تازہ ترین : 1
Election Se Pehle Hanp Jana

الیکشن سے پہلے ہی ہانپ جانا۔۔۔کہاں کی دانشمندی؟

ملک میں مڈٹرم الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا نظام آ رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری دانش مند نکلے کہ مزید ساڑھے تین سال جلسے جلوسوں میں انرجی ضائع کرنے کی بجائے الیکشن 2018 کا انتظار کریں گے

فرخ سعید خواجہ:
ملک میں مڈٹرم الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا نظام آ رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری دانش مند نکلے کہ مزید ساڑھے تین سال جلسے جلوسوں میں انرجی ضائع کرنے کی بجائے الیکشن 2018 کا انتظار کریں گے۔ جہاں تک خان صاحب کا تعلق ہے سپورٹس مین ہونے کے باوجود ان کی سپورٹس مین سپرٹ انتقام کے شعلوں نے ختم کر دی ہے۔
وہ یہ بھی بھول رہے ہیں کہ لمبی دوڑ میں وہی کھلاڑی آخری مرحلے میں داخل ہو گا جو پہلے آہستہ آہستہ دوڑتا رہا ہے۔ خان صاحب اپنے سیانے اور پرانے دوستوں سے ذرا پوچھ لیں کہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں یکم جنوری 1970 کو شروع ہونے والی انتخابی مہم میں شریک سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کا 7دسمبر 1970 کے قومی اسمبلی کے الیکشن والے دن تک پہنچنے تک کیا حال ہوا تھا۔

30 نومبر کا احتجاج حکومت کو لے بیٹھے گا اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تحریک انصاف اس کے باوجود اپنی ساری سیاسی قوت اس میں جھونکنے جا رہی ہے۔ سیانے مشیر تحریک انصاف کے کارکنوں کو قیدوبند کی بھٹی سے گزار کر کندن بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں آنے والوں کی اکثریت کے خاندانوں نے ضیاالحق کا مارشل لا اور اس کا جبر بھگتا تھا۔
وہ جانتے ہیں کہ قید کیا چیز ہوتی ہے لہٰذا ان میں سے بیشتر 30 نومبر سے پہلے گھروں سے غائب ہو جائیں گے اور جو ممی ڈیڈی بچے گرفتار ہوں گے ان میں سے 70 فیصد سیاست سے تائب ہو جانے کا مشورہ دیا کریں گے جب کہ 30 فیصد کے قریب ایسے نکلیں گے جو ردعمل کے طور پر مزید کمٹ منٹ سے پارٹی کے کارکن بن جائیں گے۔ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ ایک اپنے 70 فیصد حامی کھو دے گا اور دوسرا 30 فیصد اپنے سخت ترین مخالفین پیدا کر لے گا جو اگلے دس بیس سال مسلم لیگ ن کی مخالفت کریں گے۔
لہٰذا دونوں طرف سے اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے تو بہتر ہو گا۔
تحریک انصاف کی خیبر پی کے میں حلیف سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے رواں ہفتے 21 تا 23 نومبر مینار پاکستان پر اپنا سہ روزہ اجتماع کیا۔ بلاشبہ یہ اجتماع عام مینار پاکستان کی تاریخ میں منعقد ہونے والے تمام تر اجتماعات کے مقابلے میں اس لحاظ سے سب سے بڑا اجتماع تھا کہ مینار پاکستان کے پورے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔
اسے جلسہ ہائے عام سے الگ طور پر دیکھنا چاہئے کہ اس میں قیام و طعام کا بھی بندوبست تھا تاہم حاضری کے لحاظ سے بھی بے شک یہ بہت بڑا اجتماع تھا تاہم ہماری نظر میں اس تین روزہ مشق سے سوائے اس کے جماعت اسلامی کے ہاتھ ہی کچھ نہیں آیا کہ ان کے لوگوں کا اعتماد بحال ہوا کہ اب بھی جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر اتنے زیادہ لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
اس اجتماع عام سے اپنے لوگوں کو نفاذ اسلام کی کوششیں کرنے کے عزم کے علاوہ کوئی سیاسی ڈائریکشن نہیں دی گئی۔ لوگ کنفیوڑ ہی گئے کہ نواز شریف اور عمران خان کی جماعتیں جن مخالف سمتوں میں چل رہی ہیں اس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کون سی سیاسی قوت کے ساتھ مل کر چلنا ہے کہ آج کے دور میں کوئی سیاسی جماعت یکہ و تنہا ہو کر نہیں چل سکتی۔
ادھر 30 نومبر کو پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس منانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں لیکن صاف دکھائی دے رہا ہے کہ الیکشن2013 کی شکست خوردہ پیپلز پارٹی میں اختلافات حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔
جناب زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اختلافات کی باتیں پھیل رہی ہیں اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ جناب زرداری نے جہانگیر بدر کو پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا کر سردار لطیف کھوسہ کو سیکرٹری جنرل مقرر کیا تھا جب کہ یوم تاسیس کے سلسلے میں ہونے والی تیاریوں میں سردار لطیف کھوسہ یا زرداری صاحب کے نامزد صدر پنجاب میاں منظور وٹو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔
وجہ صاف ظاہر ہے کہ جناب جہانگیر بدر کو اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے چیف کوآرڈینیٹر کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔جب کہ ان کے ڈپٹی سابق وزرا اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی البتہ صوبائی صدور اورممبران کی حیثیت سے ان کے ساتھ موجود ہیں۔
جہاں تک چیف کوآرڈینیٹر جہانگیر بدر کا تعلق ہے وہ ایک منجھے ہوئے سیاسی لیڈر ہیں زمانہ طالب علمی میں پیپلز پارٹی کا بانی رکن بننے کا اعزاز رکھنے کے علاوہ پیپلز پارٹی لاہور اور پنجاب کے صدر کی حیثیت سے بارہا فرائض سرانجام دینے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
یوم تاسیس کے سلسلے میں بھی وہ بہت جانفشانی سے لگے ہوئے ہیں لیکن ان کی ذاتی پسند ناپسند بہت ممکن ہے آڑے آ رہی ہو۔ بہت سے پارٹی عہدیداران ان کے کام پر تنقید کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے پیپلز پارٹی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع کھو رہی ہے۔ اس موقع پر سیاسی جلسہ عام نہ کرنے کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ جہاں تک ہماری رائے ہے کہ یوم تاسیس بھیڑ اکٹھی کرنے کا نام نہیں بلکہ پارٹی عہدیداران و کارکنوں کے لئے پالیسی ساز ورکرز کنونشن کی حیثیت سے بلایا جانا بہتر فیصلہ ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ہی جماعتوں میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان جماعتوں کے درمیان ”اٹ کھڑکا“ پسند کرتے ہیں جب کہ آصف زرداری اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف میثاق جمہوریت پر عمل پیرا ہیں۔ نواز شریف نے 2008 کے الیکشن کے بعد 2013 تک صبر سے اپوزیشن کی اور کسی بھی موقع پر زرداری حکومت گرانے کی سازشوں کا حصہ نہیں بنے۔
اس کا خوش کن نتیجہ نکلا اور پہلی مرتبہ سیاسی حکومت نے اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کی۔ بلاشبہ 2013 کے الیکشن ماضی میں ہونے والے تمام عام انتخابات کی نسبت بہتر انداز میں ہوئے۔ انتخابی فہرستوں پر ووٹر کی تصویر اور شناختی کارڈ لازمی ہونے سے الیکشن شفاف بنا۔ اس کے باوجود اگر دھاندلی کا الزام ہے تو وہ اگلے مرحلے پر ہے جہاں وٹوں کی گنتی ہوئی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مرحلے کو بھی شفاف بنانے کے لئے ضروری اقدامات ہونے چاہئیں۔ بات دوسری طرف نکل گئی نواز شریف ہی کی طرح جناب زرداری نے بھی الیکشن 2013 کے بعد بلاول ہاوٴس لاہور میں پیپلز پارٹی کے اجتماع میں اعلان کیا کہ اب نواز شریف سے پانچ سال بعد الیکشن 2018 میں دو دو ہاتھ ہوں گے جب تک نواز شریف حکومت اپنا کام کرے۔ ان کا یہ اعلان استحکام جمہوریت کے لئے نیک نامی ہے۔ جو لوگ ان دونوں جماعتوں کو ایک کہتے ہیں وہ عوام کو دھوکہ دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہو گا ان دونوں جماعتوں کا ٹاکرا ہو گا جب کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جگہ لینے کے خواہاں بھی میدان میں ہوں گے۔ فیصلہ عوام کا ہو گا کہ اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں