تازہ ترین : 1
Hakomat Or PTI Donoon K Liye 3 Din Ki Mohlat

حکومت اور پی ٹی آئی۔۔۔۔دونوں کے لئے3 دن کی مہلت

عمران خان کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن اب وہ عارضہ قلب کا علاج کرانے امریکہ جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) بھی میدان میں آ گئی ہے

نواز رضا:
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 14 اگست 2014ء کو جس ”سیاسی بحران“ کی بنیاد رکھی تھی وہ ابھی تک ختم نہیں ہوا، البتہ اس کی شدت میں کمی ضرور ہوئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو اپنا دھرنا سمیٹ کر اسے گلی کوچوں میں لے گئے ہیں لیکن عمران خان ڈی چوک سے واپس جانے کے لئے تیار نہیں۔
وہ جہاں ملک کے طول و عرض میں بڑے جلسے منعقد کر رہے ہیں وہاں روزانہ ڈی چوک میں ”دھرنا نما جلسی“ سے خطاب کر کے اس جگہ موجودرہنے پر بضد ہیں۔ عمران خان کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن اب وہ عارضہ قلب کا علاج کرانے امریکہ جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) بھی میدان میں آ گئی ہے اور بہاولپور میں ایک بڑا جلسہ منعقد کر کے اپنے وجود کا احساس دلایا ہے لیکن جماعت اسلامی پاکستان نے ”جلسوں کی سیاست“ میں مینار پاکستان کے سائے تلے ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کر کے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسوں کے تاثر کو کم کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ جماعت اسلامی کسی سے کمزور سیاسی جماعت نہیں ہے اسے ملکی سیاست میں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی قومی اْفق پر پوری قوت سے ابھر رہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے جماعت اسلامی کے جلسہ کی کامیابی کی سب سے زیادہ خوشی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو ہوئی ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مقابلے میں تین روزہ بڑا اجتماع منعقد کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سراج الحق کو مبارک دی ہے۔
دوسری جانب عمران خان نے تو اب 30 نومبر 2014ء کو شاہراہ دستور پر ”ہلہ“ بولنے کی کال دے دی ہے۔ ننکانہ صاحب کے جلسہ میں تحریک انصاف کے شامل باجہ شیخ رشید احمد نے اپنی خطابت کے جوہر دکھاتے ہوئے ”مارو یا مر جاؤ اور گھیراؤ جلاؤ“ کی کال دے کر جہاں عمران خان کے لئے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے وہاں وفاقی حکومت کو بھی اپنی ”نرم پالیسی“ پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران خان کو شاہراہ دستور کے سوا مختلف مقامات پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن عمران خان اس بات پر بضد ہیں کہ وہ شاہراہ دستورہی پر جلسہ کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان کو روکا گیا تو مقابلہ کریں گے۔ عمران خان اور شیخ رشید احمد پچھلے تین ماہ سے حکومت کے خاتمے کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں لیکن ہر پیشگوئی کے بعد وہ نئی تاریخ دے دیتے ہیں۔
سردست وفاقی حکومت نے ریڈ زون کو سیل کر دیا ہے اور ریڈ زون میں اہم سرکاری عمارات جن میں وزیراعظم آفس، پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، سپریم کورٹ اور وزیراعظم ہاوٴس شامل ہیں کی حفاظت کے لئے رینجرز، کانسٹیبلری اور پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی ہے۔ اگرچہ ریڈ زون میں اہم سرکاری عمارات کی حفاظت کے لئے مامور فوج ہٹا لی گئی ہے اور اس کی جگہ رینجرز نے لے لی ہے۔
تاہم وفاقی وزارت داخلہ کے حکام نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اگر سرکاری عمارات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوا تو فوج کو دو بارہ طلب کر لیا جائے گا۔ اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم نواز شریف کی سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے کھٹمنڈو روانگی سے قبل ملاقات کی ہے۔
جس میں انہوں نے وزیراعظم کو اسلام آباد کو محفوظ شہر بنانے کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے عمران خان کو شاہراہ دستور پر جلسہ نہ کرنے کے لئے پوری ریاستی قوت کو بروئے کار لانے کی اجازت دے دی ہے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ہمراہ لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے”عمران شو“ کو ناکا م بنانے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مختلف سڑکوں پر 30 نومبر2014ء سے قبل کنٹینر لگانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور فی الحال کنٹینرز سڑکوں کے ایک طرف رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ادھر عمران خان کے دھرنے کے خلاف اسلام آباد کے تاجر بھی میدان میں اتر آئے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر دھرنے کی سیاست کے خلاف بینر لگا دئیے ہیں۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ اسلام آباد میں دھرنے کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرے تاجر برادری حکومت کا ساتھ دے گی۔ عمران خان کا ڈی چوک میں دھرنا کُلی طور ناکام ہو چکا ہے۔ اب تو ان کے کارکن بھی موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ان کا دھرنا اجڑ گیا ہے۔ بہرحال تین روز بعد30 نومبر کو وہ فیصلہ کن جنگ کرنے اور بقول شامل بینڈ باجہ” گھیراؤ، جلاؤ اور مارو مر جاؤ“ کا ایجنڈا لے کر آ رہے ہیں۔
اس دوران امکان ہے کہ عمران خان آخری وقت شاہراہ دستور کی بجائے متبادل مقام پر جلسہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے عمران خان 30 نومبر 2014ء کو حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو تے ہیں یا خود گر کر بیک فٹ پر چلے جاتے ہیں اس سوال کا جواب تو تین روز بعد ہی ملے گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے حکومت اور اپوزیشن لیڈر کو آخری مہلت دے دی ہے، اور حکم جاری کیا ہے کہ 5 دسمبر 2014ء کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لے لی جائیں گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومت اور اپوزیشن لیڈر کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔پہلے سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس کے نام پر اتفاق ہوا تو انہوں نے معذرت کر لی پھر حکومت اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کے نام پر اتفاق ہوا تو عمران خان نے انہیں بھی متنازعہ بنا دیا۔ جس کے بعد انہوں نے بھی معذرت کر لی۔
اس کے بعد تو شاید ہی سپریم کورٹ کا کوئی جج چیف الیکشن کمشنر بننے کے لئے تیار ہو۔ چونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے اس لئے اس میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے جج کے علاوہ کسی دوسری شخصیت کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کی گنجائش پیدا کرنا بھی ایک مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی عمل میں تعطل کی وجہ سے اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی، ساتھ ہی انتخابی اصلاحات پر جو پارلیمانی کمیٹی کام کر رہی ہے ، متعلقہ وزیر زاہد حامد کے مستعفی ہونے پر اس کمیٹی کا کام بھی رک گیا ہے۔
چنانچہ حکومت کے پاس فی الوقت یہ سہولت بھی نہیں کہ وہ ترمیم کر کے مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری عمل میں لے آئے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی آخری مہلت میں مستقل چیف الیکشن کمشنر کے لئے کسی نام پر متفق نہ ہوئے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قائم مقام چیف کمشنر کو واپس بْلا لیں گے۔ سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے ملک میں آئینی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس سے بچنے کے لئے حکومت سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے رویہ میں لچک پیدا ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے مسقل چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے کسی جج کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنا آئینی فریضہ ہے لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے سپریم کورٹ ان معاملات سے اپنے آپ کو الگ رکھنا چاہتی ہے۔ بہرحال مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حکومت اور اپوزیشن کو کسی نام پر اتفاق رائے کرنا پڑے گا بصورت دیگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آئینی بحران کیا شکل اختیار کرتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-11-28

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں