی جماعتیں آج سینیٹ انتخابات کے بعد ایک بار پھر ”آمنے سامنے“ آنے لگی ہیں۔ اور عمران خان نے پھر ” دھرنا سیاست “ شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
سینیٹ الیکشن اور اس کے بعد کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست کل کے حریف کل کے حریف آج کے دوست بن کر سیاست کے میدان میں طبع آزمائی کرتے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بعض اپوزیشن جماعتوں نے ممکنہ ڈیل پر تحریک انصاف اور (ن) لیگ کو ہدف تنقید بنانا شروع کیا تو پی ٹی آئی نے دھرنا سیاست دوبارہ شرو ع کرنے کا عندیہ دیدیا۔
جب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید کی بی ایس کی ڈگری کا ایشو سامنے آیا تو نہ صرف اپوزیشن نے پی ٹی آئی پر تنقید کے نشتر برسانا شروع کر دئیے بلکہ (ن) لیگ کے مرکزی رہنما انجنیئر امیر مقام نے ضلع سوات میں ہی پریس کانفرنس کر کے پی ٹی آئی پریشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ پر دباوٴ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کای کہ اعلی تعلیم کے فروغ اور تبدیلی کے دعویداروں نے صوبہ کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ میں سیاسی مداخلت کر کے اپنے ایم این اے کے فراڈ پر پردہ ڈلالنے کی کوشش کی ہے جس سے پوری قوم کی جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔
مراد سعید نے انوائر مینٹل سائنسز کے بی ایس پروگرام میں2004 میں داخلہ لیا تھا۔ ان کا سیشن 2009 تک تھا جس کے دوران وہ امتحان پاس نہ کر سکے اور یونیورسٹی قواعد کے تحت انہیں دوسال کی مُہلت ملی جو 2011 میں ختم ہوئی۔ اس عرصہ میں بھی و ہ ڈگری مکمل نہ کر سکے تاہم مئی2013 کے عام انتخابات میں حصہ لیتے وقت انہوں نے الیکشن کمیشن کے پاس حلف نامہ جمع کرایا کہ انہوں نے ڈگری مکمل کر لی ہے البتہ ڈی ایم ایس کے اجرا کیلئے اپلائی کیا ہے۔
مراد سعید نے بعد ازاں جو ڈی ایم سی جمع کرائی وہ2011 میں جاری ہوئی تھی جس پر یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کے دستخط نہیں تھے۔ یہ سب سوشل میڈیا پر چلا تو مراد سعید کیلئے امتحان کا انعقاد کرایا گیا جس میں انہوں نے ایک ہی دن میں دو پرچے حل کئے اور اسی دن نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ امیر مقام کا کہنا ہے کہ عمران خان اور صوبائی حکومت پشاور یونیورسٹی پر دباوٴ ڈالنے کی بجائے اپنے رُکن کے خلاف کارروائی کرتی تو انصاف کے تقاضے پورے ہوتے لیکن اپنے رُکن کادفاع کیا گیا جس پر وہ عنقریب عدالت جائیں گے کیونکہ یہ تعلیمی نظام کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-25

(0) ووٹ وصول ہوئے