بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عمران خان ، طاہر القادری کی تحریکیں
اشتراک عمل کے امکانات معدوم ہونے لگے بعض حکومتی ارکان سختی کرنے کے حامی، دیگر اسے معمولی اہمیت دے رہے ہیں
نواز رضا:
عام انتخابات کے انعقاد کو ایک سال ہونے کو ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اچانک ”مبینہ انتخابی دھاندلیاں“ یاد آگئیں اور عوام کو 11مئی 2014ء کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے دی ہے ۔ عمران خان جنہوں نے عام انتخابات میں شکست کو دل سے تسلیم نہیں کیا انہوں نے 14انتخابی حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کیلئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کررکھا ہے انہوں نے دباؤ بڑھانے کیلئے احتجاجی تحریک کی کال دی ہے۔
جب پہلی با ر قومی اسمبلی میں انتخابی حلقوں میں ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا مسئلہ اٹھایا گیا تو اس وقت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو تمام انتخابی حلقوں یا 20، 20 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرانے کی پیشکش کی تھی لیکن اسے عمران خان سمیت کسی جماعت نے قبول نہیں کیا۔ دراصل عمران خان کو اس بات سے دلچسپی نہیں کہ ووٹرز کے انگوٹوں کی شناخت کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
وہ 11مئی 2014ء کے انتخابات کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان جو ”سیاسی ایڈونچر“ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اب کی بار بھی نتائج کی پروا کئے بغیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے چیئر مین ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اپنے پرانے ایجنڈے ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“ کی تکمیل کیلئے ایک بار پھر 11مئی 2014ء کو ملک گیر مظاہروں کی کال دی ہے۔
ابتدا میں ان کے اعلان سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ دونوں جماعتیں مل کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر حکومت کیلئے اسی طرح کی پریشان کن صورتحال پیدا کردیں گی جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے کر حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت عمران خان نے ڈاکٹر طاہر القادرری کے دھرنا کا ساتھ نہیں دیا تھ اب ڈاکٹر طاہر القادری ان کے دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے، وہ پاکستان آنے کی زحمت گوارہ نہیں کررہے بلکہ کینیڈا سے ہی وڈیو لنک کے ذریعے مظاہرین سے خطاب کریں گے۔
اس طرح وہ عملی طورپر حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ نہیں لے رہے وہ محض اپنی سیاسی قوت کا مظاہری کرنے کی ”ریہرسل“ کررہے ہیں، انہوں نے اسلام آباد کا رخ کرنے کی بجائے راولپنڈی میں چاندی چوک سے لیاقت باغ تک مظاہرہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اپنی مکمل سیاسی وقت کے ساتھ عمران خان کے شو میں شریک نہیں ہوگی۔
سردست پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ”اشتراک عمل“ کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ شنید ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کی قیادت نے یہ کہہ کر اس مظاہرے میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے کہ پی ٹی آئی تو محض قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کرانے اور انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا مطالبہ منوانے کیلئے دھرنا دے رہی ہے ، جبکہ پاکستان عوامی تحریک موجودہ فرسودہ انتخابی نظام سمیت پورے کرپٹ نظام کی تبدیلی کیلئے جدو جہد کررہی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے ماضی میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان ایجنڈے پار اختلاف کی وجہ سے سیاسی اشتراک عمل نہیں ہوسکا۔ عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد جو عمران خان کی ”مہربانی“ سے قومی اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے وہ انک ی کال پر میدان میں کود پڑے ہیں۔ وہ اس بات پر مصو ہیں کہ 11مئی 2014ء کو طوفان برپا ہونے والا ہے جو خود اپنا راستہ بنائے گا۔
بہر حال عمران کے شوکو صرف عوامی مسلم لیگ ہی کی حمایت حاصل ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان جو خیبر پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ ہے اس کی قیادت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کا حصہ نہیں بنے گی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے مطابق انکی جماعت تحریک انصاف کے دھرنے میں اپنا وفد بھیجے گی، گویا یہ انکی جماعت کی طرف سے علامتی شرکت ہوگی۔
جماعت اسلامی کا موٴقف واضح ہے کہ ہر پارٹی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن ان کی جماعت کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری تحریک کا حصہ نہیں بنے گی۔ لہٰذا یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی، تحریک انصاف ”احتجاجی دھرنے“ پر سیاسی تنہائی کا شکار ہوگئی ہے۔ اسے عوامی مسلم لیگ کے سوا کسی سیاسی جماعت کی تائید حاصل نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ، ایم کیو ای، ، اے این پی سمیت اپوزیشن کی کسی سیاسی جماعت نے عمران خان کے دھرنے کی تائید نہیں کی بلکہ احتجاجی دھرنے کے جمہوری نظام کو ڈیل کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیا ۔
عمران خان نے بیک وقت کئی محاذ کھول رکھے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران کان چومکھی لڑائی لڑسکیں گے کہ نہیں۔ وفاقی حکومت ابھی تک احتجاجی دھرنے کے بارے میں ”خاموش“ ہے۔ جب اس بارے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدیر نثار علی خان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔ لہٰذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حکومت بظاہر عمران خان کی احتجاجی تحریک کو اپنے لئے کوئی ”خطرہ“ محسوس نہیں کرتی تاہم وہ گمگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
مسلم لیگی حکومت میں شامل ”عقاب“ صفت رہنماء تحریک انصاف کے کانرکنوں کو اسلام آباد میں بدنظمی اور داخلے سے روکنے کیلئے سختی کے ساتھ نمٹنے کے حامی ہیں جبکہ ”فاختاؤں“ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا اسلام آباد شو فلاپ ہونے سے سیاسی لحاظ سے وہ ایکسپوز ہو جائیں اس لئے ان کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے نہ روکا جائے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد تو آنے دے دیا جائے لیکن خیبر پی کے سے سن کی اصل سیاسی قوت کو اسلام آباد مجتمع نہ ہونے دیا جائے۔
بہر حال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے میں وفاقی حکومت کس حد تک سنجیدہ ہے۔ اس بات کا اندازہ لاپتہ افراد کیلئے ڈی چوک میں لگائے گئے کیمپ کو اکھاڑنے سے لگایا جاسکتاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے محترمہ آمنہ جنجوعہ کو کیمپ لگانے کی اجازت دے کر ایک سیاسی فیصلہ کیا، لیکن جب پولیس اپنی پوری قوت استعمال کر کے کیمپ کے شرکاء کو گرفتار کر کے لے گئی تو یہ تاثر دیا گی اکہ پولیس نے ازخود کارروائی کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
اس وقت اسلام آباد کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی کر کے کیلئے اسلام آباد پولیس کی نفری ناکافی ہے اس مقصد کیلئے رینجرز کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وزیر برائے ریلویز خواجہ سعد رفیق نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری شو کے خلا ف حکومت کی طرف سے پہلے رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ”ڈرامہ بازیوں“ سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
عمران خان چلے ہوئے کارتوس شیخ رشید کی بات سننے کی بجائے مخدوم جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کی بات پر توجہ دیں۔ عمران خان جس پارلیمنٹ کو دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہے ہیں وہ خود بھی اس کا حصہ ہیں۔ عمران کان انا کے خول میں بند ہیں ، قوم کو اپنی انا کی تسکین کیلئے پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک سے خوفزدہ ہے اور نہ ہی عوام کو سڑکوں پر لاکر حکومت کو کمزور کیا جاسکتا ہے اگر عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکے تو اسکی سزا قوم کو تو نہ دیں۔ بہر حال احتجاجی دھرنا جہاں حکومت کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتاہے وہاں اس سے عمران خان کا سیاسی کیریئر بھی وابستہ ے جس پر 11مئی 2014ء کو یہ مرحلہ بھی طے ہوجائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان