تازہ ترین : 1
Balochistan Main Pe Dar Pe Dehshat Gardi K Waqeaat

بلوچستان میں پے درپے دہشتگردی کے واقعات!

نومبر کا خود کش حملے، 15 نومبر کے افسوسناک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ،کوئٹہ کے عوام اور حکومت ابھی بھولے نہیں تھے کہ 25 نومبر کو سریاب روڈ کوئٹہ میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں ایک بچے اور بچی سمیت 6 افراد شہید اور 25 زخمی ہو گئے۔

وطن یار خلجی:
نومبر کا مہینہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر انتہائی بھاری گزرا۔ گزشتہ ہفتوں سے تواتر کے ساتھ ہر ہفتہ دہشت گردی کا ایک نیا واقعہ شہر میں رونما ہو جاتا ہے۔ 9 نومبر کا خود کش حملے، 15 نومبر کے افسوسناک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ،کوئٹہ کے عوام اور حکومت ابھی بھولے نہیں تھے کہ 25 نومبر کو سریاب روڈ کوئٹہ میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں ایک بچے اور بچی سمیت 6 افراد شہید اور 25 زخمی ہو گئے۔
یہ خود کش حملہ ایف سی کے چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ کرنل اشتیاق کی گاڑی پر ہوا اور خوش قسمتی سے کرنل اشتیاق اپنی گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ ایف سی چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ کی گاڑی پر حملہ جبکہ اس سے پہلے 9 نومبر کو ڈی آئی جی پولیس حامد شکیل کو 4 اہلکاروں سمیت خود کش حملے میں شہید کیاگیا۔ اسی واقعے کے ایک ہفتہ بعد 15 نومبر کو نواں کلی کوئٹہ میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد الیاس کو اہلیہ، بیٹے اور بیٹی سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
کوئٹہ میں تین اہم سکیورٹی شخصیات کو تواتر سے ٹارگٹ کرنا ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے کہ آخر کون ہیں یہ دہشت گرد جو ہر ہفتے اپنا ٹارگٹ حاصل کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے ان واقعات کے محرکات کیا ہیں۔ 25 نومبر کا واقعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس میں کمانڈنٹ ایف سی کو نشانہ بنانا تھا۔ مگر کمانڈنٹ ایف سی اتفاق سے گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ دہشت گردوں کے اس وار میں اگرچہ کرنل اشتیاق محفوظ رہے مگر 6 شہری شہید ہو گئے۔
یہ واقعہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس اہم پولیس افسران اور ایف سی حکام کی آمد و رفت کا بخوبی علم ہوتا ہے اور ان واقعات کی پہلے سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ اس میں سہولت کاروں کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ سہولت کار ان واقعات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں جن کو تمام معلومات حاصل ہوتی ہیں اور یہ سہولت کار سرحد پار سے آنے والے خوش حملہ آوروں اور ٹارگٹ کلرز کو شہر میں رہائش سمیت تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کوئٹہ کے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر کہنا ہے کہ دہشت گردی میں را اور این ڈی ایس شامل ہیں جو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دہشت گرد سرحد پار افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں چونکہ پاک افغان سرحد طویل ترین سرحد ہے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ دونوں فورسز دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں تاہم سکیورٹی فورسز اور پولیس کا مورال بلند ہے اور دہشت گردی کے خلاف عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا کہ 25 نومبر کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک فرانزک ٹیم کو لاہور سے بلایا گیا ہے اس کے علاوہ کوئٹہ میں ہونے والے ماہ نومبر کے تینوں افسوسناک واقعات کے محرکات اوراس میں ملوث گروپوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔دوسری جانب گزشتہ دنوں کے خود کش دھماکے کے بعد کوئٹہ شہر میں لوگوں میں خوف و ہراس بھی پیدا ہوا ہے تاہم شہر کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف علاقوں میں چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
ویسے بھی 9 نومبر اور 15 نومبر کے دہشت گردی کے واقعات کے بعد کوئٹہ میں کڑی نگرانی کا عمل جاری ہے اور دہشت گردوں سمیت ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کیلئے کام کا ا?غاز بھی کر دیا گیا ہے۔ سیکٹر کمانڈر ایف سی بریگیڈیئر تصور تمام کارروائیوں اور اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں گزشتہ دنوں کوئٹہ کے ایک نواحی علاقے میں گرینڈ آپریشن بھی کیا گیا تھا اور بریگیڈیئر تصور ستار کا کہنا ہے کہ مزید آپریشن کوئٹہ میں منعقد ہوں گے اور یہ تمام تر آپریشنز اور کارروائیاں انٹیلی جنس رپورٹس اور اطلاعات کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں اور ایف سی کے ساتھ ساتھ پولیس بھی ان آپریشنز میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔
دریں اثناء کوئٹہ میں ایف سی اور پولیس کی بھرپور کارروائیوں کے باوجود 25 نومبر کا واقعہ رونما ہوا۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے مبصرین کے مطابق بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں اور جوان ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔ مگر پھر بھی افسوسناک واقعات رونما ہو جاتے ہیں لہٰذا اس حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کاوشیں یقیناً قابل تحسین اور اطمینان بخش ہیں مگر ان کاوشوں کو مزید موثر بنانے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس مقصد کیلئے نئی حکمت عملی بنانی پڑے گی۔
آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم کی یہ حکمت عملی کہ ایف سی اور پولیس کے آپریشنز اور کارروائیوں میں منتخب نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور علاقے کے عمائدین کو نہ صرف پہلے سے اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان سے رابطے اور مراسم بھی گہرے ہوں۔ یقیناً ایف سی بلوچستان کی یہ کاوش کارگر اور موثر ثابت ہو گی ۔ دوسری جانب اگر ہم رواں سال کا جائزہ لیں تو دہشت گردوں نے پولیس کو تواتر سے نشانہ بنایا ہے اور اب تک 35 اہلکار اعلیٰ افسروں سمیت شہید کر دیئے گئے ہیں اور یہ مختلف واقعات کے دوران ہوئے ہیں۔
تاہم پورے سال میں اب تک نومبر کا مہینہ بہت بھاری پڑا ہے، سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات اسی مہینے کے 25 دنوں کے دوران ہوئے ہیں۔ مکران ڈویڑن کے حساس ترین علاقے تربت میں 2 واقعات رونما ہوئے جس میں 20 افراد کو قتل کیا گیا تاہم گزشتہ دنوں 25 نومبر کو پسنی کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا جس میں ایف سی کا ایک نائب صوبیدار شہید اور 4 مزدور زخمی ہو گئے تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پسنی میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ ہر دہشت گرد کو انجام تک پہنچائیں گے اور انہیں چن چن کر ماریں گے۔ مکران ڈویڑن میں یہ گزشتہ دس دنوں میں تیسرا واقعہ ہے جو رونما ہوا ہے کوئٹہ کے بعد مکران ڈویڑن میں بھی دہشت گردی کی لہر نے سر اٹھا لیا ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سی پیک کے عظیم منصوبے کو سبوتاڑ کرنے کی بیرونی سازش کا حصہ ہے تا کہ بلوچستان کے حالات خراب ہوں اور یہاں پر مختلف واقعات رونما ہوں تا کہ باہر اور بالخصوص ہمارے انتہائی دوست و برادر ملک چین کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بلوچستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں مگر چین بھی پاکستان کی طرح یہ عہد کر چکا ہے کہ سی پیک کا منصوبہ ہر صورت میں مکمل ہو گا اور چین کو بھی ان تمام تر سازشوں کا ادراک ہے اسی لئے چین بھی اپنے عزم پر ڈٹا ہوا ہے اور پاکستان پر نہ صرف بھرپور اعتماد ہے بلکہ ہر فرم پر پاکستان کی مکمل حمایت کر رہا ہے اور ساتھ دے رہا ہے۔

وقت اشاعت : 2017-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں