تازہ ترین : 1
9/11 2011

نائن الیون 2011 افغانستان پر امریکی حملہ

ہم انسانوں کی اس خوش قسمت نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے نائن الیون کا واقعہ رونماء ہوتے اور اس کے فوراً بعد معلوم انسانی تاریخ کے سب سے مہیب فوجی اتحاد کو افغانستان پر چڑھ دوڑتے اور اب ذلت آمیز پسپائی اختیار کرتا دیکھا۔

سہیل عبدالناصر:
ہم انسانوں کی اس خوش قسمت نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے نائن الیون کا واقعہ رونماء ہوتے اور اس کے فوراً بعد معلوم انسانی تاریخ کے سب سے مہیب فوجی اتحاد کو افغانستان پر چڑھ دوڑتے اور اب ذلت آمیز پسپائی اختیار کرتا دیکھا۔ نائن اور الیون انگریزی زبان کے الفاظ ہیں لیکن یہ الفاظ اب دنیا کی ہر زبان کا مقامی استعارہ بن گئے ہیں۔
نائن الیون کا ذکر آئے تو فورا تصور میں نیویارک کی دو بلند عمارتیں جنہیں ”ٹون ٹاورز“ کہا جاتا تھا آگ اور دھویں کی اوٹ میں زمین بوس ہوتے دکھائی دیتی ہیں۔ نائن الیون کیسے رونماء ہوا، اس واقع میں کون ملوث ہے،واردات کے اغراض و مقاصد کیا تھے، اس بارے میں اب تک ہزاروں تحقیقی مضامین، سیکڑوں کتب اور مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ لیکن کوئی متفقہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا چکا۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ نے یہ حملہ کیا، القاعدہ نے ذمہ داری بھی قبول کی لیکن امریکی دعوے کو منطقی،اور سائنسی ہر اعتبار سے چیلنج کیا گیا۔ اس دعوے کی صداقت کے بخیے ادہیڑنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں بلکہ عمارت سازی، طبیعات، انجینئرنگ اور سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والی دنیا کی معروف ترین شخصیات شامل ہیں۔ نائن الیون کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس سوال کا جواب ہمیشہ سربستہ راز رہے گا۔
اور اس موضوع پر طبع آزمائی کی جاتی رہے گی۔ نائن الیون کے کچھ بنیادی پہلو ہیں۔ پہلا امریکہ، دوسرا پاکستان، تیسرا افغانستان اور چوتھا عالمی و علاقائی سیاست کی باریکوں کے سے متعلق ہے۔ لیکن امریکہ سے پہلے پاکستان کا ذکر ضروری ہے۔ کسی نے درست تبصرہ کیا تھا کہ ٹون ٹاورز پر امریکہ میں حملہ ہوا لیکن ٹاورز کا ملبہ پاکستان پر گرا۔ جی ہاں۔
نائن الیون امریکہ کو نہیں پاکستان کو بھگتنا پڑا۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملے کیلئے پاکستان کو ہاں یا ناں کا آپشن دیا۔ پاکستان کا کمانڈو صدر ایک ٹیلیفون کال پر ڈھیر ہو گیا اور پاکستان کو امریکہ کی طفیلی ریاست بنا کر رکھ دیا جہاں امریکی اب تک دندناتے پھرتے رہے۔ اس تعاون کے بدلے پرویز مشرف کی آمریت کو واشنگٹن سے سند قبولیت بخشی گئی۔
جمہوری و سیاسی عمل خواب ہوا۔ ملک پر ایک عشرہ تک آمریت کے منحوس سائے چھائے رے۔پرویز مشرف نے اس پشت پناہی کے بدلے قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کے سودے کئے، عافیہ صدیقی آج بھی امریکی زنداں میں قید ہے اور ہم اس کی رہائی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ پاکستان کی گلیوں اور محلوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھ گرروی رکھ دیا گیا۔ ہر گلی اور ہر محلے میں ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کا بسیرا تھا۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ(ر) جنرل احمد شجاع پاشا جنہیں ان کی ، سیاسی خواہشات کے باعث اکثر ہدف تنقید بنایا جاتا ہے لیکن یہ ان ہی کا کریڈٹ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں امریکی ایجنٹوں نے پاکستان میں جو پناہ گاہیں اور ٹھکانے بنائے، پاشا نے انہیں ختم کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اس باب میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ذکر نہ کرنا بھی ازحد زیادتی ہو گی۔
نائن الیون اور اس کے بعد مشرف کے تعاون کے باعث ہی ان دہشت گردوں نے جنم لیا ۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہوئے لیکن سب جانتے ہیں کہ خطرہ پوری طرح ٹلا نہیں۔ اب آئیے امریکہ کی طرف۔ امریکہ اور یورپی ملکوں کے بظاہر آزاد معاشرے،جو جمہوریت، آزادی اظہار اور آزاد منڈی کی معیشت کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں دراصل غلام معاشرے ہیں۔

کارپوریٹ سیکٹر،میڈیا، اور سیاست کی تکون نے ان معاشروں کو ایک عفریت کی مانند جکڑ رکھا ہے۔ اس مضمون کی تنگنائے، ان حقائق کی تفصیل بیان کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نائن الیون کے بعد ملکی سیکورٹی کی آڑ میں نئی قانون سازی کے ذریعہ امریکی عوام کی بچی کھچی آزادیاں بھی سلب کر لی گئی ہیں اور اب وہاں صرف غلام روحیں بستی ہیں۔بھارت میں لکھا گیا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون منظور کرانے کیلئے پارلیمنٹ پر حملہ کرایا، نائن لیون کے بارے میں یہی توجیح پیش کی جاتی ہے۔
سترہویں صدی میں جب امریکہ اور سپین کے درمیان جنگیں لڑی گئیں تو امریکی اخبارات نے لکھا کہ یہ جنگیں امریکی معیشت کیلئے بہتر ہیں۔ جنگوں کے باعث اسلحہ ساز فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ ٹھیکیداروں کو وردیوں اور راشن کے ٹھیکے مل رہے ہیں۔ معیشت کا پہیہ تیز رفتاری سے چل رہا ہے۔ جنگوں کے باعث ملکوں کی معیشت برباد ہوتی ہے اور امریکہ کی معیشت کو فروغ ملتا ہے۔
نائن الیون کے بعد بھی یہی ہوا۔ امریکہ نے پورے نیٹو سمیت چالیس سے زائد اتحادیوں کی افواج افغانستان بھجوائیں۔ سنگا پور جیسے جو اتحادی سپاہی، ٹینک ،توپخانہ اور فوجی سازوسامان ان کی جگہ امریکی فوجی اور سامان افغانستان بھجوا کر ان سے کرایہ وصول کر لیا جاتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اس لئے کودا کہ جاپان پر ایٹم بم کا تجربہ کیا جائے اسی طرح افغانستان پر اس لئے بھی یلغار کی گئی کہ وہاں ڈیزی کٹر بموں سمیت جدید ترین اسلحہ کے تجربات کئے گئے جن کی تفصیلات منظر عام پر آ چکی ہیں۔
نائن الیون کو ایک عشرہ گزر چکا ہے۔ ٹون ٹاورز پر حملہ کے بعد پوری دنیا پر دہشت مسلط کر دی گئی۔ لگتا تھا کہ نہ پاکستان امریکی غصہ کی تاب لا سکے گا اور نہ افغانستان بچ پائے گا لیکن وہی امریکہ اور اس کے متکبر اتحادی، دنیا کی سب سے خوفناک فوجی مشینری کو بروئے کار لانے کے باوجود اب بے خانماں افغانوں سے امن کی بھیک مانگ کا افغانستان سے باعزت واپسی کا راستہ مانگ رہے ہیں۔ جو تاریخ ہم نے کتابوں میں پڑھی، سنی اس کے مطابق چشم فلک نے شائد ہی کبھی ایسا منظر دیکھا ہو۔
وقت اشاعت : 2014-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں