تازہ ترین : 1
Aik K Baad Doosri Na Ahli Challange Ban Gayi

ایک کے بعد دوسری نااہلی چیلنج بن گئی

لودھراں کے قومی حلقہ این اے 154 میں جہانگیر ترین اور صدیق خان بلوچ کے مابین مقابلے کی بازگشت ابھی اس خطے کی فضاوں میں موجود ہے کہ اس سے ملحقہ قومی حلقہ این اے 153 ملتان سے رکن قومی اسمبلی دیوان عاشق حسین بخاری نااہل قرار دے دئیے گے ہیں

راوٴ شمیم اصغر:
لودھراں کے قومی حلقہ این اے 154 میں جہانگیر ترین اور صدیق خان بلوچ کے مابین مقابلے کی بازگشت ابھی اس خطے کی فضاوں میں موجود ہے کہ اس سے ملحقہ قومی حلقہ این اے 153 ملتان سے رکن قومی اسمبلی دیوان عاشق حسین بخاری نااہل قرار دے دئیے گے ہیں۔دیوان عاشق حسین بخاری پر الزام تھا کہ انہوں نے دھاندلی سے الیکشن جیتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ سنگین الزام بھی تھا کہ انہوں نے میٹرک ملتان سے کیا جبکہ بی اے ، ایم اے کی ڈگریاں سندھ یونیورسٹی کی ہیں اور درمیان میں ایف اے کی سند بھی موجود نہیں۔ تقریباََ ڈیڑھ سال قبل الیکشن ٹریبونل بہاولپور نے اس کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور دیوان عاشق حسین بخاری کو نااہل قرار دیکر بطور ایم این اے جو بھی مراعات انہوں نے حاصل کی تھیں وہ حکومت کو جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
دیوان عاشق حسین بخاری نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایف اے کی سند بھی انہوں نے سندھ سے حاصل کی تھی جو گم ہو چکی ہے۔لیکن ان کا یہ موقف کار آمد ثابت نہ ہوا سپریم کورٹ نے سندھ کے محکمہ تعلیم کو باریک چھلنی سے چھنوا لیا لیکن ایف اے کی ڈگری نہ ملی جس پر ٹربیونل کا فیصلہ بر قرار رکھا گیا۔تفصیلی فیصلہ بھی منظر عام پر آچکا ہے کہ آئندہ چاردنوں میں متوقع طور پر این اے 153 خالی قرار دے دی جائے گئی اور الیکشن کمیشن شیڈول کا اعلان کر دے گا اور یوں محض تقریباََ 2 ماہ کے وقفہ کے بعد اس خطے میں پھر ایک زور کا ماحول بننے جا رہا ہے۔
یہ بات عین اتفاق ہے کہ این اے 153 ملتان اور این اے 154 لودھراں کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس طرح سیاست کی گرما گرمی کے اثرات پہلے سے سیاسی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ 2002 کے الیکشن سے قبل یہ حلقہ این اے 119کہلاتا تھا اور یہ حلقہ شجاع آبا د اور جلال پور پیروالا دونوں تحصیلوں پر مشتمل تھا۔ 2002 میں جب الیکشن ہوا تو شجاوع آبا د اور ملتان کا کچھ علاقہ شامل کرکے این اے 152 بنا دیا گیا جبکہ جلال پور پیروالا اور اس کے اردگرد کی آبادیوں کو این اے 153 بنایا گیا۔
دیوان عاشق حسین بخاری کے والد دیوان غلام عباس بخاری بھی ایم بی اے رہے وہ بڑے خوبرو اور بڑی با وقار شخصیت کے مالک تھے ان کے بعد دیوان عاشق حسین بخاری میدان سیاست میں اترے اچھی سیاسی جماعت کا ٹکٹ ان کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا اور وہ الیکشن جیتتے رہے۔ صرف 1997 میں وہ ایم پی اے کا الیکشن ہارے جب موجودہ ایم پی اے نغمہ مشتاق لانگ کے شوہر مشتاق لانگ ان کے مقابلے میں کامیاب ہوئے۔
2002 کے انتخابات میں بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے دیوان عاشق حسین بخاری خود الیکشن نہ لڑے بلکہ اپنے بھائی دیوان جعفر بخاری کو الیکشن لڑایا جو کامیاب ہوبھی گے۔ اس دوران انہوں نے بی اے کی ڈگری کا بندوبست کر لیا اور 2008 میں الیکشن لڑا لیکن دیوان جعفر بخاری جنہیں ایم این اے شپ کا چسکا لگ چکا تھا وہ بھی مدمقابل آئے لیکن مقابلہ دیوان عاشق حسین بخاری اور ملک قاسم نون کے مابین رہا جو دیوان عاشق حسین بخاری نے جیت لیا۔
رانا قاسم نون 2002 کے الیکشن میں ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور پھر چوہدری پروز الہٰی کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ ان کا شمار ان وزراء میں ہوتا تھا جو اپوزیشن کو اڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ اس طرح وہ چوہدری پروز الہٰی کے انتہائی قریب رہے۔ 2008 کی طرح وہ 2003 کے الیکشن میں بھی وہ ہار گے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں میں قدم جمانے کی کوشش کی ،آخر اطلاعات تک وہ تحریک انصاف میں تھے کہ دیوان عاشق حسین بخاری کی نااہلی کا معاملہ درمیان میں آگیا۔
دیوان عاشق حسین بخاری کو نااہل کروانے کا سہرا بھی رانا قاسم نون کے سر ہے ان کی رٹ پر بھی دیوان عاشق بخاری قومی اسمبلی سے چھٹی ہوئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے رانا قاسم نون پھر متحرک ہیں لیکن اس مرتبہ وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے متمنی ہیں۔ کافی عرصہ صوبائی وزیر رہنے کے باعث ان کے رابطے کافی گہرے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے امیدواروں میں وہ بہر حال شمال ہیں۔
رانا قاسم نون نے 2013 میں الیکشن لڑا تو این اے 153 کی صوبائی نشستوں 205 اور 206 پر علاقے کے دو بااثر شخصیات ملک غلام عباس کھاکھی اور محمد اکرم کنہوں ان کے ساتھ شام تھے۔ ان میں سے محمد اکرم کنہوں اب پیپلز پارٹی ضلع ملتان کے صدر ہیں جبکہ ملک غلام عباس کھاکھی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں ۔ جلالپور پیرو الا میں اگرچہ سیاسی جماعتوں کا ووٹ بنک موجود ہے لین اس مٰں بھی شک نہیں کہ شجاع آباد کی طرح جلالپور پیروالا میں دھڑے بندی کی سیاست ہمیشہ کارفرما رہی ہے جس کی ایک مثال سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے بھائی سید احمد مجتبیٰ گیلانی کا وہاں سے الیکشن لڑنا ہے۔
وزیراعظم ہاوس میں باری باری ناشتوں نے کام کر دکھایا اور سید احمد مجتبیٰ گیلانی کامیاب ہو گے تھے۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں دن بہ دن مضبوط ہو رہی ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ سیاسی دھڑوں کا آئندہ ضمنی الیکشن میں کردار بھی موجود رہے گا۔ اس وقت الیکشن میں جلالپور پیروالا کے دونوں ایم پی اے مہدی عباس لنگا اور نغمہ مشتاق لانگ بھی مسلم لیگی ہونے کے ناطے دیوان خاندان کی حمایت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل ہی علاقے کی تمام سیاسی طاقتوں کا اجلاس لاہور طلب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے اس بارے میں جلد معلوم ہو جاے گا۔
وقت اشاعت : 2016-01-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں