تازہ ترین : 1
Islamabad Main Tehreer Square Banane Ki Tiyari

اسلام آباد میں تحریر سکوائر بنانے کی تیاریاں

پاکستانی عوامی تحریک اور تحریک انصاف تبدیلی کیلئے سرگرم عمل حکومت اور طالبان مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی

زاہد حسین مشوانی:
حکومت اور طالبان مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی جبکہ وفاقی دار الحکومت میں ایک بار پھر مہم جوئی کی تیاریان کی جارہی ہیں اور التحریک سکوائر کا ماحول بنانئے کی کوششیں جاری ہیں۔ گیارہ مئی کو ایک بار پھر پاکستان عوامی تحریک‘ تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں حکومت اور نظام کے خلاف میدان گرم کرنے کیلئے تیار ہو رہی ہیں۔
ملک کے قومی اداروں میں ایک بار پھر تناؤ کی باتیں ہورہی ہیں اور سینیٹ میں قائد حذب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کی صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں، حکومت اس معاملہ کو حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور ناتجربہ کار سیاسی جماعتیں اس صورتحال میں جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے سے اجتناب کریں۔ یوم مئی کے موقع پر جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں بھی جلسے جلوس ریلیاں اور تقاریب منعقد کی گئیں۔
محنت کشوں کے سماجی و اقتصادی حقوق کا تحفظ اور قومی خدمات میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا اور مزدور کارکنوں اور ٹریڈ یونیوں دنیا بھر میں مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور ماضی کی نسبت مزدورون کے حالات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان میں پہلی مزدور پالیسی 1972ء میں تیار کی گئی تھی جس میں یکم مئی کو سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان کیا گیا اور مزدوروں کیلئے حقوق اور مراعات کو یقینی بنانے کا عزم کیا گیا۔
پالیسی کے تحت سوشل سکیوٹی نیٹ ورک، اولڈ ایج بینیفٹ اسکیم اور ورکرز ویلفیئر فنڈ قائم کئے گئے۔ پاکستان کے آئین میں مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستانی 1947ء میں اپنے قیام کے بعد بین الاقومی تنظیم محنت (آئی ایل او) کارکن بنا تھا۔ یوم مئی کے حوالے سے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں نواز شرف نے بھی اپنے پیغامات میں مزدوروں اور محنت کشوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پائیدار اقتصادی و سماجی ترقی کا مقصد معاشرے میں محنت کش طبقے کو ان کا جائز مقام دئیے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا، ملک کی افرادی قوت کیلئے باوقار روزگار، مناسب اجرتیں، کام کاج کے محفوظ ماحول اور سماجی تحفظ کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارکنوں کی گرانقدر خدمات کے اعتراف اور معاشرے کے پورے ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے سے ان کی انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کادن ہے، اس دن ایک صدی قبل جبر، استحصال اور ناانصافی کے خلاف جرأتمندانہ جدو جہد پر شکاگو کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے ہم کارکنوں، مزدوروں کو انکی جائز جدو جہد میں تنہا نہ چھوڑنے کے اپنے عزم کی بھی تجدید کرتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ کسی بھی بامعنی اور پائیدار اقتصادی و سماجی ترقی کا مقصد معاشرے میں کارکنوں اور مزدورووں کو انکا جائز مقام دئیے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا یہ دن منایا جانا کارکنوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور آئندہ کا لائحہ عمل وضع کرنیکا موقع بھی ہوتا ہے تاکہ معاشے کے اس کمزور طبقے کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ موجودہ حکومت محنت کش اور مزدور طبقے کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے پر عزم ہے اور معیشت کو تقویت دینے اور ان کیلئے کام کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لئے سرگرمی سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ مناسب کام کاج کے مواقع اور ہر قسم کے استحصال سے تحفظ کی حامل مطمئن افرادی قوت معاشے کی پائیدار سماجی و اقتصادی تری کیلئے اہم ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے کارکنوں کے سماجی و اقتصادی حالات بہتر بناے کا تہیہ کررکھا ہے، اسلامی تعلیمات میں مزدوروں کی عظمت اور فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی ہے، آجروں اور اجیروں کو پیداوار کے جدید ذرائع اختیارکرنے چاہئیں۔ حکومت محنت کشوں اور کارکنوں کی سماجی و اقتصادی زندگی بہتر بنانے کیلئے پر عزم ہے تاکہ وہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرسکیں۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد ورکرز ویلفیئر فنڈ صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا گیا ہے جو کارکنوں کی فلاح و بہبودکے پروگراموں کیلئے سرگرمی سے پروگرام شروع کرہی ہیں۔ لیبر لاز میں ترامیم لائی گئی ہیں تاکہ انہیں انٹرنیشنل لیبر معیارات سے ہم آہنگ بنایا جاسکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن شکاگو کے ان کارکنوں کی قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے محنت کش طبقے کے حقوق اور نصب العین کیلئے 1886ء میں اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا۔
وزیر اعظم نے آجروں اور اجیروں پر زور دیا ہے کہ وہ نئے عالمی چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے مقابلے کیلئے پیداواریت کے جدید ذرائع استعمال کریں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور احترام کی دانش عطاء فرمائے تاکہ ہم سب پاکستان کو خوشحال فاحی اسلامی ریاست بنا سکیں۔
اس دن کے حوالے سے حکمران اپنے پیغامات میں تو ہمدردانہ اظہارکرتے ہیں اور محنت کشوں کی حالات زار بہتر بنانے کے وعدے بھی کرتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ تمام وعدے پورے نہیں کئے جاتے۔ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں مزدور حکومت کی کم سے کم مقرر تنخواہ سے بھی محروم ہیں۔ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو مالکان کے رحم و کرم پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
پہلے تو مزدوروں کے حقوق کے لئے ملک میں کوئی موثر قوانین نہیں اور مروجہ قوانین اتنے کمزور ہیں کہ ان پر عمل درآمد ہی نہیں کرایا جاسکتا ۔ یوم مئی کے موقع پر مزدوروں کیلئے نہ صورف ملک میں موجود قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے بلکہ نئے قوانین بنائے جائیں اور مزدوروں کے حقوق کی بحالی یقینی بنائی جائے۔ جہاں تک ملک کی سیاسی صورتحال کی بات ہے تو اس بارے میں ملک میں ایک بار پھر اداروں میں تناؤ کی کیفیت نظر آرہی ہے اور کئی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں ایک بار پر لانگ مارچ کی تیاریاں کررہی ہیں اور اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس ڈی چوک کو تحریر سکوائر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان عوامی تحریک‘ تحریک انصاف اوع دیگر جماعتیں اور تنظیمیں بھی تیاریوں میں مصروف ہیں اور گیارہ مئی کو اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف اعلان کرچکی ہیں تاہم یہ دعویٰ کی اجارہا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس تحریک میں شامل ہورہی ہیں اور یہ تحریک نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ اداروں میں تناؤ کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔
اگرچہ حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیچ پر ہیں اور طالبان سے مذاکرا ت کے بارے میں بھی کوئی ابہام نہیں اور یہ عمل جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن عملی طور پر طالبان سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور یہ ڈیڈ لاک قیدیوں کی رہائی پر پیدا ہوا۔ حکومت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی پر طالبان کمیٹی کو کوئی جواب نہیں دیا گیا اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ طالبان کمیٹی کے ارکن کے مذاکرات کے باوجود نہ تو کمیٹیوں سے ملاقات کی جاسکی اور نہ ہی طالبان کمیٹی وزیرستان روانہ ہوسکی۔
طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا عمل بھی جاری نہیں رکھا جاسکا۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کا کہناہے کہ کہا جارہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات پر حکومت اور فوج ایک ہی پیچ پر ہیں لیکن لگتا ہے کہ دونوں ایک پر ہیں لیکن ان کی لائن مختلف ہے۔ پروفیسر محمد ابراہم کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے معاملے پر اگر فوج کو تحفظات ہیں تو وہ اپنے طورپرحکومت کے ساتھ بات کرے نہ کہ میڈیا پر تحفظات کا اظہار کیا جائے اور اگر ایسا کرنا ہی ہے تو پھر فوج کو براہ راست مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔
مذاکرا کے بارے میں طالبان کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گای اور کہا گیا کہ امن مذاکرات کو بھی ہتھیاروں کے طور پر نہیں لینا چاہیے اور جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔طالبان کا کہنا ہے کہ چون دن جنگ بندی کا تحفہ دی لیکن حکومت سنجیدہ نظر نہیں آئی اور وہ مذاکراتی عمل سے پیچھے نہیں ہوں گے اور اس بارے میں حکومت خود مختار نظر نہیں آرہی۔
دوسری جانب ریاستی اداروں میں تناؤ کے بارے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کے صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں، حکومت اس معاملہ کو حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور ناتجبہ کار سیاسی جماعتیں اس صورتحال میں جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے سے اجتناب کریں، بہتر ہے کہ سڑکوں پر معاملات لانے کی جبائے پرلیمنت کا فورم استعمال کریں، ہم جمہوریت کی بساط کو لپیٹنے کی کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
وزیرا عظم تمام ہمایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے خارجہ پالیسی تشکیل دیں، ہمیں کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کسی ملک کی جنگ میں کودنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملہ پر حکومت اپوزیشن کو اعتماد میں لے، ہم اچھا ہی مشورہ دیں گے، ہم نے پہلے بھی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔
کچھ لوگوں نے جلوس نکالنے شروع کرئیے ہیں، اس سے نئی نئی باتیں جنم لے رہی ہیں، میڈیا بھی ادارہ ہے، پہلے تین پلر تھے اب فوج اور میڈیا سمیت پانچ پر ہیں، دو اداروں کے درمیان تصادم کسی کے حق میں نہیں ہوگا، حکومت اس میں مداخلت کرے، خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پی پی او کے تحت عدالت میں قبل از وقت جارہے ہیں، یہ پوائنٹ سکورنگ ہے، 15دن بعد کیس واپس لے لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض جماعتوں سے درخواست کرسکتا ہوں کہ ریلیاں نکال کر جمہوریت کا بیڑہ غرق نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام ہے۔ ہم پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے مچور جمہوریت کا کردار ادا کریں گے، اگر کسی کا حکومت کے ساتھ اختلاف ہے تو پارلیمنٹ کے انڈر بات کی جائے، سڑکوں پر آنے سے کوئی اور فائدہ اٹھائے گا جس سے جمہوریت کا نقصان ہوگا۔
خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ پیپلز پارٹی نے ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف ادوار کی ماریں کھائیں ہیں، ہمیں سیاسی صورتحال سنبھالنے کا تجربہ ہے، جمہوریت کو بچانے کیلئے ہم میاں نواز شریف کی حکومت کا ساتھ دیں گے، انہوں نے بھی میمو سکینڈل میں ہمارا ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل سات مرتبہ اس پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے، ہم نے اس پارلیمنٹ کو بنتے اور ٹوٹنے وہئے دیکھا، ماضی میں جب بھی پارلیمنٹ کوتوڑا گیا پہلے ملی بھگت کی گئی، 1997ء میں بی بھی شہید نے کہا تھا کہ وہ پالیمنٹ کو ریوالونگ چیئر نہیں بننے دیں گی، یہی وجہ ہے کہ 1997ء میں جمہوری بساط لپیٹنے کے خواہش مند کامیاب نہیں ہوئے، ہم سے بھی استعفے دینے کا مطالبہ کیا گیا مگر ہم نے پارلیمنٹ کی خاطر 17 نشستوں کے ساتھ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا، یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی ہمیں بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کی بساط کو لپیٹنے کی کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے، ملک قائم رہے گا تو اقتدار بچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہئیں اور اس حوالہ سے اپنی خارجہ پالیسی کے خدوکال بہتر بنانے کیلئے وزیراعظم سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسروں کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہئے، یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طاہر القادری دین کی تبلیغ کرتے رہیں مگر کینیڈا میں بیٹح کر پاکستان کی سیاست نہ کریں، اگر ریلیاں نکالنی ہیں تو اسلام دشمن قوتوں کے خلاف نکالنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرادارووں کی ڈگر درست ہو جائے تو تمام مسائل حل ہوجائیں۔
وقت اشاعت : 2014-05-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں