تازہ ترین : 1
Chota Cheetan Pervez Musharraf

چھوٹاچیتن ،پرویز مشرف کاالائنس اورقلیل مدتی اتحاد

کیامشرف مصنوعی سیاستدان ہیں ؟سیاست کوئی ڈسکونہیں کہ کسی کے کندھوں پربیٹھ کرحکومت بنالی جائے؟ فاروق ستاراور کمال کا اسٹیبلشمنٹ پرالزام،مسلم لیگ ن سیاسی فائدہ اٹھائے گی، ایم کیوایم اور پی ایس پی کا اتحاد سیاسی تاریخ کاقلیل مدتی اتحادہے،ایم کیوایم کے اندربانی متحدہ کیلئے نرم گوشہ رکھنے والاابھی بھی ٹولہ موجودہے

مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
چیتن عام طورپربھارتی اور نیپالی مردوں کے ناموں کاپہلا حصہ ہوتاہے۔چیتن سنسکرت لفظ چیتنیا سے نکلاہے۔چیتن کے معنی ”شعوررکھنے والا“کے ہیں، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے اندر سے آوازیں آرہی ہیں کہ چھوٹا چیتن کے فیصلے قبول نہیں،فاروق ستارنے پہلے سیاست سے دستبرداری کااعلان کیا،پھربانی متحدہ کی سیاست دہرائی اور دوبارہ انتہائی مجبوری کے عالم میں دوبارہ ایم کیوایم کی باگ دوڑسنبھالنے کے عزم کااعادہ کیا،آخرچھوٹا چیتن جوٹھہرے،ساری ڈرامے بازی کا ڈراپ سین ان الفاظ پرکیاکہ والدہ کی بات نہیں ٹال سکتا۔
فاروق ستارکی اس سیاسی چال سے لفظ چیتن کی اہمیت کااندازہ خوب ہوجاتاہے،یعنی چیتن چھوٹا ہویا بڑا،مطلب صاف ظاہرہے کہ وہ مکمل شعور رکھنے والاہوتاہے۔اس لفظ کی اہمیت سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ایم کیوایم کے اندرسے جولوگ آوازیں اٹھارہے ہیں وہ فاروق ستار کوچیتن کی مثال دے کرتنقید کررہے ہیں کہ بہت سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن ا سکے باوجود انتہائی غیرسیاسی اور احمقانہ فیصلے کررہے ہیں۔

ایم کیوایم کے اندرشاید ابھی بھی ایک ٹولہ ایساموجودہے جوبانی متحدہ کیلئے نرم گوشہ رکھتاہے،شاید یہی ٹولہ فاروق ستارکوسیاسی مقاصدمیں کامیاب نہیں ہونے دے رہا،اورفاروق ستارکوچھوٹاچیتن کے نام سے مخاطب بھی کررہاہے۔اس ٹولے کے نزدیک فاروق ستارکوایم کیوایم کی قیادت سنبھالے ابھی چند مہینے ہی ہوئے ہیں،لیکن ان کے غیرسیاسی اور پارٹی مفادکے برعکس فیصلوں سے مہاجرعوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔
یہ کون سے فیصلے ہیں کہ فاروق ستارکی قیادت پرسوالیہ نشان لگ گیا؟پہلا فیصلہ اگست 2017ء میں سینیٹ کے الیکشن میں مرحوم فوزیہ وہاب کے بیٹے مرتضیٰ وہاب کیلئے اپنا امیدواردستبردارکروایا۔اس کے باجود کہ سندھ پولیس نے 12اگست کوماورائے عدالت ایم کیوایم کے کارکن جاوید کوقتل کیاجبکہ فاروق ستارنے پیپلزپارٹی کے ہی امیدوارکوسینیٹ کاالیکشن جتوانے میں کرداراداکیا۔
دوسرافیصلہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوارشاہد خاقان عباسی کومکمل سپورٹ کیالیکن اس کے عوض کوسیاسی فائدہ نہیں اٹھایایعنی نہ توکوئی آفس کھولاگیانہ ہی کوئی کارکن رہاکروایا گیا،کراچی پیکج کالالی پاپ دے کروزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ تو لیے گئے لیکن اعلان کے مطابق تاحال پیکج پرعملدرآمدنہیں کیاگیا۔
تیسراغیرسیاسی فیصلہ کہ سینیٹ میں نااہل شخص کے پارٹی صدربننے کیلئے میاں عتیق نے ووٹ ڈالالیکن میاں عتیق کویہ کہہ کرپارٹی سے نکال دیاکہ اعتزازاحسن کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیناچاہیے تھا۔اسی طرح چوتھا احمقانہ فیصلہ 4ستمبرکوکیاجب پیپلزپارٹی کیخلاف تحریک انصاف سے اتحاد کااعلان کیاوہ تحریک انصاف جس کے سربراہ عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن میں فاروق ستارنے خود زناکاری کاریفرنس دائرکیاکہ عمران خان کونااہل قراردیاجائے۔

اگرچھوٹاچیتن یعنی فاروق ستارکے ان فیصلوں کودیکھاجائے توکراچی میں پولیس اور ٹی ڈی سی نے مشترکہ کاروائی میں متحدہ لندن کے تین ٹارگٹ کلرزتقی،ارشدجمال اور حنیف کوگرفتارکیا جبکہ ایک جاوید نامی ٹارگٹ کلرکوپولیس مقابلے میں ماردیاتھا۔ٹاگٹ کلرجاوید 35سے زائد ٹاگٹ کلنگ کے کیسزمیں مطلوب تھا،تواس میں فاروق ستارنے متحدہ بانی کے کارکن کوسپورٹ کرنے کی بجائے پارٹی کیلئے بہترکیا،ویسے بھی سینیٹ میں موجودسیاسی جماعتوں میں کسی نے بھی مرحوم فوزیہ وہاب کے بیٹے کے مدمقابل اپنا امیدوارکھڑانہیں کیا۔
اسی طرح کراچی پیکج پربھی عملدرآمدشروع کردیاگیاہے،کیونکہ مسلم لیگ ن کوایم کیوایم کی جتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ن لیگ آرٹیکل 62،63 کی کچھ شقوں میں ترمیم کرنے اور نوازشریف کواحتساب عدالت میں استثنیٰ دلوانے سمیت دیگرسیاسی معاملات میں ایم کیوایم سے سیاسی فائدہ حاصل کرسکتی ہے، جس کے پیش نظرمسلم لیگ ن کی قیادت نے خواجہ سعد رفیق کوذمہ داری سونپی ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہیں اور کراچی پیکج پربھی عملدرآمدیقینی بنایاجائے۔
اسی لیے خواجہ سعد رفیق نے تین روزقبل فاروق ستارکوفون کیااور ان کے خط پرجوکہ انہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف کے نام لکھاتھا جس میں فاروق ستارنے پی ایس پی کے ساتھ زبردستی اتحاد کروانے پراپنے تحفظات کااظہارکیاتھا،فاروق ستارنے واضح کہاکہ ہم آئندہ الیکشن میں ایم کیوایم پاکستان کے نام،نشان اور منشورپرہی میدان میں اتریں گے،جبکہ دھمکایاجارہاہے کہ اگرپی ایس پی سے اتحاد نہ کیاگیاتوآئندہ الیکشن نہیں لڑنے دیاجائے گا۔
انہوں نے کہاکہ وفاداریاں تبدیل کرواکے مصنوعی سیاستدانوں کوسانس دینے کی کوشش دی جارہی ہے،لیکن اب دباؤ کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔کیامصنوعی سیاستدان یعنی فاروق ستارکا مشرف کی طرف اشارہ تھا؟ فاروق ستارنے اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ ہی کیاتھا کہ پی ایس پی کے مصطفی کمال نے اسٹیبلشمنٹ کاواضح نام لیکرسب کچھ عیاں کردیاجس سے سیاست ہی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ان حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی جوان تمام معاملات کوچلارہے ہیں وہ بھی شاید حیران ہیں کہ یہ کتنے کچے اور بچے ذہن کے سیاسی لوگ ہیں جن سے اتنی سی بات بھی ہضم نہ ہوسکی۔
مصطفی کمال نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان نام سابق ڈی جی رینجرزسندھ کے دفترمیں تجویز کیاگیا۔فاروق ستاراورکمال کے اسٹیبلشمنٹ پرالزام کا ن لیگ بھرپورسیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔سینئرصحافی حامدمیرنے دعویٰ کیاہے کہ مصطفی کمال کوسابق آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف لیکرآئے تھے۔پاک سرزمین پارٹی بنوانے میں بھی انہی کاکردارتھا۔دراصل ضروری تھا کراچی کاامن تباہ وبربادکرنے والے متحدہ بانی کومائنس کرنا۔
لیکن ایم کیوایم سے متحدہ بانی کی چھاپ کیسے ختم کیاجائے ؟ اس کیلئے پی ایس پی بنائی گئی تاکہ آئندہ انتخابات سے قبل ایم کیوایم کوپی ایس پی میں ضم کرکے سابق صدرمملکت پرویزمشرف کے ”پاکستان عوامی اتحاد“کے گرینڈ الائنس میں شامل کردیاجائے گا۔منظم منصوبہ بندی کے تحت ایم کیوایم اور پی ایس پی سے دباؤ ڈال کرپریس کانفرنس کروائی گئی(بقول فاروق ستاراور مصطفی کمال)،جس میں دونوں جماعتوں کے قائدین نے چہروں پر ہنسی خوشی لیکن مرجھائے دلوں کیساتھ آئندہ عام انتخابات ایک نئی سیاسی پارٹی کے نام ،نئے نشان اور نئے منشورپرلڑنے کااعلان کردیا۔
اس تمام مقصد کیلئے چھ مہینے تک مشترکہ ورکنگ بھی کی گئی لیکن یہ ورکنگ کس نے اور کہاں کی یہ سب بعد میں عوام کے سامنے آیا۔خیرپریس کانفرنس میں فاروق ستارنیسیاسی اتحاد کامقصدووٹ بینک کی تقسیم کوروکنا،عدم تشدد کی پالیسی کوکامیاب بنانا اورکراچی میں امن کودیرپاامن میں تبدیل کرناقراردیا۔مصطفی کمال نے کہاکہ ایم کیوایم الطاف حسین کی تھی،ہے اور رہے گی۔
ایم کیوایم اور پی ایس پی کاانضمام قائم رہ سکتاہی نہیں تھا کیونکہ یہ دوجماعتوں کافیصلہ نہیں تھاجس کوعوام کی حمایت حاصل ہو،بلکہ یہ کام جنرل (ر)راحیل شریف کے دورمیں ہی شروع ہوچکاتھا، تاہم ایم کیوایم اور پی ایس پی کے اس اتحاد کو سیاسی تاریخ کاقلیل مدتی اتحاد کہاجاسکتاہے، جس میں دولہا دولہن کابہترین سیاسی ماحول میں نکاح ہوا،لوگوں نے بھی ہلہ گلہ اور خوب نعرے بازی کی لیکن عین وقت پررخصتی نہ ہوسکی بلکہ طلاق ہی ہوگئی۔

دھندلامنظرنامہ اس وقت صاف دکھائی دینے لگاجب سابق صدرمملکت جنر ل (ر)پرویز مشرف نے فاروق ستاراور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس کی تعریف کے پل باندھنے شروع کردیے اور اگلے ہی روز 23جماعتوں پرمشتمل گرینڈالائنس ”پاکستان عوامی اتحاد“تشکیل دینے کااعلان کردیا۔مشرف نے فاروق ستاراور مصطفی کمال دونوں کوفوری اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت بھی دے ڈالی۔
جبکہ مشرف صاحب کوکیاعلم تھا کہ عوام اور سوشل میڈیاپر ان کے سیاسی گرینڈالائنس کی اس طرح بھی چھترول ہوگی۔سوشل میڈیاپرکہاگیاکہ مشرف نے تقریب میں کھاناکھانے کیلئے آنے والے تمام تیئس لوگوں کواتحاد کانام دے دیا۔تاہم مشرف الائنس کاابھی اعلان ہی ہواتھا کہ مجلس وحدت المسلمین ،سنی اتحاد کونسل اور عوامی تحریک نے مشرف کے 23جماعتی اتحاد میں شمولیت سے فی الحال معذرت کرلی ہے۔

میری رائے میں مشرف صاحب کوسیاست کااتناہی شوق اور عوامی خدمت کااتناہی جنون ہے توانہیں چاہیے تھا کہ وہ دبئی میں بیٹھ کرپاکستان عوامی اتحاد بنانے کااعلان نہ کرتے بلکہ وطن واپس آکرمقدمات کاسامناکرتے اور عوام کواعتماد میں لیتے کہ ملک وقوم کی بہتری کیلئے ان سے بہترکوئی نہیں ہے۔اسی طرح پاکستان میں ہی رہ کرگرینڈ الائنس بناتے توشاید ان کاساتھ دینے کیلئے لوگ بھی باہرنکل آتے۔
آصف زرداری کے بقول یہ سیاست کوئی ڈسکونہیں ہے۔جمہوری سیاسی لیڈربننے کیلئے مہینوں نہیں بلکہ سالہا سال کی محنت چاہیے ہوتی ہے اور بے شمارقربانیاں بھی دیناپڑتی ہیں۔آصف زرداری عوام سے خطاب کرتے ہیں تواپنی قربانیوں کاذکرکرتے ہیں کہ انہوں نے 10سال جیل کاٹی،پیپلزپارٹی شہیدوں کی جماعت ہے۔بانی ذوالفقار بھٹوکاعدالتی قتل کیاگیا۔پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیربھٹوکوشہید کردیاگیا،اسی طرح نوازشریف کہتے ہیں کہ انہیں تین بارعوام نے منتخب کرکے وزارت عظمیٰ کے منصب پربٹھایالیکن تینوں باران سے یہ عہدہ چھین لیاگیا،طیارہ ہائی جیک کاجھوٹاکیس بنایاگیا،منتخب وزیراعظم کوہتھکڑی لگائی گئی ،جیل اور 10سال کی جلاوطنی کاٹی۔
آج ایک بارپھران پربھاری وقت ہے کہ اپنی بیماراہلیہ بیگم کلثوم نوازکولندن میں زندگی اور موت کی کشمش میں چھوڑکراحتساب عدالت میں مقدمات کاسامناکرنے آگئے۔عمران خان کاکہناہے کہ انہیں تحریک انصاف بناکرآج یہاں تک پہنچنے میں 20سال لگ گئے۔اسی طرح دوسری سیاسی جماعتوں کی بھی سیاسی جدوجہد کی ایک تاریخ ہے۔لیکن ان تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی جدوجہدکونظراندازکرتے ہوئے پرویز مشرف نے کیسے سوچ لیاکہ وہ کسی کے کندھوں پربیٹھ کرحکومت بنالیں گے؟مشرف صاحب کاکہناہے کہ وہ گرینڈالائنس کے چیئرمین ہیں کیونکہ انہیں بہترین کمان اور کنٹرول کرنے کاتجربہ ہے۔
لیکن سیاسی جماعت کمان یاکنٹرول سے نہیں بلکہ فہم وفراست ،حوصلے اور مشاورت سے چلتی ہے،کیونکہ سیاسی جماعت کوئی فورس نہیں،سیاسی جماعتوں میں عوام اور پارٹی کارکنان اپنے لیڈران کے ساتھ بعض معاملات پر دست وگریبان بھی ہوجاتے ہیں۔لہذاملک وقوم کی بہتری کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرزکوچاہیے کہ جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی کیلئے مزیداپنااپناکرداراداکریں،جمہوریت کی مضبوطی کیلئے الیکشن کاوقت پرہونابہت ضروری ہے۔کیونکہ الیکشن جمہوریت کاحسن ہیں۔ماضی گواہ ہے کہ ٹیکنوکریٹس یاکوئی بھی غیرآئینی تبدیلی کسی بھی صورت ملک وقوم کے مفادمیں نہیں رہی۔اسی طرح میڈیاپردکانداری لگانے والے (صحافی نہیں )پروپیگنڈاایکٹرزکواب عوام کوگمراہ کرناچھوڑدیناچاہیے۔
وقت اشاعت : 2017-11-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

Sanaullah Nagra

مصنف کا نام : ثنا اللہ ناگرہ

ثناء اللہ ناگرہ 2006 سے پیشہ ورانہ صحافت سے منسلک ہیں۔ جنوری 2015 سے اُردو پوائنٹ میں بطور ایڈیٹر نیوز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ ناگرہ کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں