بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلدیاتی انتخابات۔۔وسائل کا غیر ضروری اور ناجائز استعمال
الیکشن کمیشن کے احکامات ہوا ہوئے۔۔۔۔جہاں ایک طرف خود الیکشن کمیشن کی طرف سے انتظامات میں ست روی کا نظارہ دکھانے کا کہیں کہیں مظاہرہ کیا گیا، وہیں امیدواروں اور ان کے سپورٹروں کی طرف سے پر تشدد نعروں اور ایک دوسرے کے خلاف گونجتی آوازوں کی لے میں کسی صورت کوئی کمی روا نہیں رکھی گئی
سجاد اظہر پیرزادہ:
شہر لاہور میں 31 اکتوبر کو صبح کا سورج طلوع ہوئے ایک گھنٹہ 12 منٹ ہوئے، تو 7 بج کر 30 منٹ پر 18سال کی عمر سے اُوپر پُرسکون چہروں کا باوقار جھرمٹ اپنے ملک کے جمہوری نظام کو علاقائی سطح پر تقویت دینے کے لیے جمہوری نظام کو علاقائی سطح پر تقویت دینے کیلئے شاہانہ اندا ز کے ساتھ شہرکی مخصوص 274جگہوں کے اردگرد منڈلاتا ہوا نظر آنے لگا اگرچہ یہ مختلف نظریات کے پیروکار لوگ اپنے ملک کے وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے بعد اب بلدیاتی انتخابات 2015 کیلئے اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل کر اپنی اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے پولینگ اسٹیشن کی طرف نکل پڑے تھے، ان لوگوں کی چال میں مگر غیر آئینی قوتوں سے اجتناب کی بو، اور جمہوری نظام سے وابستہ محبت کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا رہی تھی۔
باغ میں جس طرح موجود کچھ لوگ شاخ پر کھلکھاتے پھول کو بے دردی کے ساتھ توڑ کر اس کی خوشبو سونگھنے کو مردانگی کی علامت سمجھتے ہیں بلدیاتی انتخابات میں بالکل اسی طرح، امیدواروں کا چناوٴ کرنے کے لیے بنائے گے 274 پولنگ اسٹیشنوں میں ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں تھی، جنہوں نے الیکشن کمیشن کے قوانین کو پاوٴں کی ٹھوکر پر 31اکتوبر کی شام 5بج کر 30 منٹ تک رکھے رکھا۔

جہاں ایک طرف خود الیکشن کمیشن کی طرف سے انتظامات میں ست روی کا نظارہ دکھانے کا کہیں کہیں مظاہرہ کیا گیا، وہیں امیدواروں اور ان کے سپورٹروں کی طرف سے پر تشدد نعروں اور ایک دوسرے کے خلاف گونجتی آوازوں کی لے میں کسی صورت کوئی کمی روا نہیں رکھی گئی۔ ذرائع کے مطابق یوسی 3 میں 33 سے 40 تک ووٹرلسٹ میں8 صفحات کم تھے، اداروں میں کھنچاوٴ اور افسروں کی فرائض سے ناآشنائی دیکھئے کہ یوسی کے آفس سے ڈی سی آفس فون کیا گیا کہ یہ مسئلہ درپیش آرہا ہے وہاں سے کہا گیا کہ یہ ہماری نہیں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ساڑھے 7بجے پولنگ کا ٹائم تھا ووٹر پریشان ہوتے رہے۔
یہ تاخیری مرحلہ گھنٹوں کی حدود پھیلا نگتا گیا اور آخر کار2 گھنٹے کی تاخیر کے بعد9 بج کر 9 منٹ پر آٹھ صفحوں پر مشتمل بقیہ ووٹرلسٹیں ، متاثرہ دفتر میں پہنچ گئیں۔بلاشبہ پنجاب پولیس نے اس الیکشن میں قابل تحسین کردا داد کیا ۔سیاست سے بالاتر ہو کر پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں مشکوک ووٹر دھر بھی لیے گئے کسی کے ساتھ کوئی ناجائز رعایت روا بھی نہیں رکھی گئی اچھرہ کے حلقے میں مگر یہ سنا گیا کہ اچھر ہ تھانے کے ایس ایچ او کی زیرنگرانی پولیس اہلکار یوسی 84 کے اندر حکومتی جماعت کے امیدواروں کی فلیکس آویزاں کرتے رہے۔
بے شک تمام پارٹیوں، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی ودیگر کے اکثر امیدواروں اور سپورٹروں نے بڑے ہی شاندار نظم و ضبط اور دیانت کا مظاہرہ کیا۔ یوسی 52,50 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیداواروں نے مگر ایک ایک پولنگ ایجنٹس بٹھانے کے بعد ان کی طرف سے تین تین ایجنٹس خفیہ طور پر بھی بٹھانے کی اطلاع ملی ہے ایک آدمی نے اگر دو کو رنگ کینڈیٹ کھڑے کئے ان کو حق حاصل ہے کہ اپنا پولنگ ایجنٹ بٹھائیں اس امیدوار کی سپورٹ کرنے کی بجائے دوسرے امیدواروں کی پرچی بھی مگردی جاتی رہی۔
یوسی 56,49میں 3بائی 9 کے پوسٹر لگانے کی بجائے بڑے بڑے فلیکس اور پوسٹر آراوکی جانب سے اتروا دینے کے باوجود ایک بار پھر سے بار بار لگائے جاتے رہے۔ یوسی64,57 میں جن مسلم لیگیوں کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹیں نہیں ملیں، انہوں نے آزاد الیکشن لڑا اور کیش مسلم لیگ کے نام کو لیڈروں کی تصویریں لگا کر کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے کنٹرول نہ کرنے کی اس صورتحال کے باعث ہوا یہ کہ نقصان ان امیدواروں کا ہو گیا جنہیں ٹکٹیں ملیں تھیں اور وہ ہار گئے ٹکٹے نہ ملنے والے اور مسلم لیگ کے نام کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے آزاد امیدواروں میں انار کلی حلقہ میں شاہد محمود، عبدالرحیم عرف ننھا اور رفیق گجر باوٴ شامل ہیں۔
ایک طرف جہاں امیدواروں کی طرف سے خلاف ورزیاں ہوتی رہیں تو مدمقابل دو پارٹیوں ن لیگ اور تحریک انصاف کے قد آور لیڈر بھی اس میدان میں پیش پیش تھے ،شاہدرہ میں الیکشن کمیشن کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور اسلحہ لہرانے کے جرم میں ن لیگ کے ریاض ملک کے بھائی کو گرفتار کیا گیا تو برطانیہ میں تربیت حاصل کرنے والے تحریک انصاف کے چوہدری محمد سرور بھی اپنی گاڑی میں اسلحہ رکھ کر قانون شکنی میں پیچھے نہ رہے۔ یوسی 63 پی ٹی آئی امیدواروں نے پولنگ سٹاف کو محصور کر دیا یوسی237 میں بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو دوسری طرف یوسی205 کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ن لیگ کونسلر خود پولنگ ایجنٹ کے فرائض مزے سے انجام دیتی رہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان