تازہ ترین : 1
Imran Ka Azadi March Ya Quick March

عمران کا آزادی مارچ یا کوئیک مارچ!!!

مارچ کے شرکاء کی ہنگامہ آرائی پر فوج خاموش تماشائی نہیں رہ سکے گی۔۔۔۔۔جہاں تک عمران خان کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ دیکر درمیانی مدت کے الیکشن کرانے کے مطالبے کا تعلق ہے

اسرار بخاری:
14اگست کو عمران خان کا احتجاجی مارچ اور دھرنا کیا رنگ لائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو ملک کے سیاسی، عوامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر زیر بحث ہے اپنی اپنی ذہنی استعداد، معلومات اور فہم و ادراک کے مطابق نتائج اخذ کئے جارہے ہیں۔ جہاں تک عمران خان کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ دیکر درمیانی مدت کے الیکشن کرانے کے مطالبے کا تعلق ہے تو بلاخوف تردیدی یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ نوازشریف یہ مطالبہ تسلیم نہیں کریں گے۔
جنرل پرویز مشرف کے فوجی آفیسر حراست کے دوران ان سے یہ مطالبہ نہیں منواسکے تھے اب تو وہ وزیراعظم کی مسند پر ہیں تو عمران خان تو ایسی طاقت کا عشرٰ عشیر بھی نہیں رکھتے تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ ایک اعصابی جنگ وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان کے درمیان جاری ہے۔ البتہ وزیراعظم ہونے کے باعث عمران خان کے مقابلے میں نوازشریف زیادہ دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
فرض کیا عمران خان اگر ایک لاکھ یا اس سے زائد افراد اسلام آباد میں جمع کرلیتے ہیں اور ایک ہفتے تک مسلسل دھرنا دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وزیراعظم نہ استعفیٰ دیتے ہیں اور نہ ہی درمیانی مدت کے انتخابات پر آمادہ ہوتے ہیں تو عمران خان اور ان کے حامی کیا کریں گے منطقی طور پر وہ پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ظاہر ہے ریاستی قوت اس عمر میں مزاحمت کرے گی جس کے نتیجے میں عمران خان کے کارکنوں اور ریاستی اہلکاروں کے مابین تصادم ہوگا۔
اس تصادم کے نتیجے میں جو سنگین صورتحال پیدا ہوگی کیااس صورتحال میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایک ایسے موقع پر جن شمالی وزیرستان میں فوج کا ایک بڑا حصہ آپریشن میں مصروف ہے لاکھوں افراد بے گھر ہوکر بنوں کے کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں، ملک دہشت گردی کا شکار ہے، فوج کو ملک کا انتظام اپنے ہاتھ لینا پڑے گا اوراس سوال کو غیر اہم نہ سمجھا جائے کہ اگر فوج کو ایک بار پھر اقتدار پر قبضہ کا عمل دوہرانا پڑا تو پھر فوج کے درمیانی مدت کے الیکشن کرانے اور انتخابی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کون منوائے گا اور اگر ایسا ہا تو عمران خان کی شکل میں ایک اور ”اصغر خان“ جنم ضرور لے گا کہ فوج کو بھٹو دور میں لکھا گیا خط ہزار وضاحتوں کے باوجود ان کے شجرِسیاست کیلئے آکاس بیل بنا ہوا ہے۔
عمران خان کے حوالے سے اس صورتحال میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ شمالی وزیراستان میں فوجی آپریشن کے پیشِ نظر ملک میں جاری سنگین صورتحال میں احتجاجی مارچ اور دھرنے کا پروگرام بنا کر جمہوری نظام کا بستر گول کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے جن نشستوں پر الیکشن میں کامیابی ہوگئی انہیں کیوں شفاف تسلیم کیا گیا، حکومت کی جانب سے اختلافات یا مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر کے غیر سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ مذاکرات کی ناکامی کے بعد احتجاجی مارچ کا حربہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ اور ایسے حالات کیوں پیدا کئے گئے جس سے فوج کو موقع مل گیا؟ یہ سوالات اگر حقیقت بن گئے تو ان کے جوابات عمران خان کیلئے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جو ان کی سیاسی پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سختی سے مسلم لیگ ن کے اس دعوے کی تردیدی کی ہے کہ حکومت 14اگست کے لانگ مارچ کو رکوانے کے لئے تحریک انصاف کے ساتھ لانگ مارچ کے حوالے سے رابطے میں ہے۔ میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے تحریک انصاف کے چیئرمین سے بات کرنا چاہی تھی مگر عمران خان نے انکار کردیا اور اس کے علاوہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا وقت گزرچکا ہے اور لانگ مارچ ہر حال میں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے کچھ وزراء ہمارے کارکنوں کو کنفیوژ کرنے کیلئے افواہیں پھیلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آرٹیکل 245کے تحت فوج کو بلا کر غلط فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے کارکنوں اور فوج میں تصادم چاہتی ہے مگر ہمارے کارکن مارچ کیلئے ر عزم ہیں اور ہم فورسز سے ٹکراؤ نہیں چاہتے۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ نہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم کے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا تھا کہ حکومت لانگ ماچ کا فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے رابطہ میں ہے اور وزیراعظم خود ساری صورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں۔ پارٹی کے کچھ لوگ مذاکرات کیلئے کام کررہے ہیں۔
دریں اثناء تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز احمد چودھری نے صوبے کے مختلف اضلاع میں 3اگست سے 16اتست تک منعقد ہونے والے آزادی مارچ ورکرز کنونشنز کا شیڈول جاری کردیا۔
میڈیا رپورٹس میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو غیر موثر بنانے کیلئے عمران خان سے ”مذاکراتی عمل“ شروع کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی اور طے شدہ حکمت عملی کے تحت حکومت کی طرف سے مذاکرات کا تاثر دے کر عمران خان کی لانگ مارچ کے بارے میں پوزیشن کو مشکوک بنایا جارہا ہے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان انہیں ”محفوظ راستہ“ دینے پر بات چیت جاری ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے مذاکرات کے تاثر نے عمران کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑ اکردیا انہیں مذاکرات کی تردید اور وضاحتیں جاری کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان براہ راست حکومت کے رابطے میں نہیں لیکن اہم حکومت عہدیدار ان سے بیک ڈور چینل پر رابطے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کو بار بار یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ 14اگست کو ممکنہ دہشت گردی سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
وزیراعظم کے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی نے عمران خان سے رابطوں کی تصدیق کر کے ان کی پوزیشن مشکوک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرا داخلہ چودھری نثار علی خان اس وقت تک عمران خان سے براہ راست رابطہ نہیں کریں گے جب تک وہ ”بیک ڈور چینل“ سے رابطوں کے نتیجے میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ عمران خان کو پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے ذریعے مطالبات منظور کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نادیدی قوتیں بھی عمران خان کو 14اگست کو لانگ مارچ موخر کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادی کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاہم ان قوتوں کو ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔ عمران خان اپنے اعلان کو موخر کرنے کو سیاسی خود کشی قرار دے رہے ہیں اور لانگ مارچ پر اصرار کررہے ہیں۔ دریں اثناء آن لائن اور آئی این پی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر داخلہ نے بنی گالہ میں عمران سے ملاقات کی اور انہیں مارچ نہ کرنے کا مشورہ دیا تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین نے ماننے سے انکار کردیا۔

وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت وزیراعظم کی قیادت میں عوام کے دئیے بھاری مینڈیٹ کے مطابق پاکستان کو مسائل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ کوئی مارچ اور احتجاج ملک کی ترقی کے سفر میں حائل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو ایسے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں جس سے قومی وحدت پارہ پارہ ہوجائے بلکہ ملک کو ترقی و خوشحالی کے لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔
وطن عزیز انشاء اللہ اپنی منزل ضرور حاصل کرے گا۔ ملک سے اندھیرے دور ہوں گے اور پاکستان دنیا کی عظیم معاشی قوت بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مری میں یوتھ ونگ کے وفد سے گفتگو میں کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف امن کے دشمنوں سے برسرپیکار ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک و قوم کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کیلئے پوری قوم متحد ہوجائے۔

جبکہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مڈٹرم الیکشن کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ وفاقی وزیرخذانہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں نے 11مئی کے الیکشن کو ٹرانسپرنٹ قرار دیا تھا۔ کروڑوں ووٹ لینے والی جماعت کو چند ووٹ لینے والے گھر بھیج دیں یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک رات گیارہ پچیس پر تقریر کا تعلق ہے کہ میاں نواز شریف نے کیوں کی؟ میں مسلم لیگ ن کے الیکشن سیل کا سربراہ تھا بحیثیت انچارج الیکن سیل یہ تیسرے عام انتخابات تھے۔ 200نشستوں کے نتائل میں سے 112نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امید وار لمبی لیڈ سے جیت گئے تھے۔ اور ہم نے 60فیصد نشستیں جیت لی تھیں۔ ہزاروں لوگ میاں نواز شریف کے پاس جمع ہوچکے تھے ان کا خطاب کرنا فطری تھا جبکہ خود تحریک انصاف نے ساڑھے دس بجے خیبر پی کے میں اپنی کامیابی کا اعلان کردیا تھا۔
عمران خان اپنے اندر سپورٹس مین سپرٹ پیدا کریں ۔ اس وقت ملک کی معیشت مزید مستحکم کرنے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مل کر خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلح افراج دہشت گردوں اور نواز شریف توانائی کے بحران سے نمٹ رہے ہیں، حکومت کے پانچ سال پورے ہونے پر دیکھا جائے گا کہ الیکشن میں کون جیتتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام نے پانچ سال حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔
میں نہ مانوں والا ایجنڈا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات کیلئے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی بنائی ہے اس میں یہ بھی کردار ادا کریں تاکہ آنے والے الیکشن مزید شفاف ہوں۔ اسلام آبا دپر لشکر کشی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح نہ خطرہ ہونہ چاہئے نہ خطرہ ہے یہ کوئی طریقہ نہیں کہ چند ہزار لوگ جمع ہوجائیں اور کہیں کہ حکومت چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان شکست تسلیم کریں یا پھر ثابت کریں کہ دھاندلی ہوئی ہے، انہوں نے شروع میں کہا کہ میں نتائج تسلیم کرتا ہوں اس کے بعد بدل گئے میری خواہش ہے کہ عمران کان کوئی موقف اپنانے کے بعد کبھی تو اس پر قائم رہیں، اسلام آباد میں فوج کو 245کا اختیار دئیے جانے کے حوالے سے سوال کہ جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کو پہلی مرتبہ یہ اختیار نہیں دیا جارہا۔
ماضی میں محرم کے موقع پر 245کا اختیار فوج کو دیا جاتا رہا ہے اور اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں کہیں بھی یہ اختیار دیا جاسکتا ہے۔
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیاست میں لچک ہونی چاہئے، آرٹیکل 245 کے تحت فوج لگانے سے عدالتوں کے اختیارات ختم ہوجائیں گے، فوج کو بلانا ہے تو نارمل طریقے سے حکومت کی مدد کیلئے فوج بلائی جاسکتی ہے، سیاسی اختلافات طے کرنے کیلئے پل بنانے چاہئیں ، دیواریں نہیں۔
حکمران جماعت کے لوگوں کو سخت بیانات سے گریز کرنا چاہئے کہ بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔عمران خان کو مطالبہ کرنے کا حق ہے۔ کوئی بھی مطالبہ ہو اس پر بات کرنی چاہئے۔ عمران خان اور طاہر القادری سے حکومت کو میز پر بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔ احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں سے نہیں حکومت اپنی غلطیوں سے جاسکتی ہے۔سیاست میں لچک ہونی چاہئے۔
دوریاں پیدا ہوئیں تو میں ان کے بغیر مدعو کئے چلا گیا جس سے ٹمپریچر کم ہوگیا۔ عمران خان اور طاہرالقادری سے مذاکرات کر کے سیاسی مسائل حل کریں۔عمران خان کے دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر مذاکرات کئے جاسکتے ہیں، سیاست میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے جانے چاہئیں، ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں۔ عمران خان کا کوئی بھی مطالبہ ہو وہ گفت و شنید سے حل کیا جاسکتا ہے۔

ادھر متحدہ راطبہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ ایم کوی ایم آزادی مارچ اور یوم انقلاب میں شرکت کے بارے میں غور کررہی ہے مگر طاہرالقادری کی انقلابی سوچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور انقلاب کے متعلق الطاف حسین اور طاہر القادری کی سوچ ایک ہے‘ پر امن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے اور احتجاج ضرور کیا جائے مگر سیاسی نظام کو دھچکا نہیں لگنا چاہئے‘ آرٹیکل 245 کے مقصد جب تک سامنے نہیں آتے اس وقت تک ان پر بات نہیں ہوسکتی۔
جمعہ کو 6رکنی وفد کے ساتھ ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ملاقات کا مقصد کارکنوں کی ہلاکت پر ڈاکٹر طاہرالقادری سے اظہار تعزیت کرنا اور انکے غم میں شریک ہونا ہے۔ طاہر القادری سے انقلاب کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایک سال کے دوران حکومت بھی عوام کی بعض توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے بالخصوص بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔
موجودہ حکمران نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو جس طرح سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا وزیراعلیٰ شہباز شریف نے مینار پاکستان میں کیمپ لگا کر اس کی شدت کو نمایاں کیا۔ اس سے عوام کے ذہن بن چکے تھے کہ شریف برادران کو حکومت ملی تو وہ سب سے پہلے عوام کو بجلی کی لود شیڈنگ سے پیدا شدہ عذاب سے نجات دلائیں گے لیکن حکومت ملنے کے بعد ان کی ترجیحات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی بجائے دیگر منصوبے شامل ہوگئے اگرچہ یہ عوام کیلئے ہی ہیں مگر عوام کی اولین خواہش تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نجات تھی۔
عمران خان جن چار حلقوں کی بات کرتے ہیں وہاں دوبارہ گنتی کی بجائے حکومت ایک قدم آگے بڑھ کر دوبارہ پولنگ کرادے وہ دوبارہ جیت لے گی کیونکہ حکومت وقت کے امیدوار کو لوگ اس لئے ووٹ دے دیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ حلقے میں کام ہوجائیں گے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات میں اصلاحات کی جو بات کررہے ہیں سینٹ اور قومی اسمبلی کی اس حوالے سے کمیٹیاں اپنی جگہ کوئی حرج نہیں ۔
آئینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنا کر ان دونوں کو اپنی تجاویز کے ساتھ بات چیت کی دعوت دے دی جائے او ران کی مفید تجاویز کو قبول کرلیا جائے۔
اگرچہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کیلئے عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے ارکان سے استعفیٰ طلب کرلئے ہیں اور 13اگست کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے لیکن درپیش حالات میں کوئی غیر مرئی قوت ملکی مفاد کے نام پر احتجاج مارچ کے التوا کی راہ ہموار کرسکتی ہے بصورت دیگر خرابی حالات سے جو نتائج جنم لیں گے اس کے ذمہ دار تنہا عمران خان ہی نہیں کچھ اور قوتوں کے تذکرے بھی ہوں گے۔
وقت اشاعت : 2014-08-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں