بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
2014ء کا سیاسی منظر نامہ۔۔۔۔
دھرنوں اور جلسوں نے ماحول گرمائے رکھا
اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور تحریک انصاف نے 76لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود قومی اسمبلی میں صرف 35 نشستیں حاصل کرسکی جبکہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی
نواز رضا:
11مئی 2013ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں ملک کا سیاسی منظر کلی طور پر تبدیل ہوگیا۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن بنچوں پر جابیٹھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے وفاق میں حکومت قائم کرلی۔ پنجاب میں مسلم لیگ(ن)، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی، خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اور بلوچستان میں نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی مخلوط حکومت قائم ہوئی۔
جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو خیبر پختونخوا میں ”ایڈونچر“ کرنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے خود دیگر جماعتوں سے مل کر حکومت بنانے کی بجائے تحریک انصاف کو جماعت اسلامی ، عوامی جمہوری اتحاد اور قومی وطن پارٹی سے مل کر اور بلوچستان میں قوم پرستوں کو حکومت سازی کا موقع دیا۔
اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور تحریک انصاف نے 76لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود قومی اسمبلی میں صرف 35 نشستیں حاصل کرسکی جبکہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
ایم کیو ایم نے سید خورشید شاہ کو قائد حذب اختلاف بنانے میں ”سہولت کار“ کا کردار ادا کیا۔ عمران خان کو اس بات کا شدید قلق تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کامنصب حاصل کر سکے اور نہ ہی حذب اختلاف کی سربراہی ان کے حصے میں آئی۔ یوں وہ قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیش کا حصہ نہیں بنے اور پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی ایک بہت بڑی اپوزیشن منقسم ہونے کی وجہ قومی اسمبلی میں موثر کردار ادا نہیں کرسکی۔
عمران خان نے ملکی سیاست میں اپنا مقام بنانے کیلئے شروع دن سے حکومت کے خلاف ”ہارڈلائن“ اختیار کرلی یہ اس ”ہارڈلائن “ کا شاخسانہ ہے کہ 2014ء کا پورا سال سیاسی بحران کی نذر ہوگیا۔
نوازشریف کی حکومت گرانے کا منصوبہ 2014ء کے اوائل میں ہی بن گیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد اگست 2014ء میں ہوا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی کڑیاں نوازشریف حکومت گرانے سے جاکر ملتی ہیں۔
اگرچہ نوازشریف حکومت گرانے کا ”سکرپٹ“ پاکستان میں ہی تحریر ہوا لیکن عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے اس میں لندن میں بیٹھ کر رنگ بھرے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی جمہوری حکومت کو گرانے کی یہ کوشش اس لئے ناکام ہوگئی کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری 10لاکھ کارکن اسلام آباد لا نہیں سکے۔
30اور 31اگست 2014ء کی درمیانی شب اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی پیش قدمی روک دی اور پوری پارلیمنٹ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی اسلام آباد پر چڑھائی کے خلاف متحد ہوگئی جس سے بے یقینی کی شکار حکومت کو سنبھلنے کا موقعہ مل گیا۔ رہی سہی کسر مخدوم جاوید ہاشمی کے انکشافات نے نکال دی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمہوری نظام کے استحکام کا ساتھ دیا اور ”تھرڈامپائر“ کے انگلی والے تحریکِ انصاف کے غبارے سے ہوا نکال دی۔
ڈاکٹر طاہرالقادری زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے دھرنا ختم کر کے چلتے بنے اور ریڈزون میں تحریک انصاف اکیلی رہ گئی۔
وفاقی حکومت نے دباؤ میں آکر تحریک انصاف کے ساڑھے پانچ مطالبات تسلیم کرلئے تھے لیکن عمران خان وزیراعظم کے استعفے سے کم پرتیار نہیں تھے حالانکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے چلے جانے سے ان کی ”بارگینگ پاور‘ کمزور ہو چکی تھی۔
عمران خان کو جلد احساس ہوگیا کہ مذاکرات کی میز الٹنے کا ان ہی کو نقصان ہوا اور یہی وجہ ہے ک دھرنے کے ساڑھے چار ماہ بعد انہوں نے مذاکرات کی بھالی کا مطالبہ شروع کردیا۔ اس دوران انہوں نے مختلف شہروں میں بڑے بڑے جلسے کر کے اور بعد ازاں پلان سی پر عملدرآمد کا آغاز کر کے اپنے پتے صفائی کے ساتھ کھیلنے کا آغاز کیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں آکر وفاقی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہوگئی۔
لیکن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے سے قبل ہی 16دسمبر کا سانحہ عظیم پیش آگیا جس نے ملک کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ پشاور میں معصوم بچوں کے بہائے جانے والے لہو نے جہاں پورے ملک کو سوگوار کیا وہیں اس نے 4ماہ سے برسر پیکار سیاسی قائدین کو مل بیٹھنے کا ایک موقعہ بھی فراہم کردیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پشاور تشریف لے گئے اور اے پی سی میں شرکت کی۔
اس میں سب سے اہم بات تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی شرکت تھی۔ عمران خان نے گزشتہ 4ماہ میں پہلی مرتبہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ بیٹھنے اور مصیبت کی اس گھڑی میں کسی قسم کی اپوزیشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بے گناہ بچوں کے قاتلوں کا قلع قمع کرنے کی تدبی رکی جاسکے۔ عمران خان نے سیاسی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے دھرنا ختم کرنے اور وزیر داخلہ کی سربراہی میں بننے والی خصوصٰ کمیٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد پاکستان تحریک انصاف استعفے واپس لینے اور پارلیمان میں واپسی کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔
اگر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اسی طرح متحد اور یکسور ہی تو نہ صرف ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام نصیب ہوگا بلکہ دہشت گردی کے خاتمے میں بھی کامیابی حاصل کی جاسکے گی۔ سانحہ پشاور نے اس قوم کو ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیوں اور نفاق سے بچتے ہوئے متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر یہ موقع بھی ضائع کردیا گیا تو پھر خدانخواستہ ملک مزید سانحات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ پشاور کے ننھے پھولوں نے جو قربانی دی ہے اس کا تقاضا ہے کہ پوری قوم ہمیشہ کیلئے متحد ہوجائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-30

(0) ووٹ وصول ہوئے