تازہ ترین : 1
Bilawal Bhutto Zardari Ka Mukhtasir Dora Multan

بلاول بھٹو زرداری کا مختصر دورہ ملتان

ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملتان کا مختصر دورہ کیا وہ سہ پہر کے وقت ملتان آئے اور افطار سے کچھ دیر قبل تک سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر رہے۔ افطار ڈنر کا انتظام بھی گیلانی ہاوٴس میں تھا

راوٴ شمیم اصغر:
ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملتان کا مختصر دورہ کیا وہ سہ پہر کے وقت ملتان آئے اور افطار سے کچھ دیر قبل تک سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر رہے۔ افطار ڈنر کا انتظام بھی گیلانی ہاوٴس میں تھا لیکن آندھی اور بارش کا امکان تھا اس لئے مقام تبدیل کر کے شہر کی نواحی آبادی بچ ولاز میں انتظام کیا گیا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث شرکاء سے ان کی ملاقات ممکن نہ ہوئی اور انہوں نے صرف خطاب کیا اور تقریباً آدھے گھنٹے کے قیام کے بعد واپس گیلانی ہاوٴس روانہ ہو گئے۔ بلال بھٹو زرداری کی آمد سے قبل امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خطے کی اہم شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گی لیکن یہاں ٹکٹ کے متلاشی لوگوں کی شمولیت نظر آئی۔ شامل ہونے والوں کا تعلق ملتان، لیہ، رحیم یار خاں اور لودھراں سے تھا۔
ضلع ملتان سے شامل ہونے والے ملک حسن راں ان کے دو صاحبزادے ملک عباس راں اور ملک ارشد راں ہیں۔ ان کا تعلق قصبہ قادر پور راں سے ہے جو ملتان شہر سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی علاقے میں اس وقت ملک مظہر عباس راں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم پی اے ہیں جبکہ یہ علاقہ اسی قومی حلقے میں ہے جس سے مخدوم جاوید ہاشمی‘ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی ایم این اے منتخب ہوتے رہے ہیں۔
اس وقت اس قومی نشست این اے 148 پر ملک عبدالغفار ڈوگر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں۔ ملک حسن راں اور ان کا خاندان قیام پاکستان سے قبل سے بھی مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم کے ساتھ سیاسی طور پر منسلک تھا۔ شاہ محمود قریشی کے ساتھ یہ خاندان پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ملک حسن راں نے مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم اور مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سے اپنی پرانی وابستگی ختم کر کے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔
کیونکہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کے بھائی، مخدوم زادہ مرید حسین قریشی اب بھی پیپلزپارٹی میں ہیں اور اب وہ ایم این اے کی نشست پر امیدوار ہیں جس کا حسن راں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ملک حسن راں کے دونوں صاحبزادے ملک عباس راں اور ملک ارشد راں ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک عباس راں ضلع کونسل کے نائب ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن تواقتدار کی دوڑ میں اب بھی شریک ہے لیکن پیپلزپارٹی کے لئے کم از کم پنجاب کی سطح پر اس وقت تک شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری سے خانپور کے تنویر شاہ اور ان کی بیگم نے بھی ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا وہ 2002 ء کے انتخابات میں خانپور سے ایم این اے رہ چکے ہیں۔ معروف قانون دان ایس ایم ظفر ان کے خالو ہیں۔ انہوں نے ہی انہیں 2002 ء میں پیپلزپارٹی کا ٹکٹ دلوایا تھا اور وہ ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے پیپلزپارٹی پیٹریاٹ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
ان کی اس نشست پر 2008 ء میں میاں عبدالستار اور اب 2013 ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر شیخ فیاض الدین ایم این اے بنے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کی ملتان موجودگی کے دوران ضلع لیہ(فتح پور) کے ایک سابق امیدوار صوبائی اسمبلی چودھری عین الحق کے صاحبزادے چودھری انعام الحق کے علاوہ سید رفاقت گیلانی نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چودھری عین الحق بھی الیکشن لڑ چکے ہیں اور علاقے کی سیاست میں ایک اہم نام سمجھے جاتے ہیں۔
ضلع لیہ سے رمضان بھلڑ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اس لحاظ سے بڑی معنی خیز ہے کہ وہ شامل ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر بھی بنا دئے گئے ہیں۔ رمضان بھلڑ کا سعودی عرب میں بزنس ہے اب وہ قومی نشست کے امیدوار بھی ہیں۔ کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی ملتان آمد سے پیپلزپارٹی کم از کم ضلع لیہ میں اب نظر آئے گی۔ لیکن ان شخصیات کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کے دیرینہ کارکنوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے افطار ڈنر سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ جیسے ہی موسم بہتر ہو گا ان کی پارٹی ملتان میں جلسہ عام کرے گی۔ واضح رہے کہ 10 مارچ کو پیپلزپارٹی نے ملتان میں جلسہ عام کا پروگرام بنا رکھا تھا لیکن دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے باعث یہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اب ہم جلسہ عام کریں گے اور دیکھیں گے کہ ہمیں کون روکتا ہے۔
پچھلی دفعہ پنجاب حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جلسہ ملتوی کرایا تھا اب یہ جلسہ ہو گا اور ضرور ہو گا لیکن موسم کے حوالے سے جو انہوں نے وقت بتایا ہے اس کے مطابق کم از کم دو اڑھائی ماہ بعد یہ جلسہ منعقد ہو سکے گا۔پاکستان پیپلزپارٹی کی تنظیم نو کے بعد جن عہدیداروں کا اعلان کیا گیا ہے اس کے بارے میں دیرینہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔
اور سارے نئے عہدیداروں کا تعلق گیلانی گروپ سے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سابق عہدیدار جمود کا شکار ہو چکے تھے۔ پارٹی کی نوجوان قیادت کے ساتھ ایک متحرک ٹیم کی ضرورت تھی۔ نئے عہدیداروں کے ساتھ یہ ضرورت پوری ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بھرپور شمولیت کیلئے پیپلزپارٹی کو ابھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔ پنجاب میں اب بھی ان کے لئے آئیڈیل سچوئیشن نہیں ہے۔ صورتحال کو اپنے حق میں بنانے کے لئے ابھی بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
وقت اشاعت : 2017-06-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں