تازہ ترین : 1
Ehtijaj Se Koi Ghair Mamooli Natija Nehin Nikal Sakay Ga

احتجاج سے کوئی غیر معمولی نتیجہ نہیں نکل سکے گا

عدالتی احکامات اور حکومتی اجازت کے بغیر مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک کے زیراہتمام متحدہ اپوزیشن کا احتجاج ان سطروں کی تحریر تک جاری ہو گا۔ اگرچہ لاہور میں دفعہ 144بھی نافذ ہے اور حکومت نے پاکستا ن عوامی تحریک کے مال روڈ پر احتجاج کے لئے تحریری درخواست پر اجازت نہیں دی

فرخ سعید خواجہ:
عدالتی احکامات اور حکومتی اجازت کے بغیر مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک کے زیراہتمام متحدہ اپوزیشن کا احتجاج ان سطروں کی تحریر تک جاری ہو گا۔ اگرچہ لاہور میں دفعہ 144بھی نافذ ہے اور حکومت نے پاکستا ن عوامی تحریک کے مال روڈ پر احتجاج کے لئے تحریری درخواست پر اجازت نہیں دی لیکن حکومت نے ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک، پی ٹی آئی،پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق)،مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحا دکونسل سمیت بہت سی دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں کے ہزاروں کارکن موجود رہیاور اس دوران پرجوش تقریروں سے مقررین ان کے لہو کو گرما ئے رکھنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔اس بار 80فٹ چوڑے کنٹینر پر وسیع سٹیج بنایا گیا۔ جس پر تمام سیاسی جماعتوں کی صف اول کی قیادت کے ہمراہ دوسرے درجے کی قیادت بھی موجود رہی جبکہ تیسرے درجے کی قیادت کی کوشش رہی کہ وہ بھی سٹیج پر جا چڑھے۔
اپوزیشن کی جماعتیں پچھلے 4برسوں سے کسی نہ کسی انداز میں حکومت مخالف اجتماعات میں مصروف عمل رہی ہیں مگر اس بار الیکشن کے قریب آنے پر شرکاء احتجاج کے ایک مخصوص حصے کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک سڑکوں پر رہنے کے خواہاں ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کی دلی خواہش تھی کہ وہ ماضی میں جس طرح شہید بے نظیر بھٹو اور نوابزادہ نصراللہ خان کے درمیان تشریف فرما ہوتے تھے اسی طرح اب آصف علی زرداری اور عمران خان کو اپنے دائیں بائیں بٹھا سکیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
آنے والا الیکشن ان کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن گیا کہ عمران خان کا بیانیہ کہ زرداری اور نوازشریف دونوں ہی ہیں اب اگر وہ ان کے ہمراہ سٹیج پر بیٹھ جاتے تو مسلم لیگ (ن) نے ان دونوں جماعتوں کو اتحادی قرار دے کر آنے والے الیکشن میں کوسنا تھا۔ سو عمران خان نے خود کو اس صورتحال سے بچا لیا۔ تاہم ایک بات واضح ہو گئی کہ مال روڈ کے اس احتجاج سے کوئی غیر معمولی نتیجہ نہیں نکلنے والا۔
استعفے لینے کے خواہش مندوں کو بالآخر ناکام لوٹنا پڑے گا۔ شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفے اپوزیشن کیلئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے ہیں۔ ادھر پیر حمید الدین سیالوی بھی 20جنوری سے داتا دربار کے علاقے کو محصور کرنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ پنجاب کی صوبائی حکومت نے جس طرح متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کو فری ہینڈ دیا اور معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا اس طرح پیر حمید الدین سیالوی کے احتجاج کے موقع پر بھی حکومت نرم رویہ اختیار کرے گی۔
مطالبات پر مبنی احتجاج چاہے جتنے مرضی ہوں ان سے حکومتیں نہیں گرا کرتیں کینکہ مطالبات اگر جائز ہوں تو حکومتیں اسے مان بھی لیتی ہیں، البتہ مقصد شرانگیزی ہو تصادم اور پر تشدد سیاست نے اس ملک میں ہمیشہ مارشل لاء کی راہ ہموار کی ہے۔ خطے کی صورتحال اور پاکستان کے داخلی حالات کو دیکھتے ہوئے بلاجھجک ہم کہہ سکتے ہیں کہعام انتخابات اور اس سے قبل سینٹ کے الیکشن دو ماہ سے بھی کم عرصے میں جب سر پر آن کھڑے ہیں،ان حالات میں کوئی بھلا خودکشی کیسے کر سکتا ہے۔
ان انتخابات میں اب رکاوٹ ڈال بھی دی جائے تو مسلم لیگ (ن) بلوچستان میں کھیل کو عوام کے سامنے یوں پیش کر چکی ہے کہ ان پر واضح ہو گیا ہے کہ خفیہ ہاتھوں نے کام دکھایا اور بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کو سینٹ میں ملنے والی نشستوں کی تعداد کافی حد تک گھٹانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ پانچ ارکان والی مسلم لیگ (ق) کا وزیراعلیٰ منتخب کروانے کا عمل تعجب خیر قرار دیا گیا ہے اور اسے جمہوریت کے منہ پر تھپڑ ہی کہا جا سکتا ہے۔
پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کیا جانا بھی پارٹی تنظیموں کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ایک طرف یہ تمام صورت حال ہے اور دوسری طرف حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) میں اس کے چوٹی کے رہنماؤں چودھری نثار علی خان اور سینیٹر پرویز رشید میں ٹھن گئی ہے۔ دونوں جانب سے جو لفظی گولہ باری کی جا رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا مسلم لیگ (ن) میں سیاسی سفر اختتام کو پہنچنے والا ہے۔
البتہ مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف آج بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ ان دونوں رہنماؤں کو ایک میز پر بٹھا کر ان کی صلح کروا دیں۔ جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا تعلق ہے آجکل ڈاکٹر طاہر القادری اور جناب آصف زرداری کے دررمیان گاڑھی چھن رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو زرداری صاحب کا دال ساگ بھا گیا ہے سو کہا جا سکتا ہے موجودہ اپوزیشن جماعتوں میں سے پی ٹی آئی سولو فلائٹ پر الیکشن میں جائے گی۔
جبکہ باقی بھان متی کا کہنہ انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کر سکے گا۔ ہماری رائے میں اب کسی سنگین حادثے ک اخطر ٹل چکا ہے اور معاملات عام انتخابات کی طرف جا رہے ہیں۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم لیگ (ن) کو الیکشن 2018ء میں نیچا دکھانے کے لئے پس پردہ قوتیں نوازشریف مخالف متوقع انتخابی اتحاد اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے درمیان متعدد حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کروا دیں البتہ ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک یارسول اللہ کہاں کھڑی ہوں گی اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔
وقت اشاعت : 2018-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں