بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بقائے باہمی کی مستحسن روش پر گامزن پارلیمنٹ
صدر مملکت کے خطاب پر تحمل کا مظاہرہ ، تین وزرئے اعلیٰ کی عدم شرکت۔۔۔۔ صدر مملکت ممنون حسین اور سابق صدر آصف علی زرداری دونوں کو پارلیمنٹ میں ”دوستانہ ماحول“ ملا ہے
نواز رضا:
صدر مملکت ممنون حسین کا پارلیمنٹ سے خطاب آئین کا تقاضا ہے ماضی میں پاکستان کی پارلیمنٹ سے صدر مملکت کا خطاب ہو یا پھر آئندہ مالی سال کیلئے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر ان مواقع پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کی ”غیر پارلیمانی“ کارروائی ہماری پارلیمان کی روایت رہی ہے۔ جسے سیاسی جماعتوں کے درمیان رواداری کے ذریعے آہستہ آہستہ ترک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔
گزرے برسوں میں اپوزیشن نے ”مارشلائی صدر“ کو شدید احتجاج کر کے پارلیمنٹ کے ذریعے ایسا مجبور کر دیا کہ پھر انہوں نے اس پارلیمنٹ کو غیر مہذب لوگوں کی جگہ کا طعنہ دیتے ہوئے اس کا رخ بھی نہ کیا۔ اْن کے رخصت ہونے کے بعدصدر مملکت ممنون حسین اور سابق صدر آصف علی زرداری دونوں کو پارلیمنٹ میں ”دوستانہ ماحول“ ملا ہے شروع شروع میں اس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اس وقت کے ایوان صدر کے”مکین“ کو پریشان کئے رکھا لیکن جلد ہی آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ سے ”فرینڈلی“ ماحول میسر آ گیا۔
صدر مملکت کے خطاب کے موقع پر ایک سنجیدہ ماحول اس لئے بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس اہم موقع پر یہاں تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،چاروں صوبوں کے گورنرزاور وزرائے اعلیٰ،آزاد جموں وکشمیر کے صدر و زیراعظم، گلگت و بلتستان کے گورنرو وزیراعلی کی موجودگی ہماری پارلیمانی روایت کا حصہ ہے۔اس بار جہاں باقی سب کچھ معمول کے مطابق رہا سپیکر گیلری میں تین صوبوں کے وزرائے اعلی شہباز شریف، قائم علی شاہ اور پرویز خٹک کی عدم موجودگی کا بطور خاص نوٹس لیا گیا۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک تو میٹرو بس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں موجود تھے وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے اسلام آباد تک سفر کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی جب کہ گورنر سندھ جن سے وفاقی حکومت نے استعفیٰ ٰطلب کر لیا ہے، وہ اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے لئے موجود تو تھے لیکن انہوں نے بھی پارلیمنٹ کے لئے کچھ وقت نہیں نکالا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو گلگت و بلتستان کے انتخابات میں جلسوں سے خطاب کر رہے تھے پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہیں آئے۔سر دست وہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی نہیں آرہے ان کہنا ہے کہ ان کا وقت بڑا قیمتی ہے وہ پارلیمنٹ جا کر اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتے سیاسی حلقوں میں ان کے اس طرز عمل پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک طرف تو پاکستان تحریک انصاف کے ارکان استعفے دینے کے بعد ان کی توثیق کرانے کے لئے تیار نہیں تھے لیکن اب ان کے قائد کہہ رہے ہیں وہ پارلیمنٹ جا کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے لئے پارلیمنٹ میں کوئی کشش نہیں تو وہ پھر کیوں اس کے لئے مرے جارہے تھے دراصل وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کو جس طرح اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اسے شاید عمران خان بھلا نہیں سکے اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کا رخ نہیں کیا تاہم ان کی پارٹی کے بعض منتخب ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بات خاص طور پر نوٹ گئی ہے پارلیمانی جماعتوں کی قیادت پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب پر بحث میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی ”صدر کے خطاب پر بحث“ پورا سال قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایجنڈے پر شامل ر ہتی ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں اس پر بحث کرنے سے کتراتی رہتی ہیں۔تاہم پارلیمانی سال ختم ہونے سے قبل آئینی تقاضے کو پوارا کرنے کے لئے عجلت میں بحث کرالی جاتی ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت نے جس طرح پر اعتماد لہجے میں حکومتی ”کامیابیوں“ کو بیان کیا ہے انہیں چاہیئے تھاکہ کسی قدر حکومت کی ناقص کار کردگی کا جائزہ بھی لیتے بلکہ بہتر ہوتا کہ وہ لکھی ہوئی تقریر پڑھتے کی بجائے اس تقریر میں ترمیم بھی کر لیتے۔ صدر مملکت نے 34منٹ کے خطاب میں حکومت کی کارکردگی بیان کر کے اس کے ارکان سے خوب داد لی۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جسے ”فرینڈلی“ اپوزیشن کہا جاتا ہے ، ایوان میں توجہ اور خاموشی سے صدر کا خطاب سنا۔ تحریک انصاف کے ارکان بھی صدر کے خطاب کے دوران ”خاموش“ یہ رہے اور حکومت کے لئے کوئی پریشان کن صورت حال پیدا نہیں کی۔ تاہم اے کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے گیلری میں عسکری قیادت کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قواعد کی پروا کئے بغیرصدر کے خطاب سے قبل پوائنٹ آف آرڈر پر ایم کیو ایم کے کارکنوں سے ہونے والی زیادتیوں کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کو شش کی۔
جس پر سپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی تو ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے بہر حال وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب ایم کیو ایم کے ارکان کو منا کر ایوان میں واپس بلا لائے۔ اس طرح ایم کیو ایم بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں کا میاب ہو گئی۔ صدر مملکت ممنون حسین کا شمار پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا ہے لہٰذا وہ کھل کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے 44کھرب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ 2015-16 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ 5جون 2015ء کو وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد سے اس پر حکومت اور اپوزیشن سمیت میڈیا پر بحث جاری ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خور شید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کی دھواں دھار تقاریر سے بجٹ پر بحث شروع ہو چکی ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن اس کے اعداد و شمار میں الجھ کر مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصا ف نے حکومت کو ”شیڈوبجٹ“ پیش کر کے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بجٹ کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی رائے توقائم نہیں کی جا سکتی البتہ اس کی منظوری کے بعد ہی اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو ں گے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی ابھی سے تیاری کرنا ضروری ہے بہرحال عوام دوست اور خواص دوست بجٹ کی بحث چل رہی ہے جس میں سے نکل کر موجودہ حکومت قومی بجٹ تو منظور کروا ہی لے۔
پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کی ”لائیو کوریج“ جا ری ہے جسے براہ راست عوام کو دیکھنے اور سننے کا خوب موقع مل رہا ہے۔دوسری طرف موسم گرما کی شدت کے ساتھ ساتھ ملک کا سیاسی ٹمپریچر بھی بڑھ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی ”دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں“ نے پاکستان تحریک انصاف کا چہرہ ”گہنا“ دیا پرامن انتخابات کرانے میں ناکامی نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات شفاف اور پرامن کرانے میں ناکامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد کرنے کا چیف الیکشن کمشنر نے سخت نوٹس لیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرنے کی پیشکش پر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے کہا ہے کہ دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانا گڈی گڈے کا کھیل نہیں ری پولنگ کی بات کرنے والوں کا علاج کریں گے۔
کنٹونمنٹ بورڈز اور قومی و صوبائی اسمبلی کے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج پاکستان تحریک انصاف کو پہلے ہی شدید دھچکا لگا چکے تھے رہی سہی کسر این اے- 108 منڈی بہاؤالدین کے ضمنی انتخاب اور گلگت و بلتستان کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میدان مار کر پوری کر دی ہے۔ لہذا یہ بات کہی جاسکتی ہے آنے والے دنوں میں جو ڈیشل کمیشن کی رپورٹ ہماری سیاست کا رخ متعین کردے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-12

(0) ووٹ وصول ہوئے