بند کریں
بدھ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
5دسمبر کو جیت کا جشن منائینگے ، عمران خان
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی میں ایک جماعت کی اجارہ داری کو ختم کردینگے ،کراچی کے تبدیل ہونے تک نیا پاکستان نہیں بن سکتا، 5 دسمبر کو جیت کا جشن منائینگے ،کپتان نے کراچی کے طوفانی دورے کیے ، 10 گھنٹے میں 8 مقامات کا دورہ کیا
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی میں ایک جماعت کی اجارہ داری کو ختم کردینگے ،کراچی کے تبدیل ہونے تک نیا پاکستان نہیں بن سکتا، 5 دسمبر کو جیت کا جشن منائینگے ،کپتان نے کراچی کے طوفانی دورے کیے ، 10 گھنٹے میں 8 مقامات کا دورہ کیا۔ لیاری کے ککری گراونڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 30 سال قبل کراچی میں امن تھا، بجلی اور روزگار تھا اور کراچی سے پورا پاکستان چل رہا تھا، لیکن کراچی کے لوگوں کو اردو، سندھی، پختون اور بلوچی کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا، لیاری کو بھی بلوچ اور کچھی میں تقسیم کیا گیا، جس کے باعث یہاں لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت گری شروع ہو گئی اور امن تباہ ہوا، اگر کراچی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہ کیا جاتا تو دبئی نہ بنتا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تقسیم کرنا سیاستدانوں کے مفاد میں ہے ، کراچی کے لوگوں میں نفرت پھیلا کر سیاست کی گئی، جس کی وجہ سے روشنیوں کا شہر تاریکیوں اور خون کی ندیوں میں ڈوب گیا، 2 سال میں کراچی سے 430 ارب روپے دبئی بھیجے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا لیاری میں جان کا خطرہ ہے اور لیاری میں جلسہ روکنے کیلئے ڈرانے کی کوشش کی گئی، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں، لیاری کے لوگ ڈرنے والے نہیں، لیاری میں بڑا جلسہ تحریک انصاف کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
بار بار باریاں لینے والے قوم کی حالت نہیں بدل سکتے ، قبضہ گروپ نے باریاں لے کر ملک کو تباہ کر دیا اور جمہوریت کے نام پر یہ سب اکٹھے ہوجاتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ایک سوراخ سے مومن دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔ آپ لوگ جن پارٹیوں کو کئی بار آزما چکے ہیں اب ان کو ووٹ دینا چھوڑ دیں اور اب تحریک انصاف کو ووٹ دیں، میں نیا کراچی اور نیا لیاری بنانے آپ کے پاس آیا ہوں۔
لیاری والوں کے پاس پینے کو صاف پانی نہیں اور حکمران نہاتے بھی منرل واٹر سے ہیں۔ قبضہ گروپ پر ہاتھ ڈالا گیا تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں آ گئی ۔ رینجرز نے آپریشن کیا تو ایم کیو ایم اور پی پی اکٹھی ہو گئیں۔ مک مکا کی سیاست سے قومی ایکشن پلان بھی رک چکا ہے۔ جس پارٹی سربراہ کی جائیداد باہر ہو اسے عوام کبھی ووٹ نہ دیں۔ ککری گراوٴنڈ میں عمران خان کا خطاب کئی گھنٹے تعطل کا شکار رہا۔
عمران خان پہلے جلسہ گاہ کے قریب پہنچ کر واپس لوٹ گئے اور پھر ایک گھنٹے بعد واپس آ گئے۔ قبل ازیں کورنگی میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تقریب، بنارس چوک اور سلطان آباد میں کارنر میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کراچی میں عرصہ دراز سے ایک سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم ہے ، جسے 5 دسمبر کو عوام ختم کردینگے۔ شہر قائد کے غیور شہری ترازو اور بلے کو ووٹ دیکر نئی تاریخ رقم کریں گے۔
میئر کراچی صرف تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا بنے گا، فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ ہونا چاہئے ، اسے الگ صوبہ بنانے کے مخالف ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تیس فیصد ترقیاتی فنڈز نچلی سطح تک پہنچائے ، اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کو انتخابی مہم کی ضرورت نہیں پڑے گی، لوگ خیبر پختونخوا میں ہماری کارکردگی کو دیکھ کر خود ہی ووٹ دیں گے۔ موجودہ لوگ ہی اقتدار میں رہیں گے تو کچھ بدل نہیں سکتا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے اثاثوں کا موازنہ کر لیں، تو پتا چل جائے گا کہ یہ لیڈرز اقتدار میں کیوں آتے ہیں۔ غریب مر رہا ہے جبکہ حکمرانوں کے اثاثے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ان کرپٹ لوگوں کا سامنا نہیں کریں گے تو یہ اسٹیٹس کو ہمارے اوپر مسلط رہے گا۔ شکایات مل رہی ہیں کہ نادرا لوگوں کے شناختی کارڈ نہیں بنا رہا، اگر نادرا نے عوام کے شناختی کارڈ نہ بنائے تو ہم سب مل کر نادرا کا گھیراوٴ کریں گے۔
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر آمریت ہے ، اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے کرپشن کم ہو گی، بلدیاتی انتخابات ہی جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں، مغرب میں بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں 22 جماعتوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے ، لیکن تحقیقات کی آواز صرف تحریک انصاف نے اٹھائی۔ ملک میں الیکشن سسٹم تباہ کر دیا گیا ہے ، این اے 122 میں مجھے لاکھوں روپے خرچ کر کے 2 سال بعد انصاف ملا۔
بعد ازاں عمران خان قافلے کی صورت میں فائیو اسٹار چورنگی ناظم آباد پہنچے ، جہاں کارکنان نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ عمران خان شہید پائلٹ مریم مختیار کے گھر گئے۔ شہید پائلٹ کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے شہید کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ عمران خان نے شہید مریم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جذبہ حب الوطنی کو سلام ہے ، وہ پوری قوم کی بیٹیوں کیلئے رول ماڈل ہیں۔
علاوہ ازیں عمران خان نے کراچی ائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں، کیونکہ سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگز موجود ہیں، اس لیے پولنگ کے دن فوج کی تعیناتی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم میں مائنس ون کا فارمولا باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-01

(0) ووٹ وصول ہوئے