بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عوامی تحریک کی جلسہ میں سیاسی قد کاٹھ بڑھانے کے کوشش
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا فیصل آباد میں جلسہ عام حاضرین کی تعداد کے اعتبار سے بھرپور تھا مگر قبلہ طاہرالقادری کی طرف سے پیش کئے گئے نکات کے حوالے سے اسے غیرسنجیدہ سیاسی شو قرار دیا جا سکتا ہے
احمد کمال نظامی:
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا فیصل آباد میں جلسہ عام حاضرین کی تعداد کے اعتبار سے بھرپور تھا مگر جلسے کے دوران قبلہ طاہرالقادری کی طرف سے پیش کئے گئے نکات کے حوالے سے اسے غیرسنجیدہ سیاسی شو قرار دیا جا سکتا ہے۔ طاہرالقادری نے فیصل آباد سمیت پنجاب میں چھ صوبے بنانے کا اعلان کیا اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ ان صوبوں میں ہائیکورٹ نہیں سپریم کورٹ کے بنچ بنائے جائیں گے اور ان صوبوں کے اضلاع میں ہائیکورٹ کے بنچ قائم کریں گے۔
طاہرالقادری نے کہا کہ فیصل آباد کی عوام نے فیصلہ سنا دیا، عوامی تحریک پہلا ریفرنڈم جیت گئی ہے۔ طاہرالقادری جلسے کے اگلے روز بھی فیصل آباد رہے اور انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ دھرنے والے اکٹھے الیکشن لڑیں اور عوام کو انقلاب کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گو نواز گو عوام کے دل کی آواز ہے اور ان کی نوازشریف، زرداری سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
علامہ طاہرالقادری نے اسلام آباد میں دیئے گئے دھرنے کے بعد تحریک انصاف کی طرز پر مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرنے کا آغاز وطن عزیز کے تیسرے اور پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد سے کیا ہے۔ یہاں انہوں نے انتخابات میں براہ راست حصہ لینے کا اعلان ووٹ کی طاقت سے تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ عوام کی سپورٹ، نوٹ اور ووٹ سے انقلاب آئے گا۔
علامہ طاہرالقادری کا سیاسی قدکاٹھ ان مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے جنہیں عوام کی طرف سے عام انتخابات کے دوران اس انداز میں رد کر دیا جاتا ہے کہ ایسی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے اپنے حلقہ انتخاب میں فتح کا جھنڈا گاڑھنا بھی مشکل ہو جایا کرتا ہے۔ عوامی تحریک کے فیصل آباد میں جلسے میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر پرویزمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری، مسلم لیگ(ق) کے چوہدری پرویزالٰہی، چوہدری ظہیرالدین اور بہت سارے ایسے لوگوں نے شرکت کی جو پرویزمشرف کے اقتدار کے دوران ان کے دم چھلے کا کردار ادا کرتے رہے۔
گویا طاہرالقادری کے جلسے سے سیاسی پاور شو کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد نظر آ رہا تھا کہ شاید وہ پرویزمشرف کی سیاست میں کسی بھی انداز میں شراکت اقتدار کے تحت واپسی یا پھر ان کو آرٹیکل 6 کے مقدمے سے بری الذمہ قرار دلوا کر ملک سے باہر بھجوانا ہے۔ عوامی تحریک کی سیاسی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فیصل آباد کے جلسے میں بھی منہاج القرآن کے ورکرز اور عہدیداران نے ملک بھر سے اپنی شرکت کو یقینی بنا کر جلسے میں حاضرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کی حالانکہ فیصل آباد کے شہریوں کی اس جلسے میں شمولیت کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس جلسے میں عوام کی بہت کم تعداد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے جب فیصل آباد میں جلسے کے اگلے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کر دیا ہے کہ دھرنے والوں کو اکٹھے الیکشن لڑنا چاہیے تو اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قبلہ طاہرالقادری عمران خان کی طرف سے سامنے لائے گئے ٹیکنوکریٹ حکومت، سول نافرمانی کی تحریک اور ہنڈی کے ذریعے رقوم کی منتقلی و حصول کے نعروں کو بالواسطہ طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
فیصل آباد بنیادی طور پر محنت کشوں کا شہر ہے، اس شہر کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کا گڑھ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے لہٰذا شہر فیصل آباد میں مزدور اور متوسط طبقے کی اہمیت اور افادیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیصل آباد میں دینی مدارس کی تعداد بھی وطن عزیز کے تمام شہروں کی نسبت زیادہ ہے لیکن گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا کہ فیصل آباد مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے۔
فیصل آباد میں تحریک انصاف کے صرف ایک امیدوار کو ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ جبکہ تحریک انصاف کے اس رکن صوبائی اسمبلی خرم شہزاد کی کارکردگی نے شہر میں تحریک انصاف کی کارکردگی اور ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ان کی کارکردگی اخباری پریس ریلیزوں سے زیادہ کی نہیں رہی ہے۔ عملاً عوامی تحریک فیصل آباد میں اپنا کوئی سیاسی وجود نہیں رکھتی البتہ مذہبی طور پر اس کے ادارے منہاج القرآن کو اہمیت و افادیت حاصل ہے۔
لہٰذا عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی انتخابات عوامی تحریک کوئی ایک نشست بھی فیصل آباد سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے یہ بات یقینی نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ دھرنوں کی وجہ سے فیصل آباد جیسے صنعتی اور کاروباری شہر میں عوامی تحریک کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے فیصل آباد میں اعلانات اور تقریر کے متعدد نکات نے ایک مرتبہ پھر بہت سارے ابہام پیدا کر دیئے ہیں کہ آخر وہ اتنے وثوق سے تبدیلی کے نعرے اور اعلانات کیسے بلند کر رہے ہیں؟ کیا ان کے پس پشت پر آج بھی کوئی قوت موجود ہے یا صرف قیاس آرائیوں کا بازار گرم رکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے بجلی کے درجن کے لگ بھگ منصوبوں کے ذریعے اس بحران کو حل کرنے کا بھی نعرہ لگایا ہے۔ ہر سیاست دان اقتدار میں آنے سے پہلے ایسی ہی باتیں کیا کرتا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو کبھی بھی کچھ نہیں ملتا۔ فیصل آباد میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بڑی اہم بات کہی کہ بھٹو نے ووٹ کا فیصلہ نہیں مانا تو پاکستان دولخت ہوا۔
طاہرالقادری نے انقلاب کے نام پر ڈرامہ رچایا ان کے فیصل آباد آنے کا مقصد نوٹ اکٹھے کرنا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان اْدھر تم ادھر ہم کے نعرے سے شروع ہو ا تھا اور آج ایک مرتبہ پھر ملک میں ایسے ہی حالات جاری ہیں کہ معاشرے کے تمام طبقات یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو اس مرتبہ خدا نا خواستہ جمہوریت نہیں بلکہ وفاق کو خطرہ لاحق ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-17

(0) ووٹ وصول ہوئے