بند کریں
منگل مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آصف علی زرداری کی نئی حکمت عملی اور دست راست ذوالفقار مرزا کی مہم جوئی
لیاری سے پیپلز پارٹی کے احیا کی تیاریاں۔۔۔ کنٹونمنٹس کے چناوٴ میں کامیابی پر مسلم لیگ(ن) کا جشن، کراچی نواز شریف کا شہر قرار
شہزاد چغتائی
پیپلز پارٹی نے کراچی میں طاقت کا مظاہرہ کر کے آئندہ عام انتخابات کے لئے انتخابی سفر کا آغاز کر دیا ہے‘ لیاری میں بہت بڑے اور تاریخی جلسہ عام میں پارٹی سرگرمیوں کے احیاء کا اعلان کر کے انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی نیندیں اْڑا دی ہیں۔ تاہم اس اعلان سے مخالفین کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے کہ آئندہ عام انتخابات 2018ء میں ہوں گے۔
اس کامیاب جلسے کے ذریعے ان کی حکمت عملی کے نتیجے میں یہ ساحلی علاقہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے محفوظ قلعہ میں تبدیل ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے پیپلز پارٹی کے دوبارہ سیاسی میدان میں اترنے کے بعد سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو اٹھانا ہو گا۔ سیاسی حلقوں کے مطابق آصف علی زرداری کی نگاہیں 2018ء کے انتخابات میں کامیابی پر ہیں۔
کیونکہ میثاق جمہوریت اور غیر ملکی گارنٹرز کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کو ملے گی اور یہ معاہدہ 2023ء تک کے لئے ہوا تھا۔ جلسہ عام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی کمی محسوس کی گئی۔ آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ آصفہ بھٹو اور بلاول بھٹو کی آمد تک وہ پارٹی کا پرچم سنبھالے رہیں گے انہوں نے مخالفین کو یہ پیغام بھی دیا کہ نسل در نسل عوام کی خدمت کا مشن جاری رہے گا۔
پیپلز پارٹی کے جلسہ عام کے موقع پر لیاری میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے۔ ککری گراؤنڈ کے اطراف دکانیں‘ بازار‘ مارکیٹیں بند کرا دی گئی تھیں‘ اسٹیڈیم کے سامنے دکانوں کو سیل کر دیا گیا‘ جلسہ گاہ کے اندر اور باہر 12 ہزار پولیس والے اور کمانڈوز تعینات کئے گئے‘ جلسہ گاہ کے گرد چپہ چپہ پر پولیس تعینات تھی‘ عمارتوں پر ماہر نشانہ باز فرائض انجام دے رہے تھے‘ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی 25 ٹیمیں بنائی گئی تھیں سابق صدر کے لئے ہیلی پیڈ بھی بنایا گیا تھا‘ قدم قدم پر کیمرے نصب تھے‘پہلی بار خواتین کمانڈوز کو طلب کیا گیاجو تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ توجہ کا مرکز بن گئیں۔

اس روز لیاری جانے والی تمام سڑکیں کنٹینر رکھ کر بند کر دی گئیں۔ جس سے دن بھر کاروبار زندگی متاثر رہا۔ اجتماع کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کا جلسہ بہت بڑا تھا اور اتنا بڑا ہجوم دیکھ کر آصف علی زرداری خوش بھی ہوئے لیکن سوال بھی کیا جاتا رہا کیا لیاری کے لوگوں نے جلسہ عام میں بھرپور شرکت کی یا لاتعلق رہے۔ لیاری کے شہریوں نے کہاکہ جلسہ عام کے شرکاء باہر سے آئے تھے جلسے میں لیاری کے لوگ آٹے میں نمک کے برابر تھے۔
جیالوں کا موقف ہے کہ ہم نے قیادت کو مولوی عثمان پارک یا گبول پارک میں جلسہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ پیپلز پارٹی اگر گبول پارک اور مولوی عثمان پارک میں جلسہ کرتی تو بہتر تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران یہ سوال بھی سامنے آیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کون کرے گا۔ آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ وہ بلال بھٹو اور آصفہ بھٹو کے آنے تک پارٹی کا پرچم اْٹھائے رکھیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ آصف علی زرداری کے بعد بلاول بھٹو یا آصفہ بھٹو قائد ہوں گی۔
لیکن سابق صدر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ دونوں میں سے کس کے نام قرعہ نکلے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو ان دنوں سائیڈ لائن ہیں آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے اختلافات کی افواہیں اْڑتی رہتی ہیں۔جن کی سابق صدر آصف علی زرداری تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آصف علی زرداری اکلوتے بیٹے کے ساتھ نہیں رہتے دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی آئندہ قیادت کے حوالے سے جیالوں کا ذہن بنانے کی کوشش کی۔ پہلے وہ صرف بلاول بھٹو کا نام لیتے تھے اتوار کو انہوں نے بلاول بھٹو اور آصفہ کا نام بار بار لیا جس کے بعد جیالے ذہنی طور پر بلاول اور آصفہ کی قیادت قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ لیکن یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ دونوں میں سے کون قیادت کرے گا۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو کو قابو میں رکھنے اور توازن پیدا کرنے کے لئے آصف بھٹو کو ان کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا کیونکہ بلاول بھٹو کرپشن کے بہت خلاف ہیں اور پیپلز پارٹی کے بدعنوان سیاستدانوں کو فارغ کرنا چاہتے ہیں جبکہ آصف علی زرداری اپنے کرپٹ ساتھیوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے بلاول بھٹو کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہیں۔
شاید اس بات سے ان کی مراد یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو بھی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح بے ایمان لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت کو الگ کرنے کا فیصلہ بھی کر دیا اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ آپ اور میں مل کر حکومت چلائیں گے اور پارٹی قیادت نوجوانوں کو سونپ دیں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا ان پر جارحانہ انداز میں بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کو کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا سامنا ہے۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے محض 8 نشستیں حاصل کرنے کے بعد ناکامی کا اعتراف کر لیا اور اپنی پارٹی پر برس پڑے۔
لیکن کنٹونمنٹ بورڈ میں ہزیمت اْٹھانے کے دوسرے روز آصف علی زرداری آئندہ عام انتخابات کے لئے پْرعزم دکھائی دئیے جس پر سیاسی حلقے حیران ہیں کہ پیپلز پارٹی 2018ء میں کیسے میدان مار لے گی۔ آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہر الیکشن میں زیادتی ہوئی بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کو دھاندلی سے ہرایا گیا‘ الیکشن چرائے گئے لیکن رونے کی عادت نہیں ہے پیپلز پارٹی ڈوب کر ابھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ذوالفقار مرزا کو اہمیت دینا نہیں چاہتے لیکن کردار کشی کی اس مہم سے عاجز بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پیر کو آصف علی زرداری کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ذوالفقار مرزا کو منہ توڑ جواب دئیے اور ان کو آستین کا سانپ اور احسان فراموش قرار دیا جس کے بعد تلخی بڑھ گئی۔ ذوالفقار مرزا کس مشن پر ہیں یہ آصف علی زرداری خود جانتے ہوں گے۔
ذوالفقا ر مرزا کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے مجھ سے میری شوگر ملز واپس لے لیں۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ ذوالفقار مرزا کی ناراضگی کی وجہ یہ ہی ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنی شوگر ملوں کا انتظام واپس لے لیا۔ اس صورتحال سے کچھ قوتیں فائدہ اْٹھانا چاہتی ہیں اور آصف علی زرداری پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب ذو الفقار مرزا میڈیا سے وابستہ احباب سے مدد کا تقاضا کر رہے ہیں۔
جس پر ذوالفقار مرزا کو یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ ماحول خراب کر کے لندن جا کر بیٹھ جائیں گے ہمارا کیا بنے گا؟ بہرحال پھر بھی میڈیا ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ سندھ میں مرزا صاحب چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں وہ ایم کیو ایم کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے مرزا صاحب نے کہا تھا کہ ان کو بیک وقت الطاف حسین اور آصف علی زرداری سے خطرہ ہے۔
ذوالفقار مرزا کو یقین ہے کہ جلد پیپلز پارٹی کا احتساب شروع ہو جائے گا اور سابق صدر آصف علی زرداری اس کی زد میں آ جائیں گے لیکن جیالوں کا خیال ہے کہ ذوالفقار مرزا کو کوئی استعمال کر رہے ہیں اور جو کیچڑ وہ اچھال رہے ہیں وہ ان پر گر رہا ہے۔ نیشنل پارٹی نے ذوالفقار مرزا سے 8 ارب روپے کا حساب مانگا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انہوں نے یہ رقم گینگ وار سے وصول کی ہے۔
جیالوں کا خیال ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ذوالفقار مرزا قانون کے شکنجے میں آ جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء ظفر بلوچ اعتراف کر چکے ہیں کہ ذوالفقار مرزا نے ہمیں ایم کیو ایم والوں کو مارنے کے لئے اسلحہ دیا تھا۔ ذوالفقار مرزا کی مہم جوئی کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے اصلاح احوال کیلئے صوبائی وزیر نادر مگسی کو ذوالفقار مرزا کو مصالحت کے لئے بھجوایاہے لیکن یہ کوشش ابھی بے نتیجہ رہی ہے۔

دریں اثناء کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے دوسرے نمبر پر آ جانے کے بعد کراچی کے مسلم لیگ ہاؤس میں جشن اور خوشیاں منائی گئیں اور اس موقع پر کامیاب کونسلروں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا جس میں مسلم لیگ سندھ کے صدر اسمٰعیل راہو‘ جنرل سیکرٹری نہال ہاشمی‘ سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ‘ نائب صدر علی اکبر گجر نے شرکت کی۔
اس موقع پر مسلم لیگی رہنماؤں نے علی اکبر گجر کو مبارکباد دی جن کی کوششوں سے کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے 5 کونسلر منتخب ہو گئے اور مسلم لیگ (ن) کی کراچی میں تحریک انصاف سے بہتر پوزیشن ہو گئی ہے۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان نے کراچی فتح کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ نے کوئی جلسہ جلوس اور دعویٰ نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ کراچی وزیراعظم محمد نوازشریف کا شہر ہے کیونکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے بعد سب سے زیادہ ووٹ مسلم لیگ (ن) کو پڑے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-05

(0) ووٹ وصول ہوئے