تازہ ترین : 1
Aiwan e Bala Ki Hayyat Tarkeebi Yakser Tabdeel

ایوان بالا کی ہیئت ترکیبی یکسر تبدیل

سینیٹ کے 52ارکان12مارچ2015ء کو ریٹائر ہو جائیں گے سینیٹ کے انتخابات کے بعد ایوان کی ہئیت ترکیبی یکسر تبدیل ہو جائے گی سینیٹ کے انتخابات کی آمد آمد ہے سیا سی جماعتوں نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں

نواز رضا:
سینیٹ کے 52ارکان12مارچ2015ء کو ریٹائر ہو جائیں گے سینیٹ کے انتخابات کے بعد ایوان کی ہئیت ترکیبی یکسر تبدیل ہو جائے گی سینیٹ کے انتخابات کی آمد آمد ہے سیا سی جماعتوں نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں کاغذات نامزدگی داخل کرانے تک بیشتر سیاسی جماعتیں سینیٹ کے لئے اپنے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کر چکی ہوں گی۔
جب پونے دو سال قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کوحکومت ملی تو اس وقت اپوزیشن اکثریت میں تھی جب کہ مسلم لیگ (ن) اپنی اتحادی جماعتوں کے ارکان سمیت اقلیت میں تھی اقلیت میں ہونے کی وجہ سے حکومت کو سینیٹ میں قانون سازی میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بھی اپوزیشن نے چاہا کورم توڑ دیا جب چاہا ایوان کی کارروائی کو معطل کروا دی۔ قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق کو اس بات کی داد دینی چاہئے کہ انہوں نے اپنے مختصر”سیاسی لشکر“ کے ساتھ اپوزیشن جماعت کے ارکان سینیٹ کی بھاری بھرکم یلغار کا مقابلہ کیا۔
راجہ محمد ظفرالحق جیسے سینئر پارلیمنٹیرین ہی اپوزیشن کی یلغار کو تحمل اور بردباری سے غیر موثر بناتے رہے اپوزیشن پچھلے پونے دوسال سے ”کورم کی نشاندہی اور واک آؤٹ“ کا کھیل کھیلتی رہی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف محاذ بنائے رکھا۔ چوہدری نثار علی خان جو ادھار باقی نہیں رکھتے لیکن انہوں نے حکومت کے وسیع تر مفاد میں اپوزیشن کی چیرہ دستیوں کو برداشت کیا سینیٹ کے چیئرمین سید نیر حسین بخاری اور ڈپٹی چیئرمین صابر قائد ایوان راجہ ظفرالحق، چوہدری شجاعت حسین، حاجی عدیل، مولانا عبدالغفورحیدری، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، مولابخش چانڈیو، مشاہد اللہ خان، سمیت 9 سیاسی جماعتوں اور فاٹا کے ارکان ریٹائر ہوجائیں گے، سینٹ میں کئی جماعتوں کی نمائندگی ختم ہو جائے گی ‘ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی جہاں تعداد کم ہو جائے گی وہاں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا‘ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں سے پیپلزپارٹی کے 20 ، مسلم لیگ (ن) کے 8 ، اے این پی کے 5، ایم کیو ایم کے 3 سینیٹر شامل ہیں۔
پیپلزپارٹی کے کل 39 سینیٹر میں سید نیئر حسین بخاری صابر بلوچ ، فاروق ایچ نائیک ، جہانگیر ترین بدر ، گل محمد لاٹ،گلزار احمد خان، اسلام الدین شیخ، میر محمد یوسف بادینی، وقار احمد خان، رحمن ملک ، عدنان خان، محمد کاظم خان، الماس پروین، فرحت عباس، سعیدہ اقبال ، ثریا امیرالدین اور ر سیدہ صغریٰ امام ریٹائر ہوجائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے 16 سینیٹرز میں سے قائد ایوان راجہ ظفرالحق ، پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، چوہدری جعفر اقبال، سید ظفر علی شاہ، پروفیسر ساجد میر، بیگم نجمہ حمید اور سردار محمد یعقوب خان ناصر شامل ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے 12 سینیٹر میں سے حاجی عدیل، عبدالنبی بنگش، محمد زاہد خان، افراسیاب خٹک اور فرح عاقل شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کے 7 سینیٹرز میں سے بابر خان عوامی، عبدالحسیب خان اور شیر الملک، جمعیت علماء اسلام (ف) کے 6 سینیٹرز میں سے وزیر مملکت مولانا عبدالغفور حیدری، محمد حاجی غلام علی، نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر میر حاصل بزنجو، مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرؤف لالہ ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سینیٹر میر محمد علی انصر اور کلثوم پروین سمیت آزاد حیثیت رکھنے والے عباس خان آفریدی، انجیئرملک راشد احمد خان، حاجی خان آفریدی، محمد ادریس خان صافی، نوابزادہ محمد اکبر خان اور محمد ہمایوں خان مندوخیل بھی ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں شامل ہیں۔
وزیراعظم محمد نواز شریف کی ”کچن کیبنٹ“ کا اگلے روز مری میں دو روزہ اجلاس منعقد ہو ا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ سینیٹ کی نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کی گئی مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کے انتخابات میں حکومت کی حلیف اور اپوزیشن کی بعض جماعتوں سے رابطے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی سے مل کر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت سینیٹ کی ایک نشست دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم ‘ اے این پی ‘ جمعیت علماء اسلام (ف)‘ مسلم لیگ (ف)‘ مسلم لیگ (ق) ‘ مسلم لیگ (ضیاء)‘ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی ‘ قومی وطن پارٹی ‘ فاٹا اور دیگر جماعتوں سے رابطے قائم کر رہی ہے۔
تاکہ پنجاب میں سینیٹر زکے بلا مقا بلہ انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے مسلم لیگ (ق) کی قیادت بھی سرگرم عمل ہو گئی ہے چوہدری شجاعت حسین اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے چوہدری شجاعت حسین نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے حمایت کی درخواست کی انہوں نے کہا کہ وہ دیگر جماعتوں کی مدد سے سرپرائز دے سکتے ہیں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)‘ پختونخوا ملی عوامی اور نیشنل پارٹی مشترکہ امیدوار کھڑے کریں گی اور جمعیت علماء اسلام (ف) وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر الیکشن نہیں لڑے گی اس بارے میں جمعیت علما اسلام (ف) کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
سینیٹ کے انتخابات کے بعد ہی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بار ے میں صورتحال واضح ہو جائے گی تاہم قرائن بتاتے ہیں مسلم لیگ (ن ) اتحادی جماعتوں کی مدد سے چیئرمین سینیٹ کی نشست بآسانی حاصل کر سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کو اپنا چیئرمین منتخب کرانے کیلئے جمعیت علماء اسلام (ف)‘ ایم کیو ایم ‘ فاٹا اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی ۔
سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق چیئرمین کے منصب کے لئے مضبوط امیدوار ہیں انہیں اپوزیشن جماعتوں میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن” کچھ لو اور کچھ دو “کے فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ن) کو ڈپٹی چیئرمین کی نشست بلوچستان میں اتحادی جماعتوں کو دینا پڑے گی اگر مسلم لیگ(ن) نے”تاش کے پتے “ صحیح انداز میں کھیلے تو وہ پیپلز پارٹی سے ایک دو زائد نشستیں حاصل کر سکتی ہے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی تعداد 29 تک بڑھنے کا امکان ہے پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 27ہو جائے گی پیپلزپارٹی نے سینٹ انتخابات پر مشاورت کیلئے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس 6 فروری کو طلب کرلیا۔
اجلاس میں سینٹ انتخابات کیلئے امیدواروں کے نام فائنل کئے جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کو سینٹ انتخابات کیلئے 125 درخواستیں موصول ہوئی ہیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم‘ مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ (ن) لیگ نے سینٹ انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے پیپلزپارٹی سے سینٹ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے معذرت کرلی ہے‘ سینیٹ کے ٹکٹ کے لئے 170درخواستیں موصول ہوئی ہیں سینٹ انتخابات کیلئے وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے اسلام آباد سے ٹکٹ ملنے کی یقین دہانی کے بعد ر درخواست جمع کروا دی ہے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی ‘ وزیر اعظم کے قومی امور کے معاون خصوصی عرفان صدیقی ‘ وزیر اعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی‘ پیر صابر شاہ ‘ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلیم ضیاء ‘ مسلم لیگ (ن) کے خارجہ امور کے انچارج سید مہدی‘ غلام دستگیر خان ‘ رانا نذیر احمد خان نے اسلام آباد اور پنجاب کی نشستوں کیلئے پارٹی کو درخواستیں دی ہیں۔
اسلام آباد کی 2 نشستوں میں سے ایک جنرل اور ا یک خاتون کی نشست خالی ہوئی ہیں جنرل نشستوں کیلئے ظفر علی شاہ‘ سرتاج عزیز ‘ عرفان صدیقی‘ ملک شجاع الرحمن ‘ چوہدری اشرف کے درمیان پارٹی ٹکٹ کے لئے رسہ کشی ہو گی چاروں شخصیات قد کاٹھ کی حامل ہیں اب دیکھنا یہ ہے ”ہما“ کس کے سر بیٹھتا ہے۔ اسلام آباد سے خاتون کی مخصوص نشست کیلئے سابق ایم این اے تسنیم صدیقی ‘ نرگس ناصر ‘ طاہرہ لطیف نے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔
پنجاب کی نشستوں کیلئے راجہ ظفر الحق ‘ پرویز رشید چوہدری جعفر اقبال اور مشاہد اللہ خان کو ٹکٹ ملنے کے امکانات ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کے لئے سید مہدی نے درخواست جمع کرائی ہے سید مہدی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ایام جلاوطنی میں سفارتی محاذ پر خاصا کام کیا ہے وہ سفارتی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم اعوان ‘ د فاعی تجزیہ کار کی حیثیت سے قومی حلقوں میں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
چوہدری جعفر اقبال نے سینیٹ میں متحرک کردار ادا کیا ہے چوہدری جعفر اقبال اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم اعوان ٹی وی ٹاک شوز میں پارٹی موقف کا بھر پور دفاع کرتے ہیں۔ خواتین کی نشستوں پر نجمہ حمید فرزانہ ملک ‘شاہد یاسمین ملک ‘ رفعت عظیم‘ صفیہ اسحاق ‘ سعیدہ مشتاق ‘ رفعت اظہر ‘ کوثر شاہین اور شیریں ارشد ‘ بھی شامل ہیں۔
نجمہ حمید ابتلا کے دور میں پارٹی کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔ فرزانہ ملک قومی اسمبلی کی رکن رہی ہیں ان کا شمار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں ہوتا ہے انہوں سیاست کے لئے اعلیٰ سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں ایم کیو ایم‘ مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ (ن) لیگ نے سینٹ انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاٹا سے بھی 5 امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ لینے کے لئے درخواستیں جمع کروائی ہیں ان میں حاجی راحت یوسف ‘ ملک اکبر وزیر ‘ ملک اختر علی خان‘ حاجی زرخان صافی اور عبدالحمید اورکزئی شامل ہیں۔
قومی اسمبلی میں فاٹا سے مسلم لیگ (ن) کے 2 ارکان منتخب ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے جن مسلم لیگی رہنماؤں نے پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواستیں دی ہیں ان میں س سردار یعقوب خان ناصر‘ حاجی لشکری رئیسانی ‘ معروف مسلم لیگی رہنما سیدال خان ناصر‘ میر افضل خان مندوخیل ‘ جمال شاہ کاکڑ اور سپیکر بلوچستان اسمبلی جان جمالی کی قریبی عزیزہ ثناء جمالی نے خاتون نشست کیلئے درخواستیں دی ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ سے مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور صوبائی صدر پیر صابر شاہ بھی امیدوار ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس چیئرمین راجہ ظفر الحق کی صدارت میں بدھ کو پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہو ا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انٹرویو لینے والے پارلیمانی بورڈ میں 6 ایسے ارکان بھی شامل ہیں جوپنجاب سے خود بھی 95امیدواروں کا خود بھی حصہ ہیں۔ آج بلوچستان ‘ خیبر پختونخواہ ‘ فاٹا ‘ وفاقی دارالحکومت اور سندھ کے امیدواروں کے حوا لے سے ایک فہرست وزیر اعظم کو بھجوائی جائے گی جو آئندہ ہفتے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ٹکٹ جاری کرنے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
وقت اشاعت : 2015-02-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں