تازہ ترین : 1
Zimni Election Se Rounama Hone Wali Tabdeeliyaan

ضمنی الیکشن سے رونما ہونے والی تبدیلیاں!

بابائے قوم کا شہر کراچی دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے خون ریزی کا شکار ہے اور یوں لگتا ہے کہ روشنیوں کا یہ صوبائی دارالحکومت دوبارہ شاید اپنی رونقیں بحال نہ کر پائے

سلیم بخاری
بابائے قوم کا شہر کراچی دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے خون ریزی کا شکار ہے اور یوں لگتا ہے کہ روشنیوں کا یہ صوبائی دارالحکومت دوبارہ شاید اپنی رونقیں بحال نہ کر پائے۔ آج اس بدقسمت شہر میں وہ سب کچھ ہو رہا ہے جس سے شہر کی بربادی یقینی نظر آ رہی ہے۔ وہ 1970ء کے عشرے میں ہونیوالے لسانی فسادات ہوں یا 1992ء میں ہونے والا فوجی آپریشن، امن کا خواب کسی صورت شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اور اب کراچی کے حلقہ 246 میں ہونے والے ضمنی الیکشن نے ایک نئی طرز کی دھما چوکڑی مچا دی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ جس نے اپنی سیاست کا آغاز الطاف حسین کی قیادت میں مہاجر قومی موومنٹ کے طور پر کیا تھا کو آج نئی یکسر صورت حال کا سامنا ہے۔ متحدہ کی قیادت ہمیشہ یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ شہر کراچی اْن کی جْو ہے اور یہاں اْن کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔
اْن کا یہ دعویٰ اْس وقت کسی حد تک درست تھا جب انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاست کا جنازہ نکال کر شہر پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ لیاری ہمیشہ سے ہی متحدہ کے لئے سر درد بنی رہی اور پہلے پیپلز پارٹی اور پھر امن کمیٹی نے متحدہ کے ناک میں دم کئے رکھا۔ پھر عوامی نیشنل پارٹی آ گئی اور اب بقول الطاف حسین انہیں طالبان جنگجووٴں کا سامنا بھی ہے۔
2013ء کے عام انتخابات نے تو کراچی کے سیاسی پس منظر میں جیسے ایٹمی دھماکہ کر دیا، ایم کیو ایم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ تحریک انصاف جیسی جماعت کراچی شہر سے 8 لاکھ ووٹ لے کر دوسری بڑی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ کر دے گی۔
یہی وہ موقع تھا جہاں سے درحقیقت متحدہ اور پی ٹی آئی کی محاذ آرائی کا آغاز ہوا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس میں شدت آتی گئی۔
شومئی قسمت کہ الطاف حسین کے لئے حالات سازگار نہ رہے اور عمران فاروق کے قتل سے لے کر منی لانڈرنگ تک مقدمات میں اْن کو ملوث کیا گیا اور اپنی جلاوطنی کے 25 سال کے دوران پہلی مرتبہ انہیں تھانوں میں رکھا گیا اور آخر کار ضمانت کروا کر گھر آنا نصیب ہوا۔ ہرچندکہ یہ سب ابھی تک الزامات ہیں مگر اْن کے سیاسی مخالفین نے اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھایا مگر بقول شاعر
کچھ تو خزاں ہے باعثِ بربادی چمن
کچھ باغباں کا ہاتھ بھی اس میں ضرور ہے
ایسی گو مگو صورت حال کا سب سے زیادہ اثر ایم کیو ایم پر بحیثیت پارٹی پڑا اور اندرونی خلفشار اور توڑ پھوڑ کی باتیں ہونے لگی۔
مصطفی کمال جیسے لوگ جنہیں متحدہ قیادت اپنا سرمایہ قرار دیتی اور ماڈل کے طور پر پیش کرتی رہی آج پارٹی چھوڑ کر دبئی میں روپوش ہیں اور طرہ یہ کہ جیسے الطاف حسین اپنا ہونہار بیٹا کہتے تھے اب فرماتے ہیں کہ اْن کے پاس تو ان کا فون نمبر نہیں اور کوشش بسیار کے بعد یہ نمبر مل بھی نہیں سکا۔ ان واقعات کے بعد جس طرح رابطہ کمیٹی کو بار بار توڑا گیا اس کے ارکان کی تذلیل کی گئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر اس نے پارٹی کو بہت حد تک کھوکھلا کیا۔

اور اب لیجئے صولت مرزا کے اْس بیان کو جسے کئی لحاظ سے متحدہ تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس بیان نے تو ایم کیو ایم کے غبارے سے جیسے ہَوا نکال دی ہو۔ جو الزامات صول مرزا نے لگائے ہیں وہ اتنے خوفناک ہیں کہ ایم کیو ایم کیسے اس سے نکل پائے گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ابھی متحدہ اسی صدمے سے دوچار تھی کہ عزیز آباد 90 پر چھاپے نے تو جیسے متحدہ کا سب کچھ اْلٹا پْلٹا کر دیا۔
وہاں سے پکڑے گئے افراد کا ریکارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں مصروف رہے اور کچھ نے تو اپنے کئے کی سزا بھی بھگتی۔ شروع میں رابطہ کمیٹی نے انہیں اپنے ورکر قرار دیا اور جب اْن کے اقبالی بیانات آنا شروع ہوئے تو لاتعلقی کا اعلان کر دیا، جو اسلحہ وہاں سے برآمد ہوا اْسے لائسنس یافتہ قرار تو دیا مگر رینجرز پر اْن کی چوری کا پرچہ درج نہیں کرایا۔

ایم کیو ایم کے ساتھ یہ کیوں ہْوا اور کیسے ہْوا اس پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ متحدہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق تھی اور اب اْسے ختم بھی انہی قوتوں کی حمایت یافتہ تحریک انصاف کے ذریعے کیا جا رہا ہے جیسا کہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ یہ سب ابھی الزامات ہیں۔ حقیقت کیا ہے وہ جلد سامنے ضرور آئے گی۔
اور اب پلٹتے ہیں ضمنی انتخاب کی طرف، عمران کہتے ہیں کہ وہ کراچی میں قائم خوف کی فضا کو ختم کر دیں گے اور اسی مقصد کو لیکر انہوں نے حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار عمران اسماعیل کو کھڑا کیا ہے۔
عمران کی بات کسی حد تک درست ہے کیونکہ ایم کیو ایم کی طرف سے جس طرح PTI کی انتخابی مہم کو ناکام کرنے کی کوششیں کی گئی اس کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دونوں جماعتوں کے سیاسی جلسوں کا موازنہ کرنا مناسب نہ ہو گا کیونکہ ایم کیو ایم تو ہمیشہ ہی جلسے کرتی رہی ہے جبکہ PTI کے جلسوں میں لوگوں کا اتنی تعداد میں شریک ہونا حیران کن ہے اور یہی وہ تبدیلی ہے جس کا عمران خان دعوی کر رہے ہیں اور متحدہ قیادت اسے ماننے پر آمادہ نہیں۔

کراچی کے حوالے سے جماعت اسلامی کا پوری قوت سے سیاسی منظر نامے میں ظاہر ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ کے پی کے میں مخلوط حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کرنے کی بجائے اپنا امیدوار کھڑا کرنا درست سمجھا اور اس نے پوری شدت کے ساتھ انتخابی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
مگر جو بات حیرت انگیز ہے وہ یہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب سے بالکل لاتعلق ہیں ایسا وہ مصلحتاًکر رہی ہیں یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے لئے کراچی میں اب کوئی جگہ نہیں رہی۔

ہر چند کہ ضمنی انتخابی معرکہ آرائی نے بہت سے اہم معاملات کو پس منظر میں ڈال دیا تھالیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس انتخاب کے بعد رہ ایشوز دوبارہ پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہونگے وہ چاہے الطاف حسین کے خلاف مقدمات ہوں، صولت مرزا کے اقبالی بیانات ہوں یا 90 پر پڑنے والا چھاپا یہ سب اپنے منطقی انجام کو تو ہر حالت میں پہنچیں گے۔
ایک اور عنصر جس نے کراچی کی صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے وہ ہے رینجرز کی طرف سے شروع کیا جانے والا آپریشن جس کا ہدف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خور، اغوا برائے تاوان جیسے خوفناک جرائم کا خاتمہ کرنا تھا۔
آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے مگر اس آپریشن نے جسے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ہے ایم کیو ایم اس کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ مگر یہ بات بہت حیران کن ہے کہ متحدہ کی قیادت ان تمام ترکارروائیوں پر معترض تو ہے مگر ماضی کی طرح شہروں میں ہڑتال کی طرف جانے سے اجتناب کر رہی ہے یا پھر اس کی استعداد میں کمی آئی ہے۔

حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ کچھ بھی نکلے اس کے اثرات دوررس ہونگے خاص طور پر ایم کیو ایم کی آئندہ سیاست کا دارومدار اس سے منسلک ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گی پی ٹی آئی کا یہ مطالبہ کہ الیکشن والے دن پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے شاید تسلیم کر لیا جائے گا کیونکہ صوبائی الیکشن کمیشن نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی دھاندلی کی کوئی گنجائش نہ رہے گی اور تمام جماعتوں کو انتخابی نتائج قبول کرنے ہونگے۔ خدا کرے یہ انتخابی معرکہ جلد مکمل ہو اور عوام الناس کو بھی پتہ چلے کہ کس جماعت کا کونسا دعوی درست تھا اور کس جماعت کو کتنی عوامی پذیرائی حاصل ہے۔
وقت اشاعت : 2015-04-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں