بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فوجی آپریشن کی آزمائش سے دوچار ملک اور داعی انقلاب
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ بسا اوقات یوں لگا کہ طاہر القادری کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی لیکن قدرت نے پھر انہیں موقع دیا اور وہ دوبارہ سیاست پر چھا گئے
فرخ سعید خواجہ:
ادارہ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے سرپرست شیخ السلام ڈاکٹر طاہرالقادری وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان کی آمد خاصی ہنگامہ خیز رہی۔ انہوں نے اب پاکستان میں ہی رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جہاں وہ انقلاب لانے کے داعی ہیں وہ قوم کا مقدر بدلنے کے لئے جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ موجودہ انتخابی نظام بدلنا چاہتے ہیں۔
بقول ان کے نظام بدلے گا تو وہ خود الیکشن کروائیں گے۔ تاہم لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری نظام کیسے بدلیں گے؟ کیا اپنے پیروگاروں کی مدد سے؟ فوج کی امداد سے یا چودھری برادران، شیخ رشید اور الطاف بھائی کے تعاون سے؟ اس سوال کا جواب ڈاکٹر طاہرالقادری جیسے عالم فاضل کے ذمے ہے ڈاکٹر صاحب کو سیاست میں شہید بے نظیر بھٹو، مرحوم نواب زادہ نصراللہ خان اور عمران خان جیسے سیاستدانوں کی جماعتوں کے اتحاد ”پاکستان عوامی اتحاد“ کی سربراہی کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ بسا اوقات یوں لگا کہ طاہر القادری کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی لیکن قدرت نے پھر انہیں موقع دیا اور وہ دوبارہ سیاست پر چھا گئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ماضی پر ایک نظر ڈالیں تو ان کی وجہ شہرت میاں شریف مرحوم اوران کے بھائیوں کے زیر انتظام ماڈل ٹاؤن میں قائم کردہ اتفاق مسجد کی تعمیر ہے۔
شیخ السلام ان دنوں ”علامہ“ کہلاتے تھے۔ ان کی تقریروں کا شہرہ ملک بھر میں پھیلا رمضان المبارک کی 27 ویں شب اتفاق مسجد میں ان کی تقریر سننے کے لئے ملک کے کونے کونے سے لوگ آتے بالخصوص سارا لاہور وہاں امڈ آتا۔ ارد گرد کی سڑکیں نمازیوں سے بھر جاتیں۔ اس دور میں انہوں نے ادارہ منہاج القرآن کی بنیاد رکھی جس کی شاخیں گلی محلوں میں پھیل گئیں۔
سیاسی لحاظ سے یہ شہید بے نظیر بھٹو کے عروج کا دور تھا جب کہ میاں نواز شریف قومی افق پر ابھرتے ہوئے سیاسی لیڈر تھے۔ تاہم وزیراعلی پنجاب کی حیثیت سے نواز شریف کے طرز حکمرانی کا ملک بھر میں چرچا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک قدم مزید بڑھایا اور پاکستان عوامی تحریک کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی۔ ادارہ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کا مرکزی سیکرٹریٹ ایک ہی تھا جو کہ آج بھی ویسے ہی ایک ہی بلڈنگ میں ہے۔

1988 کے الیکشن میں شہید بے نظیر بھٹو وزیراعظم اور میاں نواز شریف وزیراعلی پنجاب منتخب ہوئے۔ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی میں بے پناہ تلخی موجود تھی۔ وزیراعظم بننے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ لاہور آئیں تو وزیراعلی نواز شریف ان کے استقبال کے لئے ائرپورٹ پر موجود تھے تاہم وہاں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔
پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد نہ صرف ائرپورٹ پر موجود تھی بلکہ کثیر تعداد میں جیالے ”ایپرن“ پر بھی جا دھمکے تھے۔ جہاز لینڈ کرنے کو تھا کہ میاں نواز شریف استقبالیہ قطار کی طرف آئے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی جب کہ بعض جیالے ان کی طرف لپکے۔ اگرچہ سکیورٹی عملے نے نواز شریف کو گھیرے میں لے کر جیالوں کے نرغے سے نکال لیا لیکن نواز شریف وہاں سے چلے گئے اور دوبارہ وزیراعلی کی حیثیت سے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لئے کبھی ائر پورٹ نہیں گئے۔
اس وقت کے گورنر پنجاب چودھری الطاف منجھے ہوئے سیاستدان تھے انہوں نے پیشن گوئی کی کہ جیالوں نے آج نواز شریف کو بے نظیر بھٹو کا ہم پلہ لیڈر بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا سچ ثابت ہوا اور محض دو سال کے عرصے میں 1990 میں نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ انہوں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جگہ لی تھی۔
1990 میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کا پہلا عام انتخاب تھا۔
اس میں عوامی تحریک نے تحریک استقبال اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ساتھ الیکشن الائنس بنایا مگر بارآور ثابت نہ ہوا۔
ائرمارشل اصغر خان نے ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت سے اتحاد توڑ کر پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا اور پیپلز ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی اے) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا۔ ائر مارشل ر اصغر خان کو پی ڈی اے نے نواز شریف کے مقابلے میں لاہور سے کھڑا کیا تاہم وہ شکست کھا گئے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے چاروں صوبوں سے امیدوار کھڑے کئے لیکن ان کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے ملک بھر میں تمام امیدواروں کو کل 2 لاکھ 37 ہزار 492 ووٹ ملے۔ الیکشن میں شکست کے صدمے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کو خود پر قاتلانہ حملے کے کیس میں عدالت میں برے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
جس کے بعد یوں لگا کہ ان کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے لیکن 1997 کے انتخابات میں نواز شریف کو ہیوی مینڈیٹ ملنے کے بعد پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں مایوسی کا شکار ہو گئی تھیں۔ نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم نے اس موقع پر پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے سیاسی اتحاد بنوانے میں اہم ترین کردار ادا کیا اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اس اتحاد کو سربراہ بنایا گیا۔
اس اتحاد میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پاٹی، عمران خان کی تحریک انصاف، نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی پی ڈی پی اور جنرل اسلم بیگ کی عوامی قیادت پارٹی سمیت چند دیگر جماعتیں شامل تھیں۔
1999 میں مارشل لا لگ گیا اور 2002 کے الیکشن میں پاکستان عوامی تحریک ایک مرتبہ پھ بہت زور شور سے انتخابی میدانی اتری مگر نتیجہ 1990 سے صرف اتنا مختلف تھا کہ ایک سیٹ جیت کر ڈاکٹر طاہر القادری قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔
وہ الیکشن کے نتائج سے اس قدر بددل ہوئے کہ پاکستان عوامی تحریک کو ادارہ منہاج القرآن کا ذیلی شعبہ بنا دیا۔ اس دوران وہ کینیڈا کی شہرت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہو گئے اور جب ایل ایف او کا معاملہ قومی اسمبلی میں آیا تو ڈاکٹر طاہر القادری نے احتجاجاً قومی اسمبلی نشست سے استعفی دے دیا اور پھر جلد ہی کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ ایک مرتبہ پھر ان کی سیاست ختم ہو گئی۔

الیکشن 2013 سے پہلے ان کی آمد ہوئی تو وہ سیاسی منظر پر چھا گئے لیکن اسلام آباد دھرنا کے بعد عام انتخابات میں حصہ لینے کی بجائے اسے سبوتاڑ کرنا چاہا مگر نہ کر سکے اور واپس کینیڈا لوٹ گئے۔ اب منتخب حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر ان کی واپسی ہوئی ہے۔ شمالی وزیستان میں فوجی آپریشن جاری ہے۔
ملک و قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن وہ انقلاب کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
ان کا انقلاب کیسے آئے گا شاید وہ خود بھی نہیں جانتے۔ اگر جانتے ہیں تو قوم کو بتانا گوارا نہیں کرتے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو بحیثیت جماعت ان کی لیڈر شپ نے سردخانے میں ڈال رکھا ہے۔ بیورو کریسی اور انتظامیہ ان کا سہارا ہے جس کے ذریعے نظام حکومت چلایا جا رہا ہے۔
سو نتیجہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور امارات کے طیارے کو اسلام آباد سے لاہور لانے جیسے واقعات کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
بھلا ہو آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہ جنہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے جاتی عمرہ میں ملاقات میں مشورہ دیا کہ اسلام آباد میں پولیس کو اسلحہ ساتھ لے جانے سے روک دو۔ اس تجویز پر عمل کیا گیا وگرنہ اسلام آباد میں بھی آنسو گیس کے علاوہ اسلحہ ہوتا تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح سانحہ اسلام آباد رونما ہو چکا ہوتا۔

بہرحال اب وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعلی شہباز شریف کی مشاورت سے گورنر پنجاب چودھری سرور کو سیاسی مفاہمت کے لئے میدان میں اتارا ہے۔ چودھری سرور غیر متنازع شخصیت ہیں۔ اپنے ماضی کے باعث تمام سیاسی حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے ساتھ دونوں اطراف سے تعاون ہوا تو وہ ایک ایسے وقت جب شمالی وزیرستان آپریشن میں پاکستان پھنسا ہوا ہے سیاسی جماعتوں کو دشمنی نہیں سیاست کرو۔ ہٹ دھرمی نہیں اختلاف رائے کرو کے اصولوں پر چلا سکتے ہیں اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بہت بڑی قومی خدمت ہو گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان