تازہ ترین : 1
Zardari Ki Rabta Mohim

زرداری کی رابطہ مہم

رومانویت کی بجائے میثاق جمہوریت پر زور۔۔۔۔۔ قیام لاہور کے دوران جناب زرداری جہاں اپنی پارٹی کے لوگوں سے مل رہے ہیں وہاں ان کی اپنے سابق حلیفوں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی سے بھی ملاقات ہوئی ہے

فرخ سعید خواجہ:
سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے روح رواں آصف علی زرداری ان دنوں لاہور میں قیام کر رہے ہیں اس دوران عیدالاضحیٰ بھی انہوں نے بلاول ہاوٴس لاہور میں منائی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی عید ہے جو زرداری صاحب نے لاہور میں منائی ہے۔ قیام لاہور کے دوران جناب زرداری جہاں اپنی پارٹی کے لوگوں سے مل رہے ہیں وہاں ان کی اپنے سابق حلیفوں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف سے جناب زرداری کی متوقع ملاقات کا چرچا ہے تاہم ان سطروں کے لکھے جانے تک ملاقات کا پروگرام طے نہیں تھا۔ ادھر میاں نواز شریف نے بھی میل ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وفاقی وزیر سید امین الحسنات شاہ دلجمعی کے ساتھ مشائخ عظام و علما کرام کی وزیراعظم سے ملاقاتیں کروا رہے ہیں۔ عید کے بعد پارلیمنٹ کی جماعتوں کے قائدین سے بھی وزیراعظم ملاقاتیں شروع کریں گے جبکہ ان کی جانب سے وفاقی کابینہ اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے صوبائی کابینہ پنجاب میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ پارٹی قیادت کی نگاہوں میں صدیق الفاروق بھی آ گئے ہیں اور انہیں متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیئرمین لگا دیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جیسے دیگر ہیروں کو بھی حکومتی انگوٹھی میں فٹ کر لیا جائے۔ ہر ضلع میں صدیق الفاروق جیسے مخلص اور بے لوث کارکن موجود ہیں، جن پر پارٹی قیادت کی نظر کرم کی ضرورت ہے۔ حکومتی تمغے دل شکستہ کارکنوں کے سینے پر لگا دئیے جائیں تو ان کے اندر نئی روح دوڑ جائے گی۔
پچھلے دور حکومت میں پنجاب حکومت نے سیاسی کارکن بحیثیت کوآرڈی نیٹر/ معاون مقرر کئے تھے۔ ان کے ذمے زیادہ تر سماجی خدمت کے کام تھے۔ نوشاد حمید، صغریٰ عائشہ، سلمیٰ بٹ، نسرین نواز، فرزانہ بٹ، شہزادی کبیر، رخسانہ کوکب، رخسانہ کوثر، عثمان تنویر بٹ اور ان جیسے بہت سے کارکن دن رات خلق خدا کی جس طرح خدمت کرتے تھے اس پر کوئی بھی سیاسی جماعت فخر کر سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کے بعد صوبائی کابینہ میں اضافے کا اشارہ تو دیا ہے لیکن کارکنوں کو کام سے لگانے کا عندیہ ظاہر نہیں کیا۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے حلیف مسلم لیگ ق والے مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ماضی قریب میں پیپلز پارٹی کے حلیف مسلم لیگ (ق) کے چودھری صاحبان اس امید پر بلاول ہاوٴس پہنچے تھے کہ جناب زرداری کو مسلم لیگ (ن) کی اصولی حمایت سے ہٹا کر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی صفوں میں لے جائیں گے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی روایتی حریف ہیں اور جب جب انتخابی معرکے ہوں گے ہتھ جوڑی ان دونوں جماعتوں ہی میں ہو گی۔ بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف تیسری سیاسی قوت کی حیثیت سے سیاسی منظر پر ابھری ہے لیکن حالیہ دنوں میں دکھائی گئی استقامت کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے بھی ایک مرتبہ پھر پاکستان عوامی تحریک کو انتخابی میدان میں اتارنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد میں الیکشن 2013ء سے پہلے اور اب دھرنوں میں اپنے بے شمار جانثاروں کو لا کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی کمی نہیں تاہم آنے والے الیکشن میں انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ عوام سے ووٹ لینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ الیکشن میں حاصل ہونے والی ان کی پارٹی کی نشستیں ہی سیاست میں ان کا مقام متعین کریں گی۔
مسلم لیگ (ق) کی حیثیت اب صرف چودھری صاحبان اور چند ایک اپنے حلقہ انتخاب میں ذاتی ووٹ بنک رکھنے والوں کی جماعت کی سی ہے۔ ان میں بھی شخصی ٹکراوٴ دیکھنے میں آتا ہے۔ مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ ہر ہر موقع پر سندھ سے اڑ کر لاہور اور اسلام آباد آتے رہے لیکن پچھلے چند ماہ میں ان کو ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقاتوں میں جس طرح پیچھے دھکیلا گیا اس سے وہ اس حد تک آزردہ خاطر ہوئے کہ بے شک کہیں کہ وہ مسلم لیگ (ق) میں ہیں لیکن نہیں ہیں والی کیفیت ہے۔
حلیم عادل شیخ جیسے فعال کارکن نما لیڈر کے ساتھ یہ حسن سلوک عجیب لگتا ہے۔ پنجاب مسلم لیگ میں سینئر نائب صدر راجہ بشارت اور جنرل سیکرٹری چودھری ظہیرالدین کی لڑائی میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب سیمل کامران عہدے سے فارغ کر دی گئی ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔اب ہم واپس پیپلز پارٹی اور جناب زرداری کی طرف آتے ہیں۔ بلاول ہاوٴس میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی پارٹی کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک مرتبہ پھر فعال جماعت بنایا جائے گا۔
نواز شریف کے ساتھ ان کا کوئی معاشقہ یا رومانویت کا رشتہ نہیں بلکہ دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت پر عمل کرکے ہی پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم بنا سکتی ہیں۔ سو نواز شریف حکومت کا پانچ سال پورے کرنا پاکستان میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اپنے لوگوں پر واضح کردیا کہ پنجاب میں ہمارا مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ساتھ ہو گا۔
ان سے پہلے دو روز میں جن لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں ان کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور قیادت کے اقدامات کے حوالے سے شکایات کے دفتر کھول دیئے گئے۔ جناب زرداری نے تحمل سے اپنے لوگوں کا نکتہ نظر سنا اور اس صورتحال کو فطری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے اندر قوت پیدا کرو کہ کوئی حکمران یا پارٹی آپ کے ساتھ سیاسی سطح پر زیادتی نہ کر سکے۔
جناب زرداری نے ان ملاقاتوں میں صدر پنجاب میاں منظور وٹو کو بہت عزت اور احترام دیا اور ان کی سیاسی خدمات کو قابل قدر گردانا۔تاہم اس دوران ان کاچودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات میں پنجاب سے اپنے کسی عہدیدار کو ساتھ نہ بٹھانا اور شیری رحمان اور ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں دونوں بھائیوں سے ملاقات کرنا باعث تعجب رہا۔ اس ملاقات میں چودھری صاحبان نے اپنی سی کوشش کر ڈالی کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ پھر سے سیاسی حلیفوں والا رشتہ جوڑ لیا جائے اور مسلم لیگ (ن) کو ضرب شدید لگائی جائے لیکن وہ جناب زرداری کو قائل کرنے میں ناکام رہے البتہ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اپنا غصہ خوب نکالا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق آصف علی زرداری کا حالیہ دورہ لاہور پارٹی کو مضبوط بنانے کی طرف ایک قدم ہے لیکن ہمارے خیال میں دراصل بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب کے سیاسی میدان میں اترنے سے پہلے خود زرداری صاحب نے صورتحال کو جانچنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کسی اور مقصد میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب کے دوران ”شریف حکمرانوں“ کی جانب سے ممکنہ تعاون حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو کی حفاظت پنجاب حکومت اس طرح کرے گی جس طرح حمزہ شہباز کی کی جاتی ہے اور یوں بلاول بھٹو کو عوام میں جانے کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں گے۔
وقت اشاعت : 2014-10-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں