تازہ ترین : 1
Baldiyati Numaindoon Ko Iqtedar Ki Muntaqili

بلدیاتی نمائندوں کوا قتدار کی منتقلی

بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا۔ جشن فتح منا لئے گئے، الزامات کی جنگ بھی دھم پڑنے لگی۔ میئر اور چیئرمین ضلع کو نسلز حلف اٹھا کر دفاتر سنبھالنے لگے۔ خواب تو یہ تھا کہ پرویز مشرف والے دور کے ضلع ناظمین بنیں گے اور وسیع اختیارات سے لطف اٹھائیں گے جو ضلع ناظم کو اگر مہاراجہ نہیں تو راجہ ضرور بنا دیتے ہیں

خالد جاوید مشہدی :
بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا۔ جشن فتح منا لئے گئے، الزامات کی جنگ بھی دھم پڑنے لگی۔ میئر اور چیئرمین ضلع کو نسلز حلف اٹھا کر دفاتر سنبھالنے لگے۔ خواب تو یہ تھا کہ پرویز مشرف والے دور کے ضلع ناظمین بنیں گے اور وسیع اختیارات سے لطف اٹھائیں گے جو ضلع ناظم کو اگر مہاراجہ نہیں تو راجہ ضرور بنا دیتے ہیں۔
شاہ محمود نے ضلع ناظم ملتان کی حیثیت سے ہمہ مقتدر فوجی صدر پرویز مشرف کا ملتان آمد پر استقبال کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اسی بناء پر مجید نظامی مرحوم و مغفور سے ” باغی شہزادہ “ کا خطاب بھی پایا تھا مگر یہ آرزوئیں ناتمام ہی رہیں اور پنجاب حکومت نے ”ضلع کے بادشاہ“ ڈپٹی کمشنر کا نظام بحال کر دیا جس میں پولیس کا ضلعی سربراہ بھی ڈپٹی کمشنر کا ماتحت ہو گا۔
پولیس اب آزادی کا لطف اُٹھانے کے بعد دوبارہ غلامانہ نظام میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ اس لیے ضلعی عہدیداروں میں اختیارات کی کھچڑی پکتی رہے گی۔ چیئرمین ضلع کونسل ڈپٹی کمشنرز کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نظام کی کچھ خصوصیات ضرور ہیں مگر اب جب ایک نیا نظام کئی برس سے رائج تھا تو اس میں تھوڑی بہت ردوبدل کر کے درمیانی راہ نکالی جا سکتی تھی۔
حکومت نے سپریم کورٹ کے احکام پر طوعاََ بلدیاتی انتخابات تو کروا دئیے مگر اختیارات کے معاملے پر ڈنڈی مار دی کیونکہ اس صورت میں کہ اگر کوئی ضلع اظم اپوزیشن کا منتخب ہو جائے تو وہ صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم بھی دے سکتا ہے جیسے کراچی میں ایم کیو ایم کا مئیر منتخب تو ہو گیا مگر اختیارات کے معاملے پر صوبائی وزیراعلیٰ نے جھنڈی دکھا دی کہ یہ معاملہ ان کے اختیار میں نہیں۔
پیپلز پارٹی پنجاب میں رحیم یار خان میں اپنے ضلع چیئرمین کی صورت میں بڑا مورچہ لگا سکتی تھی مگر اس میں بھی اسے ناکامی ہوئی حکومت نے ایک طرف ڈی سی نظام بحال کر کے بلدیاتی نظام کے اوپر تلوار لٹکا دی تو دوسری طرف ” یا جوج ماجوج “ ی طرف افسروں کی فوج ظفر موج ان پر چھوڑ دی۔ غیر ملکی دباوٴ پر بنائے گے ادارے کام کم اور پروٹوکول کے چکر میں زیادہ رہتے ہیں ۔
افسروں کی بھرمار کا ایک منظر دیکھیں میونسپل کارپوریشن میں گریڈ 19 کا ایک چیف افسر بھی تعینات ہو گا جبکہ ضلع کو نسل میں گریڈ 18تا19 کا افسر تعینات ہو گا۔ چیف آفیسر کے بعد 18ویں گریڈ کا ایک ڈپٹی چیف آفیسر جبکہ اس کے بعد گریڈ 16 کے 4اور گریڈ 14 کا ایک اہلکار تعینات ہو گا۔ اسی طرح ایک 19 ویں گریڈ کا میونسپل فنانس آفیسر ہو گا جس کے بعد گریڈ 17کا ایک اور گریڈ16کے پانچ آفیسرز، گریڈ14 کے تین اور گریڈ 11 کا یک اہلکار تعینات ہوگا۔
گریڈ 19 کا میونسپل آفیسر انفراسٹرکچر اور گریڈ 14 کے تین اہلکاربھی ہوں گے۔ میونسپل آفیسر سروسز کے نام سے گریڈ 18 اور اسکے بعد گریڈ 17کے دو اور 16کے دو آفیسر تعینات ہوں گے۔ میونسپل آفیسر پلاننگ گریڈ 18یا19، اسکے بعد3آفیسر گریڈ 17اور 16اور 14 گریڈ کے تین تین اہلکارہوں گے۔ میونسپل آفیسر ریگولیشن گریڈ 19اور اس کے بعد گریڈ 17کے2آفیسر اور تین 16، اور11 گریڈ کے 4ہونگے یعنی گریڈ 19کے 7 میونسپل آفیسر ، گریڈ 18کے 6، گریڈ 17کے 11 ، گریڈ 16کے 16 اور گریڈ 14کے 13اور گریڈ گیارہ کے پانچ اہلکار تعینات ہوں گے ۔
ایک میونسپل کارپوریشن میں مختلف گریڈز کے57 آفسر اور اہلکار مقرر ہونگے۔ ضلع کونسلوں میں بھی بالکل یہی ڈھانچہ کام کریگا۔ اس طرح درجہ بدرجہ میونسپل کمیٹیوں ، ٹاوٴن کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی صورتحال ہو گی۔ اندازہ کرلیں کہ اتنے آفسروں کی تنخواہوں اور مراعات پر ہونے والے اخراجات کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے جو رقوم مختص ہوں گی ۔ ان میں 25 سے 40 فیصد کرپشن کا حصہ بھی نکال دیں تو عوام کیلئے خاک بچے گی یعنی عوام کے لیے بلدیاتی ادارے بھی کچھ نہیں لے کر آئیں گے سب اپنا پیٹ ہی بھریں گے۔
وقت اشاعت : 2017-01-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں