تازہ ترین : 1
Baldiyati Intekhabat Ka Doosra Marhala

بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ،پنجاب کے 12اضلاع میں19نومبرکو(کل) انتخابی معرکہ ہوگا

متعدد شہری حلقوں میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن)کا مقابلہ پی ٹی آئی جبکہ دیہی حلقوں میںآ زاد امیدوار وں سے متوقع ہے۔۔ بلدیاتی انتخابات میں عام انتخابات 2013ء کے مقابلے میں ووٹوں کی تعدادمیں ہیرپھیر سوالیہ نشان ہے

مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت پنجاب کے 12اضلاع میں 19نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، انتخابی معرکے میں مسلم لیگ(ن)،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ق)سمیت آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے،ان اضلاع میں پنجاب کے متعددشہری علاقوں سرگودھا، گوجرانوالہ، اٹک، میانوالی، ساہیوال، چنیوٹ ، شیخوپورہ میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) کا اصل مقابلہ تحریک انصاف آزاد امیدواروں سے ہے،جبکہ باقی اضلاع میں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ق)، جماعت اسلامی اور آزاد امیدوار مسلم لیگ نواز کو ٹف ٹائم دینے کیلئے مضبوط پوزیشن میں ہیں، اسی طرح دیہاتی علاقوں میں مسلم لیگ(ن) کاحقیقی مقابلہ برادری ازم، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ(ن)کے اپنے ہی آزاد امیدواروں سے بھی ہے ۔
پنجاب کے ان تمام اضلاع میں کسی سیاسی جماعت کی برتری کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ(ن) کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن)کو حکومتی اور بڑی سیاسی جماعت ہونے کافائدہ حاصل ہے جس کے پاس قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں موجود ہیں اسی طرح مسلم لیگ(ن)کو کسان پیکج،ترقیاتی کاموں کا بھی بڑا فائدہ پہنچے گا۔
اگر دیکھا جائے تو ووٹرز کیلئے الیکشن میں برادری ازم، کاروباری شراکت داری،سب سے بڑھ کر سیاسی پارٹی سے وابستگی بڑی اہمیت کے حامل عناصر تصور کیے جاتے ہیں جو کسی بھی امیدوار کے الیکشن جیتنے کیلئے بڑا کردار ادا کرتے ہیں ۔پنجاب کے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی الیکشن میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) یا دوسری جماعتوں کے الیکشن جیتنے کیلئے پنجاب میں پہلے مرحلے میں ہونے والے انتخابی نتائج اور پارٹی کی برتری سیاسی لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہوگی جو ووٹرز کی دلکشی کا ایک باعث بھی بن جائیگی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ق) سمیت دیگر جماعتوں نے دھاندلی کا واویلہ کیا ہے،انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ بھی کیا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں بد ترین دھاندلی کا نوٹس لیا جائے جبکہ الیکشن کے دوسرے مرحلے میں سرکاری افسران کو ریٹرننگ آفیسرزتعینات کرنے کی بجائے عدالتوں کے ججز کو ریٹرننگ افسران بنایا جائے،پنجاب میں اضلاع کے انچارج ڈی سی اوز کو بلدیاتی الیکشن میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز بنایا گیاجو وزیراعلیٰ پنجاب کے تعینات کردہ افسران ہیں، ان افسران نے مسلم لیگ(ن)کے امیدواروں کوالیکشن جتوانے کیلئے الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ترقیاتی کاموں میں وسائل کا بے جا استعمال کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پنجاب نے اس بار دھاندلی کا نیا طریقہ رائج کیا ہے جس کے تحت ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اضافی بیلٹ پیپرز دیئے گئے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں جو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرینگے۔ ان تمام تر الزامات کو مدنظررکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہیئے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور دھاندلی کا واویلہ کرنے والی جماعتوں کے تحفظات بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے سے قبل ہی دور کیے جاتے۔

بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کا حُسن تصور کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اقتدار اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کے ساتھ عوامی مسائل کے حل میں فوری مدد ملتی ہے کیونکہ سرکاری فنڈز کا کافی حصہ نچلی سطح پر منتخب لوگوں کو بھی دیا جاتا ہے جس سے منتخب عوامی نمائندے مقامی سطح پراپنے اپنے علاقوں میں تعلیم و صحت اور ترقیاتی کاموں،ڈرینج سسٹم ،گلی کوچوں میں سڑکوں و سولنگ کی تعمیرومرمت، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔
لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ کس علاقے میں کس جماعت کی سیاسی جڑیں کتنی زیادہ مضبوط ہیں جبکہ انتخابی عمل سے ہر سیاسی جماعت کو جہاں اپنے نامزد امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد سے اپنی مقبولیت کا اندازاہ ہوگا وہاں پھر ہر جماعت اپنی مقبولیت بڑھانے کیلئے حقیقی معنوں میں عوام کے فلاحی کاموں اور مسائل حل کرنے کی جانب بھی کوشاں ہوگی۔
بلدیاتی انتخابات کے باعث گلی محلوں،تھڑوں کی سیاست بھی جاگ اٹھی ہے ،انتخابی حلقوں میں خوب گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔جگہ جگہ چھوٹی بڑی فلیکسسز،بینرز لگائے گئے ہیں جن پر پارٹی قیادت کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت منگل اور بدھ کی رات جلسے جلوسوں اور کارنرمیٹنگز کی شکل میں انتخابی مہم ختم ہو جائیگی۔

دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12اضلاع سرگودھا،گوجرانوالہ،ساہیوال،اٹک،جہلم،میانوالی،چنیوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین،شیخوپورہ اور خانیوال میں الیکشن کمیشن کے رجسٹرڈ ووٹوں کے مطابق پنجاب میں مرد اور خواتین کے کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 13702107جن میں مرد وں کے رجسٹرڈووٹرز کی تعداد7750073جبکہ خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد5952034ہے ،ان بارہ اضلاع میں عام انتخابات کے اڑھائی سال گزرنے کے بعد نئے ووٹوں کے اضافہ سے یہ تعداد بڑھنی چاہیئے تھی ،گڑبڑ کہا ں ہے اس کا تعین الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے کہ نئی حلقہ بندیاں کرتے وقت ووٹ باہر گئے یا نئے ووٹ شامل نہیں کیے گئے ؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان 12اضلاع میں کُل 9011انتخابی حلقے ہیں جن میں 1102یونین کونسلز،6612وارڈز،64میونسپل کمیٹیاں،اسی طرح میونسپل کمیٹیوں میں وارڈز کی کُل تعداد 1297ہے۔
جبکہ الیکشن عملے کی تعداد جن میں12ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز،234ریٹرننگ آفیسرز اور 468اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرزشامل ہیں۔پولنگ عملے کی تعدادجن میں پریزائیڈنگ آفیسرز 11906 ،اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز 70400،پولنگ آفیسرز35200شامل ہیں۔دوسرے مرحلے کے انتخابات کیلئے 12اضلاع میں 11906پولنگ اسٹیشنز اور 35200پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق بلدیاتی الیکشن بظاہر یونین کونسل سطح کا الیکشن ہے لیکن امیدواروں نے انتخابی مہم پر کروڑوں روپے لگا دیئے۔تمام صوبوں میں اب تک ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ صوبے میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے،الیکشن میں برتری بھی اسی جماعت کی نظر آئی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-11-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

Sanaullah Nagra

مصنف کا نام : ثنا اللہ ناگرہ

ثناء اللہ ناگرہ 2006 سے پیشہ ورانہ صحافت سے منسلک ہیں۔ جنوری 2015 سے اُردو پوائنٹ میں بطور ایڈیٹر نیوز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ ناگرہ کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں