تازہ ترین : 1
Imran Khan K Sindh K Dorre

عمران خان کے سندھ کے دور ے اور رابطے

عمران خان کی کوشش ہے کہ تحریک انصاف میں صوبائی صدرنادراکمل لغاری کی طرح دیگر بااثر افراد کوسامنے لایاجائے۔خالد لوند کی شمولیت سے ضلع گھوٹکی کی حدتک تومہر گروپ کو مشکل حالات کا سامنا کرناپڑسکتاہے

الطاف مجاہد:
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہیں۔پہلے مرحلے میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے 8اضلاع میں الیکشن ہوں گے۔ان ضلعوں میں جیکب آباد کشمورقمبر ’لاڑکانہ شکار ہور سکھر‘ خیر پور اور گھوٹکی شامل ہیں۔دوسرے مرحلے میں 19نومبر کوٹنڈوالہیا‘ مٹیاری ٹنڈومحمد خان ٹھٹھہ‘ سجاول بدین ‘حیدر آباد دادو جامشورہ شہیدبے نظیرآباد ‘نوشہروفیروز‘ سانگھڑ‘ میرپور خاص‘ عمر کورٹ اور تھر میں پولنگ ہوگی۔
2001ء کے انتخابات میں یہاں سے پی پی کامیاب ہوئی تھی لیکن 2005ء میں جب کئی اضلاع منقسم ہوچکے تھے اور (ق) لیگ‘جومرکزاورصوبوں میں برسراقتدار تھی سندھ کے وڈیروں کی مدد سے کلین سویپ کرگئی۔کنگزپارٹیوں کاالمیہ یہی ہوا کرتا ہے کہ اقتدار کی چھاؤں میں پپننے والے تخت اُلٹتے اور تاج اُچھلتے ہی نظروں سے بھی اوجھل ہوجاتے ہیں۔2002ء سے 2008ء تک چوہدری شجاعت کو نجات دہندہ تصور کرنیوالے اب عمران خان نواز شریف اور پیرپگاروکوملجا وماویٰ تسلیم کررہے ہیں۔
سندھ میں بلدیاتی الیکشن کاولگل بختے ہی میر وڈیرے اور سیاسی لیڈرہی نہیں ،سیاسی کارکن بھی فعال ہوچکے ہیں۔ پی پی کی جمعیت علمائے پاکستان سے مفاہمت ہوچکی ہے۔صاحبزادہ زبیر اور پی پی کے سینیٹرمولابخش چانڈیو کی ملاقات نے اختلافات کی برف پگھلادی ہے۔ حیدرآباد کی حدتک قائم اس اتحاد میں توجماعت اسلامی فنکشنل لیگ اور دیگر بھی شامل ہیں اوسیدھے سبھاؤیہ شہر میں87ء سے برسراقتدار ہے۔
یہ بائیکاٹ کرے تو جماعت اسلامی ‘مسلم لیگ(ن) فنکشنل لیگ اور جمعیت علمائے پاکستان کا مقدر جاگ اٹھتاہے۔اس بار بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے۔صوبے کی حدتک دیکھیں تو جمعیت علمائے اسلام کے بیک وقت فنکشنل لیگ اور پی پی دونوں سے مذکرات جاری ہیں۔پی پی سے مفاہمت اسے کراچی، حیدرآباد اور بالائی سندھ میں بھی کامیابیاں دلاسکتی ہیں۔فنکشنل لیگ سے اشتراک عمل سانگھڑ‘ بدین عمرکورٹ خیرپو‘گھوٹکی ‘میرپور خاص مٹیاری‘ تھر اور نواب شاہ اضلاع میں طاقت بخشنے گا۔
گمان یہ ہے کہ جے یوآئی کی خواہش پی پی سے اتحاد کی ہے۔ویسے صوبے بھر میں اضلاع کی سطح پر”راجوانی اتحادوں کازور زردرہ ہے۔لاڑکانہ میں توممتاز بھٹوفنکشنل لیگ تحریک انصاف اور پی پی ناہیدخان میں ابتدائی معاملات بھی ملے ہوچکے ہیں۔شکارپور میں ماضی کے (ق) لیگی اور اس سے قبل پی پی کے رہنما غوث بخش مہرنے ضلعی چیئرمین کیلئے اپنے صاحبزادے عارف مہر کے نام کابھی اعلان کردیاہے۔
سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاسراج درانی کی کوشش ہے کہ آغامسیح الدین درانی عوام دوست پینل سے اسی منصب کے امیددارہوں۔ٹنڈوالہیارمیں اہلسنت والجماعت تحریک انصاف جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ضلع گھوٹکی میں مہرگروپ پی پی کاآفیشل اُمیددار ہاگا لیکن سرداراحمد علی پتافی سمیت کئی رہنماخالد لندسے رابطے میں ہیں اور مہر مخالف اتحاد تشکیل دے چکے ہیں ۔
ضلع گھوٹکی مہراور لوندبرسوں سے ایک دوسرے کے حریف ہیں۔(ق) لیگ کے عہد میں دونوں نے ایک گھاٹ پر پانی پیا تھا۔وہ بھی اس سورت میں کہ علی محمد مہر صوبے میں وزیراعلیٰ توخالد لوند وفاق میں وزیرمملکت تھے۔ بعد میں دونوں نے پی پی جوائن کی لیکن مہر گروپ نے اپنے حریف کوپسپائی پر مجبور کردیا۔اب عمران خان کا خالدلوند سے رابطہ ہواہے۔کہاجارہاہے کہ یہ سلسلہ آگے چل کر روابط کومضبوط بھی کرسکتا ہے۔
ویسے عمران خان نے عارف علوی کے توسط سے ممتاز بھٹوکوبھی کچھ یقین وہانیاں کرائی ہیں۔ان کے صاحبزادے کوتحریک انصاف سندھ کی صدارت سونپنے اور مستقبل میں اہم ذمہ داریاں دینے کابھی تذکرہ ہے۔عمران خان کی کوشش ہے کہ تحریک انصاف میں صوبائی صدرنادراکمل لغاری کی طرح دیگر بااثر افراد کوسامنے لایاجائے۔خالد لوند کی شمولیت سے ضلع گھوٹکی کی حدتک تومہر گروپ کو مشکل حالات کا سامنا کرناپڑسکتاہے کہ وہاں پی پی کوداخلی مزاحمت بھی درپیش ہے البتہ لاڑکانہ میں ممتاز بھٹو کی شمولیت شاید زیادہ تقویت نہ بخش سکے کہ وہاں انٹرگروپ ناہیدخان اور فنکشنل لیگ 2013ء میں بھی کوئی مئوثر گروپ ٹوٹ کران کاساتھ دینے لگے تونتائج اب سیٹ ہوسکتے ہیں لیکن حکمران پیپلزپارٹی کے مخالفوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ منشر ہیں۔
خودوفاق میں حکمران (ن) لیگ سندھ میں3گروپوں کی حدتک منقسم ہے۔ایک اسمٰعیل راہو نہال ہاشمی یاممنون حسین گروپ دوسرے غوث علی شاہ اور انکے حامی تیسرے مرحوم جنرل سیکرٹری مخدوم شاہ نواز کے بھائی مخدوم عطاحسین کی زیرقیادت ناراض سینسئر کارکن تحریک انصاف میں بھی جسٹس وجیہہ کے حامی فعال ہورہے ہیں۔جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان نسبتاََ فعال نہیں ۔
البتہ جے یوآئی صوبے بھر میں پھیلے دینی مدارس کی وجہ سے مئوثر نظرآتی ہے۔دوسری طرف فنکشنل لیگ، جو2005ء میں صوبے کے مٹیاری ‘ٹنڈوالہیارمیسر پورخاص عمرکوٹ سانگھڑ اور خیرپور اضلاع کے ضلعی ناظم کامیاب کراچکی تھی اور 2002ء میں مٹیاری سے اس کے جلال شاہ جاموٹ ایم پی اے کامیاب ہوئے تھے۔ 2008اور2013ء میں اپنی کامیابیوں کاتسلسل برقرار نہیں رکھ سکی ‘ اب مرحوم پیرپگاراشاہ مردان شاہ ثانی حیات نہیں ۔
یہ پیرصبغت اللہ شاہ عرف راجہ سائیں کاعہد اور مثبت نتائج کا حصول ان کی صلاحیتوں کاامتحان بھی ہے۔کراچی سے کشمور تک پھیلے سندھ میں پہلے اور دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات صوبے میں بدلتے منظرنامے کااشارہ ضروردیں گے البتہ اس کے نتائج شاید زیادہ مختلف نہ ہوں کہ ان اضلاع میں قبائلی اثرات غالب ہیں اور یہاں برسوں سے سومرومہر لوند‘شیخ‘ کھوسہ جمالی بھٹو اور سید بادشاہ جیتتے آرہے ہیں اور آنیوالے دنوں میں بھی کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں کہ وڈیرہ کلاس وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے لمحے بھر کاتامل نہیں کرتی اس لئے قیام پاکستان کے وقت کی مسلم لیگ سے لے کر آج کی مسلم لیگ (ن) تک انہوں نے کوئی وقت اپوزیشن میں نہیں گزارا۔
یہ ری پبلکن‘کنونشن‘پیپلز پارٹی ضیاء گروپ‘ جام گروپ مشرف لیگ اور (ق) لیگ ہر عہد میں طاقت ور کے ساتھ رہے ہیں۔اس بار بھی انہیں عمران خان کی صورت میں کوئی ”امکان “ نظرآیا تو یہ اسے پذیرائی دیں گے۔فی الحال تو وہ صوبے میں آصف علی زرداری کیساتھ ہیں کیونکہ وفاق میں برسراقتدار نوازشریف نے سندھ کو نظر انداز کررکھا ہے۔عمران خان کے دورے اشارہ دیتے ہیں کہ آصف زرداری اور نوازشریف سے ناراض لوگوں کا ان سے رابطہ ہورہاہے۔
خالد لوند‘ممتاز بھٹ وذوالفقار مرزااور دیگر کوپی ٹی آئی میں شمولیت پر آمادہ کرکے عمران خان صوبے میں تیسری قوت کے طور پر انٹری چاہتے ہیں۔دیکھتے ہیں دونوں مرحلوں کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد صوبے کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
وقت اشاعت : 2015-09-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں