تازہ ترین : 1
Baba Tujhe salam

”بابا “ تجھے سلام!

پاکستان کی موجودہ سیاست میں اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا کی عزت واحترام لازم ہے، ذاتی رائے نہیں فیصلہ ہونا چاہیے

امیرمحمد خان:
”بابا“ ایک ایسا لفظ ہے جسے سن کر اگر وہ انسان ہے تو اس کے لئے ایک بے حد احترام، اور تعظیم کا تصور خود بخود ابھرتا ہے، انسان کے لئے تحریر کیا ہے کہ بابا تمباکو بھی پان کھانے والوں میں مشہور ہے۔ ہماری سیاست ، سیاست دانوں کی زبان لب ولہجہ جس منفی طرف چلا گیا ہے،اس مین نہ ہی کسی کی عزت واحترام ہے، نہ ہی اسکا خیال کہ اسے سن کر مستقبل میں ہمارے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والی نئی نسل یا مہذب دنیا پر کیا اثر ہوگا یا وہ ہمارے سیاست دانوں اور سیاست کو کس معیار پر رکھیں گے، لب ولہجہ میں نہائت قابل اعتراض انداز ، کسی کو مخاطب کرنے کا منفی انداز سیاست اور سڑکوں پر لانے کا سہرا عمران خان کے سر ہے، جو ہمارے حاضر سٹاک سیاست دانوں میں سب سے زیادہ مہذب تصور کئے جاتے ہیں کہ یورپ میں نہ صرف رہے بلکہ ایک رشتہ نہیں بلکہ کئی رشتے بنائے ”اولادوں کا تعلق یورپ کی سرزمین سے ہی ہے۔
اس زبان کی ایک ”غیر تعلیم یافتہ “ قسم حال ہی میں مولانا خادم حسین رضوی لیکر مارکیٹ میں آئے جبکہ طاہر القادری لب ولہجہ تو جوشیلا رکھتے ہیں مگر کبھی زبان سے کوئی غلط اور قابل اعتراض نہیں طاہر القادری کی تقاریر میں میاں صاحبان کی ”اتفاق“ مسجد کی تعلیم و تہذیب کا عنصر ہے۔ نیز طاہر القادری کی سیاست کے علاوہ مذہبی تعلیم بھی ان کی شائستگی کی وجہ ہے سیاست میں علامہ سنجیدہ نظر نہیں آتے اور لگتا ہے بلکہ یقین ہے کہ کسی TASK پر آتے ہیں کینڈا کی ٹھنڈ سے اور اچانک چلے جاتے ہیں مگر جب بھی آتے ہیں میڈیا میں ہلچل مچائے رکھتے ہیں، دھمکیاں لگاتے ہیں اور یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ کسی مناسب وقت پر جب چاہو نگایہ کر دونگا اور وہ کردو نگا وغیرہ وغیرہ۔
اس مرتبہ تو آصف زرداری جنہیں سیاسی داؤ پیچ کا بادشاہ کہا جاتا ہے انہیں بھی چکردے گئے اور اپنے ہمراہ اپنے مشہور کنٹینر پر کھڑا کرنے کا وعدہ کرگئے ہیں۔ آصف زرداری جب جب بھی اپنے صاحبزادے پی پی پی کے مستقبل بلاول بھٹو کو سیاست میں سرگرم کرنے کا اعلان کرتے ہیں پھر اسی وقت خود زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں۔ خیر یہ ان کا حق ہے ، انتخابات قریب ہیں ہر ایک کو اپنی صفیں درست کرنی ہیں۔
اس صورتحال میں مسلم لیگ ن اپنی صف درست نہیں کرپارہی ، ابھی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن یہ طے ہی نہیں کرسکی یا میاں نوازشریف کو راضی نہ کرسکی کہ مستقبل کی پالیسی کیا بنانی ہے، میاں صاحب کہہ رہے ہیں ملک کی ترقی رک چکی ہے،وزیر اطلاعات اور وزیراعظم ک ودیگر وزراء کہہ رہے ہیں کہ ملک ترقی کررہا ہے، معلوم ہوتا ہے حکومت کا حزب اختلاف ونگ ، بن چکا ہے نیز سابق وزراء کے مشورے کہ میاں صاحب اداروں کے متعلق سخت زبان استعمال نہ کریں مگر جسے چوٹ لگتی ہے وہ درد سے چلاتا تو ہے۔
عدالتوں کے خلاف بولنا اچھی بات نہیں توہین عدالت اپنی جگہ مگر یہ بات صحیح ہے کہ عدالت درگزر سے کام لیتی ہے ورنہ صرف میاں نواز شریف ہی نہیں عمران خان ، انکے ساتھی، کچھ میڈیا ہاؤسز جو یہ چاہتے ہیں جو ان کی خواہشات ہیں وہی فیصلے آئیں۔ یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عدالت کے جج نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولنے چاہیئں جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے اپنے حالیہ بیان میں یہ کہہ کر کہ مشورہ دینا چاہیے اس کا مطلب ہے یہ تو ہی عدالت نہیں ۔ اسلئے اب یہ تحریر کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ جسکے بارے خلاف فیصلہ آتا ہے وہ کبھی بھی اپنے آپ کو قصور وار نہیں کہتا۔ ایک کمیونسٹ مفکر نے عدالتوں کے متعلق ایک خوبصورت بات کہی تھی کسی ملک میں عدالتوں کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں اداروں اور معاشرے میں انصاف نہیں ۔
یہ بات بھی حقیقت اور انسانی فطرت بن چکی ہے کہ وہ با ہی صحیح مانتے ہیں جو ہمارے لئے بہتر ہو۔ پاکستان کی موجودہ سیاست میں جس طرح ہر قدم پر عدالتوں اور معزز اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ نہائت ہی افسوسناک ہے جس سے ان جماعتوں کے کارکنوں کا چونکہ وہ اپنے رہنما سے صحیح یا غلط عقیدت رکھتے ہیں انکے ذہن کی سوچ بھی اپنے رہنماؤں کی طرح ہو چلی ہے، اسکی وجہ ہماری سابقہ تاریخ بھی ہے، میرا نقطہ نظر کچھ یوں ہے کہ ادارے اس ادارے کے سربراہ سے جانے جاتے ہیں اگر سربراہ مضبوط ارادوں اور محب وطن ہو، ملک کو ترقی کی جانب دیکھنا چاہتا ہوتو ادارے بھی نیک نامی کماتے ہیں، مگر ہماری تاریخ میں صدر ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو کا سول مارشل لاء ضیاالحق مرحوم کا مارشل لاء پرویز مشرف کا مارشل لاء اس طرح کہ جنرلز نے ملک اور جمہوریت کا بیڑہ غرق کیا، یہاں اہم ادارے کو موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے چونکے انہی اداروں سے جنرل (ر)راحیل شریف اور موجودہ فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی ہیں جو ملکی سالمیت کی خاطر دہشت گردوں سے نبروآزما ہیں اوردنیا انکی بہادری کی معترف ہے۔
موجودہ سربراہ قمرجاوید باجوہ کئی مرتبہ سیاست دانوں کو مشورہ بھی دے چکے ہیں اپنے معاملات بہتر کرنے اور اپنی ذات سے آگے سوچنے کا۔ دوسری طرف ”بابا“ کی کہانی ہے بابا تو پھر بابا ہوتا ہے اس میں عمر اور سمجھ بوجھ کا تاثر ہوتا ہے ، یہ بابا، ایک سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا کر کچھ عرصے بعد کہہ چکا ہے کہ بھٹوکی جان بچ سکتی تھی مگر ہم مجبور تھے یہ مجبوری پریشر ہی ہوتی ہے، یہ بابا ان فوجی آمروں جنہوں نے اقتدار پر شب خون مارا انہیں اسکے باوجود کہ انہوں نے پاکستان کا آئین توڑا حلف بھی لے چکے ہیں، انکے اقتدار کو جائز قراردے دیا، ایمرجنسی میں حلف اٹھایا، یہ بھی تو بابا کے کارنامے ہیں۔
یہ بابا اب مصروف ہوگیا ہے گزشتہ سال سے صرف اور صرف سیاست دانوں کے مقدمات میں جو کسی کی پگڑی اچھالنے میں ذرا بھی رعائت سے کام نہیں لیتے ۔ اگر ہاں ایسے فیصلے ہوں کہ ایک شخص صرف شک کی بنیاد کہ اس نے اقامہ ہونے کی وجہ سے تنخواہ لی ہے جو ظاہر نہیں کی نااہل ہوجائے ، اور دوسرا اس اقرار کے باوجود کہ اسکی آف شور کمپنی ہے چھوڑ دیا جائے کوئی تعلق نہیں ملتا، ہوسکتا ہے ثبوتوں کی کمی ہو، چونکہ فیصلے اسی طرح ہوتے ہیں”ثبوتوں اور گواہوں کے بیا کے مطابق“ اب جب موجودہ چیف جسٹس کے بقول انہوں نے ملکی معاملات کے سدھارنے کی کوشش کا عندیہ دیا ہے تو تمام مقدمات پر نظر رکھیں۔
اس بات پر یقین لازم ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا، مگر یہ جملہ سمجھ نہیں آیا کہ” اگر کوئی دباؤ ہوتا ہے حدیبیہ کافیصلہ ایسا نہ آتا “ اسکا مطلب ہے کہ کسی اور فیصلے کی توقع بھی تھی۔ مگر قانون تو قانون ہے اگر قانون کی عملداری ہی ملک میں انصاف کی وجہ بن سکتی ہے بابا کی عزت واحترام لازم ہونا چاہیے، بابا کو فیصلہ دینا چاہیے فریقین کو انکے متعلق کوئی ذاتی رائے دینے دے سے گریز کرنا چاہیے۔
وقت اشاعت : 2018-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں