تازہ ترین : 1
Hakomat Imran Khan Ko Siasi Tanhai Ka Shikar Karne K Liye Maidan Main Aa Gaye

حکومت عمران خان کو سیاسی تنہائی کا شکار کرنے کیلئے میدان میں آ گئی

تحریک انصاف کے احتجاجی جلسوں کی وجہ سے حکومتی کمیٹی سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔عمران خان کے ” سونامی“ نے سیالکوٹ کے بعد اب بہاولپور کا رخ اختیار کر لیا ہے

نواز رضا:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ” سونامی“ نے سیالکوٹ کے بعد اب بہاولپور کا رخ اختیار کر لیا ہے اگرچہ عمران خان بڑے بڑے جلسے منعقد کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کی تحریک زور نہیں پکڑ سکی سر دست عمران خان ”سولو فلائٹ “ کر رہے ہیں انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر مبنی عمران خان کی تحریک کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پذیرائی تو ملی ہے لیکن ابھی تک عوامی مسلم لیگ کے سوا اپوزیشن کی کوئی جماعت اس کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہوئی اس دوران حکومت بھی عمران خان کو ” سیاسی تنہائی “کا شکار کرنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے فوری طور پر سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لئے احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق اور عرفان صدیقی پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی قائم کر دی جس نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے پر آمادہ کر لیا دراصل حکومت نے بھی عمران خان کی انتخابی اصلاحات کی آڑ میں شروع کی جانے والی تحریک کا دباؤ کم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی کمیٹی نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ اور نائب امیر میاں محمد اسلم سے اہم ملاقات کی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے مل جل کر جدوجہد کرنے اور موجودہ صورت حال کے تناظر میں باہم رابطے قائم رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ ہے لیکن وہ موجودہ حکومت کے خلاف چلائی گئی عمران خان کی تحریک کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بھی انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر بات چیت ہو ئی ہے سہ رکنی کمیٹی کے ارکان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے عبوری صدر حاجی عدیل سے بھی بات چیت کی ہے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے بھی قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میاں رضا ربانی سے ملاقات کی جس میں انتخابی اصلاحات کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا ان سیاسی جماعتوں نے موجودہ جمہوری سیٹ اپ کو گرانے کی کسی کوشش کا حصہ نہ بننے اور موجودہ منتخب حکومت کی آئینی مدت کا احترام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر حکومت بھی ملک کے سیاسی ماحول کو سازگار بنانے کے لئے ان قوتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہے جو عمران کی ”سونامی“ میں ”شامل بینڈباجہ“ نہیں بننا چاہتیں اور وہ اپنی انفرادی حیثیت برقرار رکھنا چاہتی ہیں عمران خان بھی ”لندن یاترا“ سے واپس آگئے ہیں ان کی لندن میں کسی سیاسی لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی تاہم پاکستان مسلم لیگ(ق)کے صدر چوہدری شجاعت حسین برطانیہ میں پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کے ہاتھ پر ”بیعت “ کر کے وطن واپس آگئے ہیں تحریک انصاف حکومت کے خلا ف سیاسی میدان گرم کرنے کی کو شش کر رہی ہے عمران کے بڑے بڑے جلسے حکومت کے لئے پریشان کن صورت حال پیدا تو کر رہے ہیں ہیں لیکن یہ جلسے حکومت مخالف تحریک میں شدت کا باعث نہیں بن سکتے جو پورے نظام کو ہی لپیٹ دینے کا باعث بنے اس دوران وزیراعظم محمد نواز شریف نے ملک میں آزاد، صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کا پیکیج تیار کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا سیاسی فیصلہ کر لیا ہے انتخابی اصلاحات پر خصوصی کمیٹی کے قیام کے بعد عمران خان کی انتخابی اصلاحات کے نام پر شروع کی گئی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل سکتی ہے پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو ان کی پارلیمانی قوت کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی کمیٹی کسی بھی فرد، جماعت یا گروہ کی جانب سے انتخابی عمل کو شفاف اور موثر بنانے کے لیے دی جانے والی تجاویز کو شامل کر سکے گی منگل کے روز وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کوایک خط لکھا ہے جس میں انتخابی اصلاحات کی تیاری کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے بھی تجاویز تیار کی جائیں۔ یہ کمیٹی عبوری دور میں الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لئے پیش کی گئی تجاویز پر بھی غور کرنے کی مجاز ہوگی کمیٹی تین ماہ میں انتخابی اصلاحات پر مبنی آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرے گی تحریک انصاف جس نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی سے باہر رہنا مشکل ہو جائے گا بہر حال افسوس ناک امر یہ ہے بعض نجی ٹی وی چینلوں پر بیٹھے” ارسطواورافلاطون“ موجودہ حکومت کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں کرکے غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ایک اور ”سیاسی افلاطون“ ہر آنے والے تین چار مہینوں کو بڑا اہم قرار دینے کی بات کرتے رہتے ہیں بعض ٹی وی چینلوں پر” بزعم خویش سیاسی و دفاعی امور کے ماہر اینکر پرسنز“ جس انداز میں حکومت اور فوج کے تعلقات کار کو زیر بحث لاتے ہیں اس پر پیمرا حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی فوج کا ترجمان اس کا نوٹس لیتا ہے اگر یہ کہا جائے اس وقت سارا فساد ہی ان عناصر کا پیدا کردہ ہے جن کو حکومتی حلقوں میں بھی بڑی پذیرائی ملتی ہے اور حکومتی میڈیا ٹیم بھی ان ہی لوگوں کے ”ناز نخرے“ اٹھانے میں پیش پیش رہتی ہے موجودہ حکومت قائم ہوئے ایک سال ہی ہوا ہے لیکن اس کے جانے کی باتیں کرکے جمہوری نظام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے موجودہ حکومت کی تو یہ حالت ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے حکومت کے ابتدائی تین چار ماہ کے دوران دہشت گردی کے بد ترین واقعات ہوئے ہیں مذ ا کرات کا عمل شروع ہونے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کچھ ”ٹھہراؤ “ آیا تھا لیکن کراچی ایئر پورٹ اور ملک کے دیگر مقامات پر ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے جب اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے حکومت کی رہنمائی بجائے اپوزیشن سیاسی پوائنٹ سکورننگ شروع کر دیتی ہے بلکہ دہشت گردوں سے آ ہنی ہاتھ سے نمٹنے کا مشورہ دینے والے سیاسی عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کے واقعہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں معمول کا ایجنڈا معطل کر کے بحث کرائی گئی اپوزیشن تو ویسے ہی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پر ادھار کھائے بیٹھے رہتی ہے اسے کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کی آڑ میں وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورننگ کا موقع مل گیا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ایوان میں عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ” تختہ ء مشق “ بنایا گیا حالانکہ وہ دہشت گردی کے واقعہ کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کراچی گئے ہوئے تھے لیکن سید خورشید شاہ جن کے چوہدری نثار علی خان سے پچھلے کئی ماہ سے تعلقات کشیدہ ہیں نے ایک رام کہانی سنائی ہے کہا کہ ” وزیراعظم محمد نواز شریف سانحہ کراچی ایئر پورٹ کے حوالے سے ساری رات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تلاش کرتے رہے وفاقی وزیر داخلہ کی کراچی کے واقعہ پر کئی گھنٹوں کی طویل خاموشی باعث تشویش ہے شاید انہوں نے حملہ آوروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تو ان سے نہیں لڑنا چاہتے حکومت لڑ رہی ہے کراچی سے واپسی کے بعد ایوان میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پر اعتماد لہجے میں اپوزیشن کی سیاسی پوائنٹ سکورننگ کا ترکی بہ ترکی جواب دیا اوکہا کہ یہ حملہ کراچی ایئرپورٹ پر نہیں ، پرانے ایئرپورٹ کے ٹرمینل پر کیا گیا جو کراچی ایئرپورٹ سے ایک میل کے فاصلے پر ہے ، سندھ حکومت کو مارچ میں وزارت داخلہ نے مذکورہ گیٹ کی سکیورٹی ناکافی اور سکیورٹی رسک قرار دے دیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے کوئی اقدامات نہ کئے نومبر سے اب تک خفیہ اداروں نے کراچی بارے میں 2 الرٹس جاری کئے ایک سال میں کئی بار صوبائی حکومت کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا کہ ”اگر سیاسی بحث کرنی ہے تو میں اس کیلئے بھی تیار ہوں“ وفاقی وزیر داخلہ کی تقریر کو دوران اپوزیشن بنچوں کی طرف سے مزاحمت نہ کرنا وفاقی وزیر داخلہ کے موقف کی تائید تھی۔
وقت اشاعت : 2014-06-14

(2) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • ہارون کامران کی رائے : 16/06/2014 - 13:39:19

    نواز رضا صاحب معاذرت کے ساتھ آپ کے اس کالم میں نواز شریف اور نون لیگ کی طرف جھکاو واضح نظر آرہا ہے ، صحافت کی طوائف بننے کے بجائے اپنا بکا ہوا ضمیر واپس حاصل کریں اور غیر جانبدارانہ انداز اپنائں یا پھر اپنا نام نواز شریف کی رضا رکھ لیں

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں