بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گیلانی نے پول کھول دیا!
پیپلز پارٹی کی قیادت مشرف کو گارڈ آف آنر فوج کے کھاتے میں ڈالتی رہی ہے۔۔۔۔۔سابق وزیراعظم جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے مستعفی ہونے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی جو بات ہے اس میں سچائی کا جواز یہ ہے
اسرار بخاری:
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے سلسلے میں پاکستانی سیاست بہت سی داستانوں کی امین ہے کسی کا اقتدار میں آنا اور کسی کا کسی کو اقتدار سے نکلوانے کیلئے ”ڈیل فارمولے‘ استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈیل ہمیشہ براہ راست ہی ہوتی ہو یا ہوتی رہی ہو یہ بالواسطہ بھی ہوتی ہے مثلاََ بہت سی روایات کے مطابق بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیال الحق کو خط لکھ کر یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کو رہا کردیا جائے تو وہ بیرون ملک جاکر ایک خاص مدت تک سیاسی سے لاتعلق رہیں گے اس خط پر سوچ بچار کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے جیل میں ”میں ان جنرلوں کو پھانسی گھاٹ کی طرف اشارہ کر کے یہاں لٹکاؤں گا“ کی دھمکی آمیز نعروں نے کسی منطقی انجام تک نہ پہنچنے دیا یہ جو جنرل کے ایم عارف کے ذریعہ جنرل ضیاالحق کو بھیجا گیا تھا وہ اسے اپنی کسی خاص مصلحت کے تحت منظر عام پر نہیں لارہے تاہم اگر ان کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی تو تردید بھی نہیں کی گئی۔
لہٰذا اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی اسی نوعیت کی ایک اور ڈیل جو سعودی عرب کی کوششوں سے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہوئی اس ڈیل کے تحت میاں نواز شریف کو اٹک جیل سے نکال کر سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ پہنچا دیا گیا تھا اس ڈیل کو انجام تک پہنچانے میں لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے صاحبزادے سعد الحریری نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ ڈیل بہر حال منظر عام پر آگئی اس ڈیل کے نتیجے میں میاں نواز شریف کو ایک خاص مدت کے بعد پھر سیاسی میدان میں اترنے اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا موقع ملا اسی طرح اگر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی ڈیل طے پاجاتی تو ایک خاص مدت کے بعد وہ بھی سیاست میں اور قوی امکان کے ساتھ کہ پھر اقتدار میں ہوتے لیکن انکی دنیا میں سانسیں پوری ہوگئی ں تھیں اگرچہ آج بھی اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد اور سیاست میں سرگرم ہونے کی راہ اس ڈیل نے ہی ہموار کی تھی جو امریکہ اور اس سے ذیادہ برطانیہ کی کوششوں سے بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین طے پائی تھی اس ڈیل میں کہا جاتاہے فوج یا جنرل مشرف کی جانب سے ابتدائی بات چیت آج برس آئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل لیفٹینینٹ جنرل احسان الحق اور جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اہم کردار ادا کیا تھ ابعد ازاں یہ ڈیل جناب آصف علی زرداری کے مقدر کا چمکتا ہوا ستارہ بن گئی اور وہ اس ملک کے سب سے بڑے منصب یعنی صدر مملکت کی مسند تک جا پہنچے اور یہ اسی ڈیل کا اگل اقدم تھا جس جنرل پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر پیش کر کے بیرون ملک بھیجا گیا انہیں موقع مل گیا تھا کہ وہ اپنی بقیہ زندگی برطانیہ اور امریکہ کے شہروں میں اپنے خاص مشاغل میں گزارتے لیکن اقتدار کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ وہ نشہ نہیں جسے اقتدار سے محرومی کی تلخی اتاردے بلکہ اقتار کا نشہ انسان کو چین نہیں لینے دیتا پھر جنرل پرویز مشرف تو کئی ایک غلط فہمیوں کا شکار تھے ان کا خیال تھا کہ (ق) لیگ کی شکل میں ایک ملک غیر سیاسی جماعت ان کی پشت پر ہے لیکن وہ یہ اندازہ نہ کرسکے کہ اس جماعت میں شامل لوگوں کی بہت بڑی اکثریت ان کے اقتدار نے پشت کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔
دوسرے جنرل پرویز مشرف کو فیس بک پر ان کے پانچ لاکھ حامیوں نے بھی گمراہ کیا یہ انکے خلاف بڑی منظم سازش تھی جس کا شکار ہوکر وہ پاکستان آگئے اور آج جس صورت سے دوچار ہیں اس کا شکار ہوگئے ۔ جنرل پرویز مشرف میں اگر سیاسی بصیرت ہوتی تو وہ کراچی ائیرپورٹ پر اپنی آمد کے موقع پر پانچ سو سے بھی کم استقبالی دیکھ کر سیاست کا بھاری پتھر چوم کر رکھ دیتے اور خاموشی سے کوئی بہانہ بنا کر واپسی کی راہ لیتے ان میں ان کیلئے عافیت تھی بہر حال لالچ انسان کو مشکلات میں ہی پھنساتی ہے مثلاََ دو گنا کرانے کے لالچ میں لوگ اپنی رقم اور زیورات وغیرہ سے محروم ہوجاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت جنرل پریوز مشرف سے کسی قسم کی ڈیل نہ کرنے کا مسلسل انکار کررہی تھی اور یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ انہیں گارڈ آف آنر دینے کا قدم فوج کی جانب سے اٹھایاگیا ہے اور یہ صدرمملکت کو نہیں بلکہ سابق آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے بطور سابق آرمی چیف تو نہیں اس گارڈ آف آنرز پیش کیا جاچکا تھا جب کمان کی تبدیلی عمل میں آئی جب چیف اف آرمی سٹاف کی چھڑی جنرل پرویز مشرف نے لرزتے ہاتھوں سے جنرل اشفاق پریوز کیانی کو پیش کی تھی اس لئے ایک سابق آرمی چیف کو دوبارہ گارڈ آف آنر کوئی جواز نہیں رکھتا بہر حال اس ڈیل کا پردہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چاک کردیا ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سب وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین سید یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو پیپلز پارٹی کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونیوالے معاہدے کے تحت محفوظ راستہ دیا گیا تھا۔ معاہدے کے وقت اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے اسٹیبلشمنٹ کے ہونے والے مذاکرات میں پرویز مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
نوازشریف کو اس کی پاسداری کرنے چاہئے تھی۔ جنرل کیانی آپریشن کے وقت کا تعین خود کرنا چاہتے تھے ا س لئے ہم نے ان پر یہ معاملہ چھوڑدیا۔ جب معاہدہ ہوچکا تھا تو نوازشریف کو ان کے خلاف قدم نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔ بلاول ہاؤس میں پی پی پی میڈیا سیل کراچی کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بھوربھن معاہدے کے دوران پرویز مشرف کے خلاف مواخذہ کرنے کی بات ہوئی، آصف زرداری، نواز شریف اور تمام سیاسی قوتوں نے پرویز مشرف کے مواخذہ کا فیصلہ کیا تھا۔
اس دوران اسٹیبلشمنٹ نے مجھ سمیت نواز شریف سے رابطہ کیا تھا مذاکرات میں یہ طے پایاتھا کہ اگر پرویز مشرف استعفیٰ دے دیتے ہیں تو انہیں محفوظ راستہ دے دیا جائے گا اس لئے جب پرویز مشرف نے استعفیٰ دیا تو ہم ان نے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرویز مشرف کے حق میں نہیں یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ مشرف کی مدد کریں، صرف یہ چاہتے ہیں کہ وعدوں کو پیش نظر رکھا جائے۔
پی پی پی اداروں کا احترام کرتی ہے ان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے آمریت کا مقابلہ کر کے جمہوریت کو بحال کیا آج جو لولی لنگڑی جمہوریت نظر آرہی ہے وہ پیپلز پارٹی کی مرہون منت ہے۔ انہون نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو اب پرویز مشرف پر مقدمہ نہیں چلانا چاہئے تھا، وزیراعظم کو معاہدوں کی پاسداری کرنے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طاقتور فوجی بغیر معاہدے کے کیسے استعفیٰ دے سکتاہے، پرویز مشرف نے کچھ وعدے لے کر ہی استعفیٰ دیا تھا۔
نجی ٹی وی کے مطابق گیلانی نے کہا کہ پرویز مشرف کے استعفے کے وقت میں نے اور صدر آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کئے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو وعدے ہوئے تھے اسن کی پاسداری کرنی چاہئے۔ گیلانی نے کہا میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مشرف کے خلاف غداری کے مقدمہ کی کارروئی 12اکتوبر 1999ء سے ہونی چاہئے۔دریں اثناء پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کی۔
آصف علی زرداری نے سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو دو چوائس دی تھیں کہ مشرف استعفیٰ دیں یا مواخذے کیلئے تیار ہوجائیں۔ ہمارا مقصدمشرف کو ہٹانا تھا۔ اس موقف کے بعد مشرف نے حالات کو دیکھ کر استعفیٰ دے دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جہانگیر بدر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کا بیان سن کر خود بھی حیرانی ہوئی۔
ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے۔ پیپلز پارٹی کی مشرف سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔
وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے یوسف رضا گیلانی کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے اگر کوئی معادہ کیا ہے تو اس کی پابندی کریں، ہم نے کسی وعدے کی ذمہ داری نہیں لی۔ آصف زرداری بھی مشرف کے مواخذہ پر آمادہ تھے۔ مواخذہ سے بچنے کیلئے ہی مشرف نے استعفیٰ دیا، ہم آئین کے ایک ایک لفظ کے محافظ ہیں، کسی وعدے میں شامل تھے نہ اسے تسلیم کرتے ہیں۔
یوسف رضا گیلانی نے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی معاہدہ کیا تھا تو مسلم لیگ ن اس کا حصہ نہیں تھی۔ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدہ کے فیصلہ کی ذمہ داری عدالت پر ہے عدالتیں آزاد ہیں، مقدمہ کی مدعی حکومت نہیں پاکستان کی ریاست ہے عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ 3نومبر کا اقدام آرٹیکل 6کے ذمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ اگر قانون کی نظر میں سب برابر ہیں تو ہر شہری کو عدالت کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے۔
عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بے گناہ شہری ہے یا مجرم۔ پنجاب کے وزیرقانون رانا مشہود خان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے ڈیل کی کوشش کی لیکن مسلم لیگ ن نے اسے مسترد کردیا۔ ہم پیپلز پارٹی کے دور کی کسی ڈیل کا حصہ بھی نہیں رہے، اپنے بیان میں رانا مشہود احمد خان نے کہا پرویز مشرف کے بارے میں عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمیں منظور ہوگا۔
سابق وزیراعظم جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے مستعفی ہونے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی جو بات ہے اس میں سچائی کا جواز یہ ہے کہ ان کے دور حکومت میں عملاً یہ ہوا تھا۔
جنرل مشرف کسی عدالتی کارروائی یا بازپرس کے بغیر بیرون ملک چلے گئے تھے پھر 2013ء کے الیکشن سے پہلے انہوں نے ازخود وطن واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کرنے کا اعلان کیا۔ اب اصولی طور پر جنرل مشرف کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے اس اعلان کو سچا ثابت کریں اور عدالتی جنگ کے بعد خود کو بیگناہ ثابت کرائیں اور اب گلی کوچوں میں یہ بات کی جارہی ہے کہ جنرل مشرف کے خالف غداری کے مقدمہ کو اسٹیبلشمنٹ میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے لیکن اس مرحلہ پر جنرل مشرف کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت کی طرح محفوظ راستہ دینا اس تاثر کو جنم دے گا کہ یہ سب ”طاقت“ کا کرشمہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت، آئینی ماہرین اور اسٹیبلشمنٹ مل کر ایسا راستہ تلاش کریں جس سے یہ بحران بھی حل ہوجائے ریاستی اداروں کے مابین کشیدگی کا تاثر بھی زائل ہوجائے اور ملک عدم استحکام سے بھی محفوظ رہے۔
تاہم اصولی طورپر مشرف کیس کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے ۔ 3نومبر کا اقدام آرٹیکل 6کے ذمرے میں آتا ہے جو عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرے اسے سب کو دل و جان سے تسلیم کرنا چاہئے ورنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا تاثر مست حکم ہوگا جس سے بہر حال کسی ادارہ کی عزت و توقیر پر حرف ضروری آئے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-21

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان